یہ قوم کتنی بدنصیب ہے کہ غریب کی تھالی میں جو لقمہ رکھنا تھا، یتیم کی ہتھیلی میں جو سکون اترنا تھا، بیوہ کی آنکھوں میں جو آس کی کرن جگمگانی تھی وہ سب افسر شاہی کے حریص پیٹ میں اتر گیا۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں جو انکشاف ہوا ہے وہ محض ایک سرکاری رپورٹ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اخلاقی موت کی سند ہے۔یہ کس قدر افسوس ناک ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جو غربت کے مارے، بھوک سے نڈھال اور بے آسرا لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا اسے ہمارے گریڈ سترہ سے لے کر گریڈ بائیس کے افسران نے اپنی بیویوں اور اہل خانہ کے نام پر رجسٹرڈ کر کے کھا لیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریاست نے محافظ بنایا تھا لیکن انہوں نے ڈاکوئوں سے بھی بدتر کردار ادا کیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پچاسی افسران گریڈ بیس کے تھے، چھ سو تیس افسران گریڈ انیس کے تھے اور درجنوں گریڈ اکیس اور بائیس کے بھی اس لوٹ مار میں شریک پائے گئے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنے آپ کو قومی خدمت گزار کہتا ہے، جو عوام کو اخلاقیات کے لیکچر دیتا ہے، جو اپنے ماتحت ملازمین کو دیانت داری کا درس دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے سفید کالر کے پیچھے ایک حریص درندہ چھپا ہوا ہے۔یہ جرم محض کرپشن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہے۔ قرآن نے صاف فرمایا کہ صدقات صرف فقیروں، مسکینوں اور ناداروں کے لئے ہیں۔
یاد رکھیے!زکوٰۃ اور صدقہ کوئی حکومتی سکیم نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فرض ہے۔ اس پر ڈاکہ ڈالنا محض مالی جرم نہیں بلکہ دین کے بنیادی رکن کو پامال کرنا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے یتیم کا مال ناحق کھایا اس نے اپنے پیٹ میں آگ بھری۔ اجلاس میں جب کمیٹی کے ارکان نے سوال کیا کہ اب تک ریکوری کیوں نہیں کی گئی تو سیکرٹری نے کہا کہ ہمارے پاس ریکوری کا کوئی میکنزم نہیں ہے۔ یہ جواب دراصل اس ریاست کے دیوالیہ پن کا اعلان ہے۔ ایک ریڑھی والا اگر ٹیکس نہ دے تو ایف بی آر کے چھاپے پڑ جاتے ہیں۔ ایک مزدور بجلی کا بل نہ بھرے تو اس کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے۔ لیکن گریڈ بیس کے افسران اربوں روپے کھا جائیں تو ریاست کے پاس میکنزم نہیں۔ سبحان اللہ!یہ ریاست ہے یا یتیم خانے کی خالی ہانڈی؟
حضرت عمر بن خطاب ؓ کا قول آج بھی صدیوں کو لرزا دیتا ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمرؓ سے حساب لیا جائے گا۔ یہ تھا اسلام کا نظامِ عدل۔ ایک کتے کی بھوک پر بھی حاکم کانپ اٹھتا تھا اور یہاں؟ یہاں ہزاروں یتیم، بیوائیں اور غریب بھوک سے مر رہے ہیں مگر افسر شاہی ان کے پیسے کھا کر بھی ضمیر کی نیند سو رہی ہے۔ مولانا روم نے کہا تھا‘ ظلمت شب کا چراغ ہے مگر حاکم کے ظلم کا جواب صرف انتقام ہے۔ یاد رکھیے!قومیں بیرونی حملوں سے کبھی نہیں ٹوٹتیں۔ وہ ہمیشہ اندر سے برباد ہوتی ہیں۔ رومن ایمپائر، سلطنت عثمانیہ سب کو باہر کے دشمن نے نہیں گرایا بلکہ اندر کے ضمیر فروشوں اور خوشامدی درباریوں نے کھوکھلا کیا۔ پاکستان بھی آج اسی ڈگر پر ہے۔یہ بیوروکریسی کوئی آج کی پیداوار نہیں۔ برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ انگریزوں نے جن افسر شاہی کو پیدا کیا وہ ہمیشہ حکمران طبقے کے مفادات کی رکھوالی کرتے رہے۔ ان کے دل میں نہ عوام کی محبت ہے نہ دین کا خوف۔ ان کا خدا ہمیشہ ان کا کیریئر اور ان کی مراعات رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ زکوٰۃ اور خیرات کھانے سے بھی نہیں کتراتے۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا تھا:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
