یوم دفاع پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک غیرت بھری یاد اور ایک ولولہ انگیز داستان ہے جس نے آنے والی نسلوں کے دلوں میں حب الوطنی کے چراغ ہمیشہ کے لئے روشن کر دیے۔ 1965 ء کی جنگ کے وہ ایام آج بھی ہمارے سینوں میں گونجتے ہیں جب دشمن نے اپنی سازشوں کے جال پھیلائے اور شب خون مارنے کی ناپاک جسارت کی۔ وہ سمجھتا تھا کہ پاکستان ایک نوزائیدہ ملک ہے، اس کی جڑیں کمزور ہیں اور یہ ملک اس حملے کا سامنا نہ کر سکے گا۔ لیکن دشمن بھول گیا تھا کہ یہ وہ خطہ ہے جس کے جوانوں کی رگوں میں عشقِ رسول ﷺ، ایثار، غیرت اور شہادت کا خون دوڑ رہا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں کے باسی لا الٰہ الا اللہ کے نعرے کے ساتھ پیدا ہوئے اور اسی نعرے کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔اس دن کا سورج جب طلوع ہوا تو پاکستان کے بہادر سپاہیوں نے اپنی عظیم داستانیں رقم کرنا شروع کیں۔ لاہور کی سرزمین پر جب دشمن نے ٹینکوں کے ساتھ پیش قدمی کی تو اس دھرتی کے بیٹوں نے اپنے سینوں کو ڈھال بنایا۔
میجر عزیز بھٹی شہید جیسے جانبازوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پوری قوم کو یہ پیغام دیا کہ وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرنا سب سے بڑی سعادت ہے۔ ان کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی افواج کے جوان کسی بھی قیمت پر دشمن کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔یومِ دفاع صرف افواج پاکستان کی بہادری کا دن نہیں بلکہ پوری قوم کے اتحاد کا دن ہے۔ اُس وقت گلی گلی، کوچہ کوچہ، گاؤں گاؤں، شہر شہر ہر شخص اپنے انداز میں دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنا ہوا تھا۔ خواتین اپنے گھروں میں دعاؤں کے حصار قائم کیے، بچے اپنے جیب خرچ سے افواج کے لیے چندہ جمع کرتے، نوجوان مورچوں پر پانی اور کھانے کے پیکٹ لے جاتے اور بزرگ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے۔ یہ وہ نظارہ تھا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا کہ پاکستان جیسی کم وسائل رکھنے والی قوم بھی اپنے اتحاد اور ایمان کے زور پر دنیا کی بڑی طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔اس جنگ نے دشمن کو یہ سبق سکھایا کہ پاکستانی قوم کو للکارنا آسان ہے مگر اسے شکست دینا ناممکن ہے۔ بھارت نے لاہور پر قبضے کے خواب دیکھے تھے، اس کے جنرل کہہ رہے تھے کہ شام کو لاہور جم خانہ میں جشن منائیں گے، لیکن شام کا سورج ان کے لیے رسوائی اور شکست کی خبر لے کر ڈوبا۔ پاکستانی ٹینکوں نے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دئیے۔ ہمارے فضائی شاہینوں نے ایسی دلیری دکھائی کہ پوری دنیا حیران رہ گئی۔ ایم ایم عالم جیسے عظیم ہیرو نے دشمن کے پانچ جہاز ایک منٹ میں گرا کر تاریخ رقم کر دی۔ یہ کارنامہ آج بھی جنگی تاریخ میں سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔یومِ دفاع ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ یہ ملک بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا اور اس کی حفاظت بھی قربانی ہی سے ممکن ہے۔ یہ قربانی کبھی خون کی صورت میں ہوتی ہے، کبھی وقت کی صورت میں اور کبھی اپنے آرام کو ترک کرنے کی شکل میں۔ لیکن سب سے بڑی قربانی وہ ہوتی ہے جو ہماری افواج ہر لمحہ سرحدوں پر دے رہی ہیں۔ وہ اپنی نیندیں قربان کر کے ہماری نیندیں محفوظ کرتی ہیں، وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ہماری جانیں محفوظ کرتی ہیں۔ ان جوانوں کی قربانیاں اس قوم کے لیے سرمایۂ فخر ہیں۔آج جب ہم 6 ستمبر کو یاد کرتے ہیں تو یہ صرف ماضی کی داستان دہرانا نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی ذمہ داریوں کا عہد بھی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دشمن آج بھی موجود ہے، اس کے عزائم آج بھی وہی ہیں۔ وہ کبھی براہِ راست جنگ کی صورت میں اور کبھی سازشوں، پروپیگنڈے اور دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یومِ دفاع کی اصل روح کو زندہ رکھیں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور دشمن کو ایک بار پھر یہ باور کرا دیں کہ پاکستان ایک زندہ جاوید حقیقت ہے جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔
یومِ دفاع یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں اپنی غیرت، اپنی حمیت اور اپنے اتحاد سے زندہ رہتی ہیں۔ یہ دن ہمیں یہ عہد دہرانے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم ہر حال میں اپنے وطن کی حفاظت کریں گے۔ چاہے کوئی کتنا ہی طاقتور دشمن کیوں نہ ہو، ہمارا ایمان، ہمارا حوصلہ اور ہماری غیرت کبھی ہمیں پیچھے ہٹنے نہیں دے گی۔ پاکستان کے جوانوں نے 1965 ء میں جو تاریخ لکھی وہ قیامت تک زندہ رہے گی۔ آج کے دن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے شہداء کے لہو کے قرض کو ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک مضبوط، خوشحال اور محفوظ پاکستان دینے کے لیے تیار ہیں؟ اگر ہم اپنے کردار کو سنواریں، اپنے اداروں کو مضبوط کریں، کرپشن کو ختم کریں، تعلیم کو عام کریں اور اپنے وسائل کو صحیح طریقے سے استعمال کریں تو یقیناپاکستان نہ صرف دفاعی طور پر مضبوط ہو گا بلکہ معاشی اور معاشرتی طور پر بھی ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھرے گا۔یومِ دفاع پاکستان ہمیں بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ وطن ہم سب کا ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ افواج پاکستان اپنی جگہ، لیکن جب تک پوری قوم اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کرے گی، حقیقی دفاع ممکن نہیں۔ ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہو گا، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا اور ہمیں اپنی زندگیاں اس وطن کے لیے وقف کرنا ہوں گی۔ یہی وہ پیغام ہے جو 6 ستمبر ہمیں دیتا ہے۔اس دن کی خوشی میںآئیں ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ہر میدان میں کامیاب و کامران دیکھنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کریں گے۔ ہم دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، ہم اپنے شہداء کے خون کی لاج رکھیں گے اور ہم اس وطن کی حرمت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ یہ وطن ہماری پہچان ہے، ہمارا فخر ہے اور ہماری جان ہے۔”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے” یہ محض ایک مصرعہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ ہمارے شہداء نے اپنی جانیں قربان کر کے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ وطن پر قربان ہونے والا کبھی نہیں مرتا بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ وہ زندہ بھی ہے اور اپنی قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