بیجنگ کی ایک صبح‘ سورج ابھی پوری طرح ابھرا نہیں تھا مگر روشنی نے افق کو چیر دیا تھا۔ دارالحکومت کے مرکزی ایونیو پر ہزاروں فوجی قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ ان کے قدموں کی چاپ زمین کو دہلا رہی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سی سنجیدگی اور جلال تھا۔ چین جنگِ عظیم دوم میں جاپان کو شکست دینے کی 80 ویں سالگرہ منا رہا تھا لیکن یہ تقریب ماضی کی یاد میں ڈوبی ہوئی نہیں تھی، یہ مستقبل کا ایک اعلان تھی۔یہ جشن نہیں بلکہ دھمکی تھی۔ یہ پریڈ نہیں تھی پیغام تھا۔ یہ دنیا کو بتایا جا رہا تھا کہ اب اگر کسی نے چین کی طرف آنکھ اٹھائی تو وہ آنکھ نکال دی جائے گی۔صدر شی جن پنگ اس دن بڑے اعتماد کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کے الفاظ میں ایک عجیب سا سکون تھا مگر پیغام کے اندر آگ چھپی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو آج جنگ اور امن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ اور پھر امریکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے چینی قوم کبھی کسی دھونس جمانے والے سے مرعوب نہیں ہوئی۔ یہ الفاظ سننے والوں کے کانوں میں سیدھے نہیں اترے بلکہ دل کے اندر جا کے خراش چھوڑ گئے۔ امریکا کے کان کھڑے ہو گئے، جاپان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور یورپ کے اخبارات نے اگلے دن یہ سرخی لگائی ۔ کیا چین جشن منا رہا ہے یا جنگ عظیم سوم کی تیاری ؟چین نے اس موقع پر جو کچھ دکھایا وہ صرف ہتھیاروں کی نمائش نہیں تھی بلکہ دنیا کے لیے ایک کھلا اعلان تھا۔ پریڈ کا سب سے بڑا اور حیران کن لمحہ تھا ڈی ایف فائیو سی بین البراعظمی میزائل کی رونمائی۔ یہ میزائل بارہ سے بیس ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی دنیا کا کوئی حصہ اس کی پہنچ سے باہر نہیں۔ یہ میزائل بیک وقت امریکا، یورپ اور دیگر خطوں کو اپنی زد میں لے سکتا ہے۔ گویا چین نے واضح پیغام دیا کہ اگر اسے چیلنج کیا گیا تو وہ پوری دنیا کو لرزا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل سائلوز سے لانچ ہوتا ہے۔ یہ بیک وقت کئی وارہیڈز لے جا سکتا ہے اور اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ دشمن کے دفاعی نظام کو دھوکہ دے کر ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔یوں لگتا ہے چین نے دنیا کے سامنے اعلان کر دیا ہے اگر تم ہمیں گھیرنے کی کوشش کرو گے تو ہم پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیں گے۔لیکن سوال یہ ہے کہ چین نے یہ سب کچھ اسی سال کیوں کیا؟ کیا یہ محض جاپان پر فتح کی یاد میں تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور حکمت تھی؟اصل میں خطہ اس وقت آگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی مسلسل چین کے گرد دائرہ تنگ کر رہے ہیں۔ جاپان کو اسلحہ دیا جا رہا ہے، تائیوان کو کھڑا کیا جا رہا ہے اور فلپائن میں امریکی بحری بیڑہ تعینات کر دیا گیاہے۔چین نے اس صورتحال کا جواب دینے کے لئے ایک دن چنا اور پوری دنیا کو دکھا دیا کہ وہ تیار ہے۔ اس پریڈ کا پیغام صرف ایک تھا اگر جنگ مسلط کی گئی تو چین پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ آگے بڑھے گا اور اسکے راستے میں آنے والا خواہ کوئی ہی کیوں نہ ہو اور کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔چین کے اس مظاہرے پر دنیا بھر میں ردعمل آنا بھی شروع ہو گیا ہے اور خاص طور پر یورپ کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ فن لینڈ کے صدر ایلکس اسٹب نے سیدھی سیدھی بات کہہ ڈالی کہ یہ سب مغربی اتحاد کو توڑنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے یورپ اور امریکا کو خبردار کیا کہ اگر ہم نے جنوبی دنیا خاص طور پر بھارت کو ساتھ نہ ملایا تو ہم یہ کھیل ہار جائیں گے۔یہ بات عام نہیں ہے۔ یورپ کے دل میں پہلی بار یہ خوف بیٹھا ہے کہ ایشیا اب صرف تماشائی نہیں رہا بلکہ کھیل کا اصل کھلاڑی بن گیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس بھی اسی دوران بیجنگ میں ہوا۔ اس اجلاس میں روس کے صدر پیوٹن، ترک صدر اردوان، وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم مودی شریک تھے۔ بیس ممالک کے سربراہ ایک جگہ بیٹھے اور مغرب کے کانوں میں یہ گھنٹی بجی کہ دنیا دو حصوں میں بٹ رہی ہے۔یہ سب دیکھ کر جاپان کے لیے وہ دن بھی تازہ ہو گئے جب اس نے دوسری جنگ عظیم میں گھٹنے ٹیکے تھے۔ جاپان کے لئے چین کا یہ مظاہرہ ایک زخم کھرچنے کے مترادف تھا۔ لیکن جاپان اب امریکا کی بانہوں میں ہیاور وہ کھل کر جواب نہیں دے سکتا۔ اس کے پاس صرف ایک راستہ ہے امریکا کے ساتھ مل کر چین کو روکنے کی کوشش۔ لیکن کیا جاپان کے پاس اتنی سکت ہے؟امریکا اس وقت بظاہر خاموش ہے مگر اندر سے پریشان ہے۔ امریکا جانتا ہے کہ اگر جنگ کا بگل بجا تو اس بار میدان صرف ایشیا نہیں ہو گا بلکہ یہ جنگ براہِ راست امریکا کے دروازے تک پہنچے گی۔ چین کے DF-5C میزائل نے امریکا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ کب تک دنیا کے تھانیدار کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ امریکا کے اخبارات لکھ رہے ہیں چین کی پریڈ نے سرد جنگ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کہاں جا کے رکے گا؟ کیا یہ واقعی جنگ عظیم سوم کی تیاری ہے یا پھر طاقت کا ایک مظاہرہ ہے تاکہ دشمن دل ہی دل میں ڈر کے پسپا ہو جائے؟
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کا یہ کھیل ہمیشہ خوفناک انجام تک پہنچتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے پہلے بھی یورپ طاقت دکھا رہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے بھی برلن میں پریڈز ہو رہی تھیں اور آج بیجنگ میں۔ کیا یہ وہی فلم کا نیا حصہ ہے؟ کیا ہم ایک اور عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں؟اب اس ساری کہانی میں پاکستان کے زاویہ پر بھی بات کرتے ہیں۔پاکستان بھی اس منظرنامے میں موجود تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے SCO اجلاس میں شرکت کی۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ مشرق اور مغرب دونوں کے ساتھ تعلقات کو توازن میں رکھے۔ لیکن کیا ایک کمزور معیشت والا ملک اس شطرنج میں اپنے پتے درست کھیل سکے گا؟اگر دنیا کا نقشہ ایک نئی جنگ سے بدل گیا تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟ چین ہمارا دوست ہے اور امریکا سے ہمارے تعلقات دوستانہ تو ہیں مگر ہمیشہ یہ پیچیدہ ہی رہے ہیں۔ ہم کس طرف کھڑے ہوں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمارے پالیسی سازوں کے ذہنوں میں مسلسل گردش کر رہا ہے۔ دنیا اس وقت ایک دو راہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت کا نشہ ہے اور دوسری طرف امن کی ضرورت۔ اگر چین اور امریکا آمنے سامنے آئے تو پوری دنیا لپیٹ میں آ جائے گی۔ یورپ جل جائے گا۔ ایشیاء تباہ ہو گا۔ افریقہ بھوکا مرے گا اور دنیا ایک بار پھر پرانے ادوار میں دھکیل دی جائے گی۔شی جن پنگ نے کہا ہے کہ انسانیت کو جنگ اور امن میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انسانیت کو انتخاب کرنے دیا بھی جائے گا یا نہیں؟ کیونکہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جنگیں قومیں نہیں چنتیں بلکہ طاقت اور دولت کے نشے میں مست حکمران چنتے ہیں اور قومیں صرف لاشیں اٹھاتی ہیں۔چین کا جشن ایک طرف فتح کی یاد تھا لیکن دوسری طرف یہ دنیا کے لیے وارننگ بھی تھی۔ یہ پیغام تھا کہ اب چین کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ منظر خوفناک ہے لیکن پاکستان کے لیے یہ لمحہ خوش آئند بھی ہو سکتا ہے۔پاکستان اگر دانش مندی دکھائے، اپنی معیشت کو مستحکم کرے اور سفارت کاری کے مہروں کو درست خانوں میں چلائے تو یہ طوفان ہمارے لیے موقع بن سکتا ہے۔