یہ اشعار آج کے ان بیوروکریٹ نما جاگیرداروں پر صادق آتے ہیں جو ملت، دین اور وطن کے منہ پر داغ ہیں۔ذرا سوچئے اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جو بی آئی ایس پی کی قسط کے لئے گھنٹوں قطار میں کھڑی رہتی ہے۔ جب اسے خبر ملے کہ اس کے پیسے کسی افسر کی بیگم کی نئی جیولری پر خرچ ہوئے ہیں تو وہ کس کو بددعا دے؟ وہ یتیم لڑکی جو اپنی شادی کے جہیز کے لئے یہ پیسے سوچے بیٹھی تھی جب اسے معلوم ہوا کہ یہ پیسے کسی بیوروکریٹ کے بیٹے کی بیرون ملک تعلیم پر گئے ہیں تو اس کی چیخیں کس آسمان تک پہنچیں گی؟ یہ محض کرپشن نہیں یہ لاکھوں غریبوں کے دلوں پر لگنے والے زخم ہیں۔ یہ اجتماعی بددعائیں ہیں جو کبھی ضائع نہیں جاتیں۔کمیٹی نے کہا ہے کہ ایف آئی اے ریکوری کرے گی، کرمنل چارجز لگائے جائیں گے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہوگا؟ یا یہ سب محض شور کے چند دن ہیں؟ اس ملک کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ بڑے مجرم ہمیشہ صاف شفاف ہو جاتے ہیں اور غریب ہمیشہ قصوروار ٹھہرتا ہے۔ اگر واقعی انصاف کرنا ہے تو ان افسروں کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا۔ ان کے نام سر عام بتائے جائیں۔ ان افسران کی تصاویر کے ساتھ ان کی کرپشن کی سر عام تشہیر کی جائے۔ انہیں نوکریوں سے برکاست کیا جائے۔
کاش کہ یہاں ہمارے ہمسائیہ ملک چین جیسے قوانین ہوتے کہ غریبوں کا پیسہ اپنے پیٹ میں دالنے والے راشی افسران کو سر عام گولی مار کر قتل کر دیا جاتا۔ انہیں وہی سزا دی جائے جو غریب چور کو دی جاتی ہے۔ جب تک یہ نہیں ہوگا اس ملک میں کرپشن کے ناسور کو کوئی نہیں روک سکتا۔ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں خیرات دینے والا بھی دھوکہ کھاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا صدقہ، ان کی زکو، ان کی خیرات مستحقین تک پہنچ رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ افسر شاہی کے پیٹ کا ایندھن بن رہی ہے۔ امجد اسلام امجد نے ایسوں کے لئے کیا ہی خوب شعر کہا:
یوں دکانوں پر ضمیروں کی فراوانی نہ تھی
لوگ بکتے تھے مگر اتنی بھی ارزانی نہ تھی
لیکن افسوس!یہاں فرد نہیں بلکہ افسر شاہی ملت کی تقدیر کو نگل رہی ہے۔ یہ کس قدر شرمناک منظر ہے کہ غریب کی جھولی میں پڑنے والا لقمہ، یتیم کے ہاتھ کا نوالہ اور بیوہ کی آنکھ کا سہارا بھی افسر شاہی کے حریص پیٹ میں اتر گیا۔ یہ وہی پیٹ ہے جسے قرآن کریم نے جہنم کی آگ سے بھرا ہوا بتایا ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی خاموشی بھی دراصل مجرمانہ غفلت ہے۔ کمال ہے!جس ادارے کے ساتھ شہید بے نظیر بھٹو کا نام جڑا ہو اس کے وقار کی حفاظت کی سب سے بڑی ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ مگر یہاں الٹا تماشا یہ ہے کہ چیئرپرسن صاحبہ خود تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔ یہ کرپشن یہ ناانصافیاں یہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے افسران اور کالی بھیڑیں سب کے سب ان کے زیر سایہ کھیل تماشہ کر رہے ہیں اور وہ نوٹس لینا تو درکنار زبان کھولنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کر رہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسٹوڈین ہی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے تو پھر عوام کس سے انصاف کی توقع رکھیں؟یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ یا تو ہم ان ضمیر فروش افسروں کا محاسبہ کریں گے یا پھر ہمیں ماننا ہوگا کہ ہم وہ قوم ہیں جو اپنی زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ بھی افسر شاہی کے لئے جمع کرتی ہے۔ خدا کی قسم!اگر ہم نے اس جرم پر خاموشی اختیار کی تو یہ آگ صرف غریب کے چولہے کو نہیں بلکہ امیر کے محلات کو بھی جلا ڈالے گی۔ یہ وہ آگ ہے جو سب کچھ راکھ کر دے گی۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہرگز یہ نہ سمجھو کہ اللہ ظالموں کے عمل سے غافل ہے وہ انہیں بس اس دن کے لئے مہلت دیتا ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