Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

انسانیت کی اجتماعی چیخ

دنیا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ منظر دیکھا ہے کہ 70 ممالک کے 250 سے زائد میڈیا ادارے اپنے ہی لب سی کر بیٹھ گئے، اپنے فرنٹ پیجز سیاہ کر دیئے، ٹی وی اسکرینیں اندھیرے میں ڈبو دیں اور ویب سائٹس پر احتجاجی بلیک آئوٹ کردیا۔ وجہ؟ غزہ کی مٹی پر اسرائیلی درندوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے وہ 220 سے زائد صحافی جنہوں نے اپنی جانوں کی بازی لگا کر دنیا کو سچ دکھایا۔ یہ صرف احتجاج نہیں تھا یہ انسانیت کی اجتماعی چیخ تھی۔ ایک صدی کی سب سے بڑی میڈیا بغاوت اور ایک تاریخی صدا جو بظاہر خاموش تھی لیکن کان پھاڑ دینے والی گونج رکھتی تھی۔غزہ کے اسپتال پر بمباری ہوئی، النصر اسپتال کی اینٹیں اینٹوں سے الگ ہو گئیں اور ملبے تلے دب کر پانچ مزید صحافی شہید ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے یہ سوچ رکھا ہے کہ اگر صحافی مر جائیں گے تو سچ بھی مر جائے گا۔ لیکن یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ سچ کچلا نہیں جاسکتا۔ قرآن نے کہا: بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ھو زاہق (ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ چیر دیتا ہے اور باطل مٹ جاتا ہے)۔اسرائیل یہ نہیں سمجھ سکا کہ خون قلم کو زندہ کرتا ہے، شہید کی لاش زمین پر نہیں گرتی بلکہ قوموں کے ضمیر میں گرتی ہے۔
یہ احتجاج رپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز اور آواز نامی عالمی تنظیم نے کیا۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے اخبارات، چینلز اور ریڈیو اسٹیشن یک زبان ہو گئے کہ اب مزید خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ، قطر، اٹلی، اسپین، جنوبی کوریا اور خود فلسطین کے میڈیا ادارے اس تاریخی احتجاج میں شریک ہوئے۔ یہ احتجاج کسی ایک قوم یا خطے کا نہیں تھا یہ پوری انسانیت کی طرف سے فلسطینی صحافیوں کو خراج عقیدت تھا۔
ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ مغرب اندھا بہرا ہے مگر یہ بغاوت بتا رہی ہے کہ دنیا کا ضمیر مکمل طور پر نہیں مرا۔ ہاں! سیاستدان بکے ہوئے ہیں، عالمی ادارے مفلوج ہیں لیکن صحافت کی روح ابھی کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔
یہاں سوال یہ ہے کہ امت مسلمہ کہاں کھڑی ہے؟ افسوس صد افسوس کہ وہ مسلم حکمران جو ایوانوں میں بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں وہ اسلامی ممالک جو او آئی سی کے اجلاس میں کیمرے کے سامنے جذباتی دکھائی دیتے ہیں وہی اس احتجاج میں نمایاں طور پر غائب تھے۔ کیا کوئی پاکستانی چینل، کوئی پاکستانی اخبار اس عالمی بلیک آئوٹ کا حصہ بنا؟ کیا کسی نے اپنی اسکرینیں سیاہ کیں؟ نہیں! ہم صرف دکھاوے کے احتجاج کے عادی ہوچکے ہیں۔
یہ امت وہی ہے جسے کبھی خیر امت کہا گیا لیکن آج فلسطین کے بچے شہید ہو رہے ہیں اور ہم اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہیں۔ عرب بادشاہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کی دوڑ میں ہیں۔ کچھ اپنی بادشاہت بچانے کے لیے امریکہ کے قدموں میں ہیں۔ ہمارے ہاں حکمران اس حد تک بے بس ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد تک جمع نہیں کرا سکتے۔کبھی آپ نے سوچا کہ اسرائیل سب سے زیادہ صحافیوں کو کیوں نشانہ بناتا ہے؟ اس لیے کہ صحافی وہ واحد طبقہ ہیں جو ریاستی جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ٹینک کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ اصل دہشت گرد کون ہے۔ اسرائیل کو بندوق والے فلسطینی سے نہیں قلم والے فلسطینی سے خطرہ ہے۔ کیونکہ بندوق دشمن کو زخمی کرتی ہے مگر قلم ضمیر کو جگا دیتا ہے۔
