Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اکھ لڑی بدو بدی

چاہت کے تصور سے ہی دل میں گدگدی سی ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ چاہت میں پیار و محبت کی چاشنی پائی جاتی ہے جب تک چاہت ’’ ہوتی‘‘ تھی تو کسی کو چاہنے کا دل بھی کرتا تھا‘ لیکن جب سے چاہت ’’ہوتی ‘‘ سے’’ہوتا‘‘ میں تبدیل ہوئی ہے، چاہت میں وہ چاہ نہیں رہی، جب تک چاہت میں چاہت بلوچ ’’تھی‘‘ صورتحال کچھ بہتر تھی، حالانکہ چاہت بلوچ کا شمار بھی کسی حد تک’’ تھا‘‘ ہی میں ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہزاروں لاکھوں لوگ‘ چاہت بلوچ کو چاہتے ہیں۔ چاہت کے میدان میں جب سے چاہت فتخ علی خان کا ظہور ہوا ہے لوگوں کا گائیگی کی چاہت سے بھی جی اکتا گیا ہے۔ چاہت فتح علی خان کا بھاری بھر کم وجود‘ پھر گلوکاری اور اس کے ساتھ اوٹ پٹانگ اداکاری‘ جسے سن کر اور دیکھ کر چاہت کے جذبات جنم لینے سے قبل ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ چاہت فتح علی خان کو بھی گزشتہ دنوں لندن میں انڈہ گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ستم یہ کہ انہیں ایک چپیڑ بھی پڑ گئی ، جس پر وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے انہیں روتا دیکھ کر ان کی گائیگی کے ناقدین کے دل بھی پسیج گئے۔ رونا تب ہی آتا ہے جب انسان اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے اور جب انسان کے سر پر انڈا ٹوٹتا ہے تو اس کا دل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ سر پر انڈہ ٹوٹنے اور چیپڑ پڑنے سے چاہت فتح علی خان کو دہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ان کا آدھے سے زیادہ سر بالوں سے یکسر محروم ہے۔اگر سارے سر پر بال ہوتے تو شائد انہیںچپیڑکی تکلیف کا اس قدر احساس نہ ہوتا۔
بلاشبہ وہ چہرے سے معصوم دکھائی دیتے ہیں لیکن یہاں ان کی معصومیت بھی کسی کام نہ آئی اور کام دکھانے والوں نے کام دکھا دیا۔ چاہت فتح علی خان کےچاہنے والوں کا موقف ہے کہ اس معصوم سے بندے کے ساتھ کس کی کیا عداوت ہوسکتی ہے، جبکہ ہماری رائے یہ ہے کہ معصوم سا بندہ.. اکھ لڑی بدوبدی.. نہیں گاتا اور نہ ہی اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرتا ۔ برسہا برس قبل فلم بنارسی ٹھگ میں ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز میں اداکارہ ممتاز پر فلمایا گیا گانا لوگ فراموش کر چکے تھے لیکن چاہت فتح علی خان نے بھولی بسری یادوں کو۔ اکھ لڑی بدو بدی… گا کر دوبارہ تازہ کر دیا ہے‘ جس طرح پاکستان میں دیسی اور شیوری انڈوں کی دو مختلف اقسام پائی جاتی ہے‘ شاید لندن میں بھی ایسا ہی ہو۔
دیہاتوں میں شیوری انڈے کو ولایتی انڈہ اور لندن کو… ولایت… کہا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے چاہت فتح علی خان کو مارا جانے والا… انڈہ… یقینا ولایتی ہوگا۔ ہر ایجاد کا کوئی نہ کوئی موجد ہوتا ہے‘ جوتے‘ ٹماٹر اور انڈے مارنے کا موجد کون ہے یہ کھوج لگانا انتہائی ضروری ہے کہ سب سے پہلے جوتا‘ انڈہ، ٹماٹر‘ کس نے کس کو مارا تھا۔ سابق امریکی صدر جارج بش کو ایک تقریب میں جب کسی نے جوتا مارا تھا تو انہوں نے اپنی خفت مٹانے کے لئے کہا تھا کہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ جوتا کس نمبر کا تھا‘ جس پر ہم نے کہا تھا کہ جارج بش بے شک امریکہ کے صدر بن گئے ہیں‘ لیکن ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ ان کا خاندانی پیشہ کیا ہے۔ انڈہ گردی‘ ٹماٹر گردی اور جوتا کلب کے ممبران میں کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ جن میں سابق امریکی صدر جارج بش‘ میاں نواز شریف ارباب غلام رحیم‘ احسن اقبال‘ شیخ رشید احمد اور رانا ثناء اللہ نمایاں ہیں۔ جبکہ ایک جلسہ عام میں عمران خان کو مارا جانے والا جوتا علیم خان کو جا کر لگا تھا۔
گزشتہ دنوں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو بھی اڈیالہ جیل کے باہر نامعلوم لڑکیوں نے انڈہ مارا تھا علیمہ خان شاید وہ واحد خاتون ہیں جنہیں انڈہ مارا گیا ہے۔ انڈوں کے ماہرین کے مطابق علیمہ خان کو مارا جانے والا انڈہ دیسی مرغی کا تھا۔ علیمہ خان کو انڈہ مارنے کا منصوبہ بنانے والوں کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے انڈہ مارنے کے لئے لڑکیوں کا انتخاب کیا… اگر یہ انڈہ کسی نوجوان سے مروایا جاتا تو اس کا شدید ردعمل آسکتا تھا علیمہ خان کا یہ بڑا پن ہے کہ انہوں نے انڈہ کھانے کے باوجود بھی غصے کا اظہار کرنے کے بجائے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ وہ بعض صحافیوں کے جارحانہ رویوں کا سامنا بھی خندہ پیشانی سے کرتی ہیں حتیٰ کہ انہیں بھائی اور بیٹا کہہ کر پکارتی ہیں۔
چاہت فتح علی خان نے انڈے مارنے کا الزام مبینہ طور پر ہوٹل مالکان پر عائد کیا ہے‘ ان کا موقف ہے کہ یہ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ کیونکہ مجھے کہا گیا تھا کہ سیکورٹی اہلکار آپ کے ساتھ تصویر بنانا چاہتے ہیں۔ جس پر میں نے آمادگی ظاہر کی۔ سیکورٹی والا منصوبہ بنا کر جیسے ہی علیحدہ ہوا ایک بندہ بھاگتا ہوا آیا اور میرے سر پر انڈہ مار دیا۔ ابھی میں سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ ایک اور بندہ آیا اور اس نے پہلے مجھے انڈہ اور پھر تھپڑ مارا‘ میں اس جارحانہ عمل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گا۔
چاہت بلوچ کسی کے گائے ہوئے گانوں پر‘ پرفارم کرتی ہے اور محفل لوٹ لیتی ہے جبکہ چاہت فتح علی خان براہ راست اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جسے دیکھنے اور سننے والے کچھ دیر کے لئے تو برداشت کرلیتے ہیں۔لیکن جس انداز میں وہ روح کی غذا… کی… روح… نکالتے ہیں وہ ناقابل برداشت ہے۔

یہ بھی پڑھیں