Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکام کی فنکاریاں

کبھی د ریائوں میں پانی کی کمی اور کبھی اس قدر اضافہ کہ خس و خوشاک کی طرح پانی سب کچھ بہا کر لے جائے۔ ہزاروں گھر سیلاب کے آگے ریت کے گھروندے ثابت ہوئے ہیں۔ عالیشان سوسائیٹوں اور آبادیوں میں پانی گھروں کی چھتوں کو چھو رہا ہے۔ وہاں کے مکین گھروں کی چھتوں پر اپنی بے بسی پر نوحہ کناں ہیں۔ نجی سوسائٹی کے ایک رہائشی جس کی عمر ستر سال ہے۔ روتے ہوئے بتایا کہ اس نے تنکا تنکا جو ڑکر گھر بنایا تھا لیکن میری زندگی بھر کی کمائی لمحوں میں پانی کی نذر ہوگئی جس کی مالیت کروڑوں روپے تھی۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کچھ عرصہ قبل انتہائی جوش و خروش سے ارشاد فرمایا تھا کہ اگر بھار ت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو جنگ ہوگی لیکن اب وہ ’’دڑوٹ‘‘ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ یہ نہیں بتا رہے کہ اگر بھارت نے پانی چھوڑ دیا تو وہ پھر کیا کریں گے۔ اب سن رہے ہیں کہ جہاں بار ش ہوتی ہے وہاں ’’رین‘‘ بھی ہوتی ہے۔ جس سے سیلاب آتا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے نمائشی دورے‘ متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں ۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر فضائی اور دریائی جائزہ لینے سے متاثرین کو کیا حاصل ہوتا ہے۔ اس اقدام کو کشتی رانی اور ہیلی کاپٹر کے جھولے لینا ہی کہا جاسکتا ہے۔ حسب روایت‘ جو دے اس کا بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔
متاثرین کی امدادی کارروائیوں کے بلند و بانگ دعوے کیے جار ہے ہیں۔ لیکن وہ نہیں ہو رہا جن کی توقع کی جارہی ہے۔ چودہ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ تیس سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ کروڑوں روپے مالیت کے مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔ کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ چودہ سو ستر گائوں بھی زیر آب آچکے ہیں۔ ایک صدی قبل کے تعمیر کردہ پلوں کو نقصان نہیں پہنچا لیکن جو پل حکومتوں کی چھتر چھائوں میں تعمیر کیے گئے ہیں وہ کھوکھلے ثابت ہوئے۔ ایک دل جلے نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ سیلابی ریلے بھی یہودی ہیں جنہوں نے سو سال قبل تعمیر کیے گئے پلوں کو نقصان نہیں پہنچایا۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے دریائے راوی کا پانی روکنے کے لئے جومادھو پور ڈیم بنایا تھا اس کے چار گیٹ ٹوٹ چکے ہیں اور بھارت جب تک ان کی تعمیر نہیں کرتا دریائے راو ی میں پانی آتا رہے گا بھارت وقفے وقفے سے پانی چھوڑ رہا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بھارت کو ’’بنیاد المرصوص‘‘ میں جس عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے و ہ اس کا بدلہ لے رہا ہے۔ جولائی کو بھارت کے ڈیم سینتالیس فیصد بھرے ہوئے تھے جبکہ اگست کے اوائل میں یہ شرح پچاسی فیصد ہوگئی تھی بھارت نے اس صورتحال سے پاکستان کو آگاہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور نہ ہی پاکستان کو اس کی سن گن ہوئی۔ اس آبی دہشت گردی نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مبینہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایک اعلیٰ شخصیت کی شوگر مل کو سیلاب سے بچانے کے لئے جتنے وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں اتنے ملحقہ دیہاتوں کو بچانے کے لئے نہیں کیے گئے جس سے یہ دیہات زیرآب آئے ہیں۔
ادھر ایک وفاقی وزیر کی اہلیہ نے نجی سوسائٹی کا دورہ کرتے ہوئے ان حلقوںکو کھری کھری سنائی ہیں۔ الامن الحفیظ۔ جو کہہ رہے ہیں کہ سوسائٹی پانی میں ڈوب چکی ہے جبکہ مذکورہ سوسائٹی میں تقریباً پچاس پلاٹوں اور گھروں میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے۔ نصف سے زائد پنجاب زیر آب ہے لیکن وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء اسحا ق ڈار ‘ عطاء تارڑ اور مشیر خاص طارق فاطمی چین کے دورے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ صدق دل سے اللہ پاک کے بارگاہ میں دعا ہے کہ متاثرین کی مشکلات کو آسانیوں میں بدل دے اور ان کے لئے بہتر اسباب پیدا کرے۔ آمین یارب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں