پاکستان کا وجود کن قوتوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکھٹا ہے؟ آج اس سوال کا جواب دینا کچھ مشکل نہیں رہا۔ سرحد پار مشرق میں واقع ہمسایہ ہندوستان ان عناصر کا سرخیل ہے جو پاکستان کے وجود کو مٹانا چاہتے ہیں۔ مغربی سمت میں واقع افغانستان میں بھی ان عناصر کی کمی نہیں جو لسانی بنیادوں پر پاکستان کی سرحد کو مٹا کر اپنی دقیا نوسی سوچ کے مطابق نیا جغرافیہ تخلیق کرنا چاہتے ہیں ۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا صوبوں میں نسل پرستانہ رجحانات سے پیدا ہونے والا فساد اب دہشت گردی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لسانی تعصب اور نسل پرستانہ تشدد کا ہتھیار ماضی میں بھی ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں استعمال کیا تھا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش بن چکا ہے البتہ پانچ دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد اب بنگلہ دیش کے عوام کو یہ اندازہ ہوا ہے کہ کس طرح ازلی دشمن بھارت نے نسل پرستی کے ہتھیار سے مسلم قومیت کی بنیاد پر قائم ہونے والے پاکستان کے وجود کو دولخت کیا؟ عسکری محاذ پر پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے والا بھارت مستقل بنیادوں پر لسانی تعصب کی آگ بھڑکا کر ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے سازشوں میں مصروف ہے ۔
سوشل میڈیا اس نفرت انگیز جنگ کا اہم محاز بن چکا ہے۔ نادیدہ اکائونٹس سے ملک دشمن مواد کی اشاعت بہت آسان ہے۔ یہ شیطانی سلسلہ بلا روک ٹوک 24 گھنٹے جاری رہتا ہے۔ جھوٹے مواد کی تصدیق بھی کوئی آسان کام نہیں۔ جعلی مواد کی تصدیق ہونے سے پہلے ہی اس کے منفی اثرات ناظرین و سامعین کو متاثر کر کے معاشرے کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پروپیگنڈے کے ان کارخانوں میں 24 گھنٹے کام جاری رہتا ہے۔ سادہ لوح پشتون اور بلوچ نوجوانوں کو تشدد اور نفرت کی راہ دکھائی جاتی ہے۔ دو ہفتے قبل بلوچستان سے گرفتار ہونے والے ڈاکٹر عثمان قاضی کے انکشافات بہت تشویش ناک تھے۔ ریاست کے وسائل سے مستفید ہونے والا شخص زہریلے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر دہشت گردوں کا سہولت کار بن گیا۔ جامعات اور کالجوں میں نوجوان طلبا کو انقلاب کے نام پر دہشتگردی کا درس دینے والے عناصر کا قلع قمع بہت ضروری ہے۔ سرحد پار بیٹھے دہشت گردوں کے سرپرست اپنے زہریلے نظریات کے لیے تعلیم، تحقیق اور دانشوری کے نقاب استعمال کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ واردات بہت پرانا ہے ۔قیام پاکستان کے بعد لسانی اور نسلی تفریق کے پرچار کے لئے ایک طویل عرصے تک بھارت نے نام نہاد کامریڈوں اور ’’سرخوں‘‘کا استعمال کیا تھا۔ پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لئے ان کامریڈوں نے جو وارداتیں کی ان کی چشم کشا تفصیلات جمعہ خان صوفی نے اپنی کتاب “فریب نا تمام” میں بیان کی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ایم اور این ڈی ایم جیسی تنظیمیں حقوق کی آڑ میں نسلی اور لسانی منافرت پھیلا رہی ہیں۔ تازہ واردات ایک کتاب کی صورت میں کی گئی ہے۔ ایک غیر معروف مصنف ایمل خٹک کا نام سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ موصوف نے ’’پشتون مزاحمت اور ریاست‘‘کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ شائع ہوتے ہی یہ کتاب اور مصنف متنازع ہو گئے ہیں۔ یہی رواج بھی بن گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے لئے تنازع کھڑا کیا جائے ۔فاضل مصنف جو کہ انتہائی غیر معروف بلکہ گمنام قسم کی چیز ہیں‘ ان کی کتاب اپنے متن سے زیادہ سرورق کی غلطی کی وجہ سے ہدف تنقید بن رہی ہے۔ کتاب کے سرورق پر پاکستان کا مسخ شدہ غیر مصدقہ نقشہ شائع کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کا نقشے میں ظاہر نہ کیا جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ غالب گمان ہے کہ یہ ایک دانستہ شرارت ہے۔ ملک میں رائج قوانین کے تحت ریاست کے غلط نقشے کی اشاعت قابل سزا جرم ہے۔ واضح طور پر یہ نقشہ بھارت کے غلط ریاستی موقف کا ترجمان ہے۔ اس غیر معروف کتاب کے متن پر نگاہ ڈالنے والے واقفان حال کے مطابق مصنف نے سابقہ کامریڈوں اور ’’سرخوں‘‘ کی دقیانوسی سوچ کو نشان منزل بنایا ہے۔ عمومی انتظامی مسائل کو لسانی اور نسلی منافرت کا رنگ دے کر نام نہاد دانشور ملی یکجہتی پر وار کرتے رہتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد پشتون ہمیشہ قومی دھارے کا حصہ رہے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پشتون دیگر لسانی اکائیوں کے ساتھ باہم شیر و شکر ہو کے رہتے آئے ہیں۔ جعلی کامریڈ اور سابقہ سرخوں کے فکری آثار قدیمہ دانشوری کا لبادہ اوڑھ کر نسلی تعصب کی باسی کڑہی کو آج بھی ابال دے رہے ہیں۔ ملک کے دو صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر کا اصل منبع بھارت میں ہے تاہم ریاست کے خلاف دہشت گردی میں ملوث فسادی گروہوں کے مراکز افغانستان کی سرزمین پر قائم ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر اور کلمہ توحید سے تشکیل پانے والی مسلم قومیت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ ازلی دشمن بھارت اور اس کے پروردہ نسل پرست اس ریاست کا وجود مٹانے کے لیے دانشوری کا لبادہ اوڑھ کر ملی وحدت کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ریاست مخالف نظریات کے حامل فسادی عناصر کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا جائے۔