Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سلیوٹ کیپٹن تیمور حسن شہید

بے شک اللہ پاک ایسے لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح جم کر کھڑے ہوتے ہیں۔ افواج پاکستان کے ہیرو بھی ہمیشہ دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ جو ملک و قوم کی سلامتی اور حفاظت کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔ شہادت کے اعلیٰ ترین منصب پر اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے ہی فائز ہوتے ہیں۔ اس منصب پر پاک فوج کا ایک سپوت کیپٹن تیمور حسن شہید فائز ہوگیا۔ تیمور حسن کا تعلق ضلع چکوال کے ایک گائوں دھروگی راجگان سے ہے جو والدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔ ان کے والد محترم حسن عباس بھی پاک فوج سے بریگیڈیئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ کیپٹن تیمور حسن نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملٹری کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرکے کے بعد دس اکتوبر2020 ء کو پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ حسن اتفاق ملاحظہ فرمائیں کہ کیپٹن تیمور حسن کے والد محترم بریگیڈیئر حسن عباس بھی پنجاب رجمنٹ میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ کیپٹن تیمور حسن کے رفقا آفیسرز کے مطابق شہید کیپٹن کا جوش و ولولہ اور عزم مشکل ترین حالات میں بھی قابل تحسین رہا۔ جنوبی وزیرستان میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کیپٹن تیمور حسن نے متعدد خارجیوں کو جہنم واصل کیا۔ ان کی قابل ذکر کارروائی شاہ تنگی کی پوسٹ پر جہاں انہوں نے دہشت گردوں کے بڑے حملے کو ناکام بنایا اور گیارہ خارجیوں کو جہنم کا ایندھن بنایا۔ والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا جب اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے تو اس کے سر پر سہرا سجایا جائے۔ دھروگی راجگان میں کیپٹن تیمور حسن کی شادی کے حوالے سے تیاریاں عروج پر تھیں۔ ہر فرد کیپٹن تیمور حسن کی شادی کے شادیانے بجنے کا منتظر تھا۔ کیپٹن تیمور حسن کے والدین ‘ بہنیں اور عزیز و اقارب شدت سے ا س دن کا انتظار کررہے تھے۔ لیکن یہ خوشیاں اور شادی کی تیاریاں اس وقت سوگ میں بدل گئیں جب کیپٹن تیمور حسن کی شہادت کی خبر آئی۔
اس المناک خبر کے بعد دھروگی گائوں کے ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ ہر آنکھ میں آنسوئوں کی برسات تھی۔ بارات اور ولیمے کے دعوے نامے چھپ چکے تھے۔ بلکہ قابل ذکر تعداد میں تقسیم بھی ہوچکے تھے۔ شادی کی رسومات گیگا مال کے بالمقابل ایک مارکی میں ادا کی جانی تھیں ایک طرف جہاں کیپٹن تیمور حسن کے گھر میں دکھ اور غم کے گہرے سائے تھے تو دوسری طرف کیپٹن تیمور حسن شہید کی ہونے والی دلہن بھی اپنے ہاتھوں پر رچی ہوئی مہندی کو دیکھ کر اپنی قسمت پر آنسو بہا رہی تھی۔ اس کے والدین پر تو جیسے قیامت گزر گئی ہو۔ جہاں علاقہ مکین کیپٹن تیمور حسن کو خراج عقیدت پیش کررہے تھے وہاں وہ ان کے والد محترم بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) حسن عباس کے حوصلے اور صبر کو بھی خراج پیش کر رہے تھے۔ جوان اولاد کو لحد میں اتارنا والدین کی کمر توڑ دیتا ہے یہ دکھ ان کے اعصاب کو شل کر دیتا ہے لیکن کیپٹن تیمور حسن کے والد بریگیڈیئر (ر) حسن عباس کا صبر اور حوصلہ لوگوں کو حیران کررہا تھا۔ یہ انہونی اور بلند حوصلے کا مظاہرہ پاک فوج کے جوان ہی کرسکتے ہیں۔
ایک سپاہی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ جام شہادت نوش کرے کیونکہ انہیں اس امر کا ادراک ہوتا ہے کہ شہید کبھی مرتا نہیں ہے وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ کیپٹن تیمور حسن بھی ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یادوں میں‘ دعائوں میں اور دلوں میں۔

یہ بھی پڑھیں