بادلوں میں گھن گرج دلوں کو دہلا رہی ہے۔ دریائوں میں شور برپا کرتے ہوئے طوفانی ریلے‘ جسم و جان کو …بے جان … کر رہے ہیں۔ ملک کا پیشتر حصہ بدترین سیلاب کی زد میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک صرف پنجاب میں چار ہزار سے زائد دیہات تقریباً اکتالیس لاکھ افراد‘ ہزاروں ایکڑ فصلیں‘ ہسپتال‘ تعلیمی ادارے اور اربوں روپے مالیت کے اثاثے تنکوں کی طرح پانی میں بہہ گئے ہیں بعض حفاظتی بند حفظ ماتقدم کے طور پر توڑے جارہے ہیں اور کچھ بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی سے ٹوٹ رہے ہیں۔ پیارے دیس کی فضائیں سوگوار ہیں۔ ایک ایک لمحہ دکھ اور کرب میں گزر رہا ہے۔ پنجاب سیلاب کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ متاثرین کو نئے سرے سے آباد اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے لئے شاید برسوں درکار ہوں گے۔ متاثرین کے چہروں کی بے بسی اور بے چارگی خون کے آنسو رلا رہی ہے۔ ان دلوں پر کیا گزرتی ہوگی جو کل تک نہ صرف دوسروں کو بھی کھلانے کی استطاعت رکھتے تھے بلکہ خود بھی عزت و وقار کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھاتے تھے۔ رب ذوالجلال یہ دن کسی کو بھی نہ دکھائے۔ صحت مند افراد اور نوجوان تو شاید کچھ وقت تک بھوک‘ پیاس اور جسمانی تکالیف برداشت کرلیں لیکن بزرگوں اور بچوں کے لئے ایک ایک لمحہ گزارنا انتہائی مشکل ہے۔ یقینا ان بچوں اور بزرگوں میں بعض بیمار اور چلنے پھرنے سے لاچار بھی ہوں گے۔
والدین نے تنکا تنکا جوڑ کر بیٹیوں کا جہیز بنایا ہوگا۔ بیٹیوں کی آنکھوں میں سنہرے سپنے ہوں گے لیکن انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ انہیں ان سپنوں کی اتنی بھیانک تعبیر ملے گی۔ سرائیکی وسیب پنجاب کا ایک منفرد اور بعض حوالوں سے ملک گیر شہریت کا حامل ہے۔ بالخصوص شیریں لہجہ اور زبان‘ سیلاب سے سرائیکی وسیب کی تباہ کاریاں بھی کسی اجڑے ہوئے دیار کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ نیشنل پریس کلب کی سابق سینئر نائب صدر اور پاکستان فیڈریشن یونین آف جرنلسٹس (ورکر) کی صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال جن کا تعلق بھی سرائیکی وسیب سے ہے۔ انتہائی دکھ بھرے لہجے اور غمناک آنکھوں سے بتایا کہ میرے سرائیکی وسیب کی خوبصورتی اور روایتی پہچان کو بھی سیلاب کے بے رحم ریلوں نے نگل لیا ہے۔ کرب کی پرچھایاں ان کے چہرے سے چھلک رہی تھیں۔ جو ان کا اپنے سرائیکی وسیب سے عقیدت اور محبت کا اظہار تھا۔ اوچ شریف‘ پتجندر نہر‘ رسول پور اور مکھن بیلا کے علاوہ اردگرد کے علاقے میں آٹھ آٹھ فٹ پانی کھڑا ہے۔ ہزاروں مرد و زن‘ بچے بزرگ انتظامیہ کی مدد کے منتظر ہیں۔ انسان وبائی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور جانور بھوک سے مر رہے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ متاثرین کے دن اذیت اور راتیں خوف سے اور جاگ کر گزر رہی ہیں۔ انسان کس کس واقعے پر صبر کرے اور کس کس پر آنسو بہائے۔
ایک ماں کا اپنے تین بچوں کے ساتھ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے المناک سانحے نے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ متاثرین کے مطابق انتظامیہ بار بار صرف یہ اعلان کر دیتی ہے کہ علاقہ خالی کر دیں۔ وسیب کے شہر علی پور کی ایک خاتون نے دہائیاں دیتے ہوئے بتایا کہ میری ماں‘ میرے جوان بھائی اور بچوں کی کئی دنوں سے کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ ڈاکٹر سعدیہ کمال کے مطابق بستی رشید خان کے منچن بند میں شگاف پڑ چکے ہیں اور اگر بلاتاخیر ان کی مرمت نہ کی گئی تو یہ کسی بہت بڑے جانی و مالی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ دکھ درد کی یہ المناک داستان یہاں ہی ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر سعدیہ کمال نے بتایا کہ انہیں کچھ دیر پہلے ہی یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ جلال پور پیر والا میں سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے والی ایک کشتی الٹ گئی ہے‘ جس سے ماں اپنے تین بچوں کے ساتھ جاں بحق ہوگئی ہے۔ رب ذوالجلال کی طرف سے آئی ہوئی ناگہانی آفتوں اور مصیبتوں کا تو انسان رب کی رضا تصور کرکے صبر کر ہی لیتا ہے لیکن ایسے مواقع پر اعلیٰ حکومتی شخصیات‘ عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کے افسران اور اہلکاروں کا امدادی کارروائیوں کے دوران متاثرین کے ساتھ روا رکھا جانے والا ہتک آمیز اور ’’نمائشی‘‘ رویہ کہیں سے بھی یہ ظاہر نہیں کرتا کہ وہ خلوص دل اور انسانیت کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بلاشبہ متاثرہ علاقوں کے طوفانی دورے کر رہی ہیں۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی بچہ ان کے گال چھونے لگتا ہے اور کبھی کوئی بچہ انہیں اپنی ’’جھوٹی‘‘ سلانٹی کھلاتا ہے اور کبھی وہ گڑیا بن جاتی ہیں۔ لاکھوں روپے کے قیمتی لباس‘ جوتے اور بھرپور تیاری کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں جانا بھی مناسب نہیں ہے۔ ادھر ایک صوبائی وزیر بلال یاسین دورے کے دوران بچوں سے پوچھتے ہیں کہ بریانی ملی ہے؟ بچہ کہتا ہے جی ملی ہے۔ پھر موصوف پوچھتے ہیں کہ اس میں بوٹی تھی اور اگر کوئی بچہ یہ کہہ دے کہ بریانی ہی نہیں ملی تو وزیر صاحب اس بچے کی بات کو ہی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ایک ممبر صوبائی اسمبلی دورے کا آغاز ہی جسم پر پرفیوم چھڑک کر کرتے ہیں۔ اعتراض کرنے پر فرماتے ہیں۔ میرا پرفیوم‘ میری مرضی‘ جہاں شب و روز موت‘ بھوک اور خوف کے سائے چھائے رہتے ہوں وہاں ان ’’ششکوں‘‘ کی کیا ضرورت ہے جبکہ سچ تویہی ہے کہ:
کچھ وصال آخر تک‘ معتبر نہیں ہوتے
ساتھ چلنے والے بھی ہمسفر نہیں ہوتے
کتنا خوف ہوتا ہے شام کے اندھیرے میں
پوچھ ان پرندوں سے جن کے گھر نہیں ہوتے