اسی لیے آج اسرائیل کی سب سے بڑی مہم “Kill the witness” ہے، یعنی گواہ کو ختم کرو تاکہ جرم چھپ جائے۔ لیکن وہ بھول گئے کہ اگر ایک صحافی مرتا ہے تو سو زندہ ہو جاتے ہیں۔تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے سچ بولنے والوں کو ہمیشہ قتل کیا گیا۔ حضرت زکریاؑ کو آری سے چیر دیا گیا، امام حسینؓ کو کربلا میں شہید کیا گیا، منصور حلاج کو سولی پر لٹکایا گیا۔ مگر کیا ان کے افکار کو ختم کیا جا سکا؟ نہیں۔ وہی تاریخ آج بتا رہی ہے کہ غزہ کے شہید صحافی دراصل وقت کے حسین ہیں جو ظلم کے یزید کو للکار رہے ہیں۔اسرائیل یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ طاقت ہی سب کچھ ہے۔ مگر یہ بھول گیا کہ طاقت صرف بمبار طیارے یا ٹینک نہیں طاقت سچائی بھی ہے۔ آج کے زمانے میں کیمرہ بندوق سے زیادہ خوفناک ہے۔
اس احتجاج سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ دنیا کا میڈیا دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک وہ جو صرف طاقتوروں کا ترجمان ہے جو اسرائیل اور امریکہ کی آنکھ کا اشارہ سمجھ کر خبر بناتا ہے۔ دوسرا وہ جو بے خطر قلم کو اٹھا کر میدان میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وہ میڈیا ہے جس نے پہلی مرتبہ اجتماعی بغاوت کی ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بدقسمتی سے مسلم دنیا کے اکثر میڈیا ادارے حکمرانوں کے زیرِ اثر ہیں۔ ہمارے اخبارات اور چینلز اس احتجاج میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ وہ اشتہار کھونے سے ڈرتے ہیں، حکمرانوں کی ناراضی سے گھبراتے ہیں۔ یہی ہماری غلامی کی اصل تصویر ہے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مغرب اب بھی مکمل طور پر مخلص نہیں۔ یہی یورپ اور امریکہ ہیں جو اسرائیل کو اسلحہ بھی دیتے ہیں، بمباری کے لیے مالی امداد بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی انسانی حقوق کا ڈھونگ بھی رچاتے ہیں۔ یہ احتجاج وقتی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ عملی اقدامات نہ ہوئے تو یہ محض ایک علامتی دکھاوا بن کر رہ جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا عالمی میڈیا کے یہ بڑے ادارے اقوامِ متحدہ پر دبائو ڈالیں گے؟ کیا وہ اسرائیل کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کریں گے؟ یا پھر چند دن بعد یہ احتجاج بھی ایک خبر کی طرح غائب ہو جائے گا؟اہم سوال ہم پاکستانیوں سے ہے۔ ہم کب تک تماشائی بنے رہیں گے؟ ہمارے حکمران مغرب کی طرف دیکھتے ہیں، ہماری اپوزیشن ذاتی مفادات کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے، ہمارا میڈیا ریٹنگ کی دوڑ میں ہے۔ فلسطین کے مظلوم بچے ہماری امت کے بچے ہیں مگر ہم نے ان کو یتیم چھوڑ دیا۔
اگر عالمی میڈیا اپنی اسکرینیں سیاہ کر سکتا ہے تو کیا ہمارے چینلز ایک دن کے لیے اپنی اسکرینیں کالی نہیں کر سکتے؟ اگر یورپ کے اخبارات فلسطینی صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں تو کیا ہم مسلمان اخبار ان کے خون کا قرض ادا نہیں کر سکتے؟
یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے بار بار وہ آیت یاد آرہی ہے: و لا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظالمون (ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے ہرگز نظرانداز نہیں کر رہا)۔ وقت آئے گا جب اسرائیل کے یہ مظالم اسی کے گلے کا پھندا بنیں گے۔ لیکن اس دن سے پہلے، ہماری بھی آزمائش ہے۔ جو خاموش ہیں، وہ بھی شریکِ جرم ہیں۔ہماری قوم کو سمجھنا ہوگا کہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں یہ پورے عالم اسلام کا امتحان ہے۔ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل ہماری باری بھی آئے گی۔
دنیا بھر کے صحافیوں کی اجتماعی بغاوت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ابھی امید کی شمع بجھی نہیں۔ لیکن یہ شمع ہمارے حصے کی ہوا مانگ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کیا ہم اپنی سانسیں اس کے لیے قربان کریں گے یا پھر بزدلی اور بے حسی کے اندھیروں میں ڈوبے رہیں گے؟غزہ کے شہید صحافی ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی جان دے دی تم نے کیا کیا ؟

یہ بھی پڑھیں