Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

قیمتی تھے کبھی ہم بھی

ایک دور میں فلم بینی کا بہت چرچا تھا۔ شائد اس لئے کہ تب تفریح کا یہ واحد ذریعہ تھا۔ عوام جوق در جوق فیملی کے ہمراہ فلم دیکھنے جاتے تھے ۔سینمائوں کی حالت زار بھی بہتر تھی فلمیں بھی زیادہ تر خاندانی مسائل پر بنتی تھی۔ شائقین تمیز دار ہوا کرتے تھے جبکہ ان میں سے بہت تھوڑی تعداد بدتمیز ہوا کرتی تھی۔ اکثرفلموں کے آغاز میں ہیرو ہیروئن کا بچپن اور پہلے ہاف میں ان کالڑکپن اور پھر مختصر سے وقت کے بعد سکرین پر تانگے کا پہیہ تیزی سے گھومتا تھا اور جب پہیہ رکتا تھا تو ہیرو ہیروئن جوان اور ان کے ماں باپ بوڑھے ہوچکےہوتے تھے اورجب وہ جوان بلکہ جوان جہان ہوتے تو پیار محبت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے بچپن میں گایا ہوا گانا بھی گالیتے تھے ۔ ہیرو ہیروئن کی محبت میں ماں باپ اور ظالم سماج بھی آجاتا تھا اور دونوں کی ملاقاتوں پر پابندی لگا دی جاتی تھی۔ محبت کے عروج پر گائے ہوئے گانے مظلومیت میں بدل جاتے تھے جنہیں دیکھ اور سن کر ہال میں بیٹھی خواتین کی سسکیوں کی آوازیں صاف دیتی تھیں اور کبھی ہیرو ہیروئن کی اگر شادی ہو جاتی تھی کلائمیکس سے کچھ دیر قبل ان کے سروں کے سفید بال اور بزرگی کی چھاپ دکھائی جاتی تھی۔
عمر کے اس حصے میں آکر ہر انسان کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ جیسے حقیقی زندگی میں بھی بس تانگے کا پہیہ ہی گھوما ہے اور بال سفید ہوگئے ہیں۔ جوانی کی جگہ بڑھاپے نے لے لی ہے۔ جوانی سے بڑھاپے تک کاسفر بچوں کی پرورش تعلیم و تربیت اور ان کے ازدواجی فرائض طے کرتےہوئےگزرجاتا ہےاور وہ انسان جسے کبھی قیمتی تصور کیاجاتا تھا وہ عام ہو جاتا ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ … قیمتی تھے کبھی ہم بھی … پھر رفتہ رفتہ عام ہوگئے۔ معاملہ یہاں تک ہی رہتا تو پھر بھی ٹھیک تھا۔ ستم تو یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان گھر والوں کوعام عوام لگنے لگا ہے ۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ گھر کا کوئی بڑا یا بزرگ ہلکا سا گھنگورا بھی ماردیتا تھا تو گھر کا ہرفرد دبک کر بیٹھ جایا کرتا تھا ۔ بچوں کی شادی کے سلسلے میں بزرگوں کا فیصلہ حتمی ہوا کرتا تھا۔ میرا یہ ذاتی مشاہدہ ہے کہ بعض خاندانوں میں بزرگ بچوں کے رشتے ان کے بچپن میں ہی طے کر دیا کرتے تھے اور کسی کو اس فیصلے سے اختلاف کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی حتی کہ بچوں کی بھی کیا مجال تھی کہ وہ کوئی ہینکی پھیکی کریں۔ اس حوالے سے میں کئی معروف خاندانوں کی اس روایت سے بھی آشنا ہوں۔
آج تو صورتحال یہ ہے کہ بزرگ تو کسی خانے میں ہی نہیں آتے اور ماں باپ کو بھی نیکی کے اس کام میں حصہ ڈالنے سےمحروم رکھاجاتا ہے۔ پہلے وقتوں میں اولاد والدین کے فیصلوں پر سرتسلیم خم کر دیتے تھے اور آج وہ وقت آگیا ہے کہ ماں باپ اولاد کے آگے سر تسلیم خم کیےرکھتے ہیں ۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو پھر بھی ٹھیک تھا۔ حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ آج اولاد ماں باپ پرہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ گزشتہ چند ماہ میں اس نوعیت کے متعدد واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مالاکنڈ کے سینئر رہنما مولانا کفایت اللہ کی اپنے بیٹے کے ہاتھوں فائرنگ سے ہلاکت ہے۔ بدبخت بیٹے نے والد کے ساتھ ایک بھائی اور بہن کو بھی موت کی وادی میں دھکیل دیا ہے۔ مولانا کفایت اللہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں چند روز زیرعلاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے تھے۔ مذہبی حلقے اور علماء حضرات تو اولاد کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا درس تو دیتے ہی رہتے ہیں ۔ رب ذوالجلال کا ارشاد ہےکہ والدین کو ان کے بڑھاپے تک اُف تک نہ کہو۔ لہجہ نرم رکھو‘
ان کےساتھ ادب واحترام کے ساتھ بات کرو۔ دوہری خوشی اس وقت ہوئی جب حکومتی سطح پر بھی والدین کی اہمیت اورحیثیت کی بات کی گئی۔ گزشتہ روز وفاقی وزیرقانون اعظم تارڑ نے ٹیکسلا میں ایک فوتگی کی دعائیہ تقریب میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ بزرگ اور والدین اولاد کےلئے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہیں عزت و احترام دیاجائے ان کےساتھ نرمی اختیارکی جائے۔اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کران کےپاس بیٹھا کریں انکی طبیعت کا پوچھیں کیونکہ اولاد کا تلخ رویہ والدین کووقت سے پہلے بوڑھا کر دیتا ہے۔ بیمار بزرگ دوائیوں سےنہیں رویوں سے بھی تندرست رہ سکتے ہیں۔
جوانی دیوانی مستانی ہوتی ہے۔ اس دوران ہرطرف ہریالی ہی ہریالی اوررنگ برنگے پھول کھلےہوئےدکھائی دیتےہیں جبکہ بڑھاپےمیں ہریالی بھی اوس کی ماری ہوئی، سڑی ہوئی گھاس اورپھول بےرنگ سےدکھائی دیتے ہیں۔ حقیقی زندگی اور فلم کےتانگے کےپہیے میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلم میں تانگے کا پہیہ چند منٹوں میں ہی گھوم جاتا ہے جبکہ حقیقی زندگی میں یہ پہیہ اپنے مقررہ وقت پر ہی گھومتا ہے اور جب یہ گھومنا بند کرتا ہےتو کئی عشرے بیت چکےہوتے ہیں۔ جن بچوں کو والدین انگلی پکڑ کرچلنا سکھاتےہیں۔ وہ انگلی چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ۔
میری انگلی پکڑ کر چلتے تھے
اب مجھے راستہ دکھاتے ہیں
اب مجھے کس طرح سے جینا ہے
میرے بچے مجھے سکھاتے ہیں

یہ بھی پڑھیں