تاریخ کا دامن جب پلٹتے ہیں تو صفحہ بہ صفحہ ہمیں مسلمانوں کی عظمت غیرت اور حکمت کے وہ روشن باب ملتے ہیں جن پر آج بھی دنیا حیران کھڑی ہے۔ کبھی اندلس کی گلیوں میں علم و ہنر کے چراغ روشن تھے۔ کبھی بغداد کی درسگاہیں دنیا کو عقل و دانش کے جام پلا رہی تھیں۔ کبھی غرناطہ کی فضائیں قرآن کی تلاوت اور اذانوں کی گونج سے معمور تھیں اور کبھی بیت المقدس مسلمانوں کی پیشانی کا جھومر تھا۔ مگر آج یہی امہ دنیا کے نقشے پر بکھری خستہ حال اور ذلت و غلامی کا شکار نظر آتی ہے۔اندلس سے بغداد تک کی تاریخ صرف قصے کہانیاں نہیں بلکہ آئینہ ہے۔ یہ آئینہ ہمیں دکھاتا ہے کہ جب مسلمان غیرت ایمان اور علم کے ہتھیاروں سے لیس تھے تو دنیا ان کے قدموں میں بچھ جاتی تھی۔ اندلس کی وہ صبحیں یاد کیجیے جب قرطبہ اور غرناطہ کی درسگاہوں سے فلسفہ، ریاضی، طب اور فلکیات کی روشنی پھیلتی تھی۔ جب یورپ کے تاریک قلعے اندلس کے چراغوں سے روشنی مستعار لیتے تھے۔ وہ زمانہ جب مسلمانوں نے علم کے ساتھ عدل کا پرچم بھی بلند رکھا۔ یہودی اور عیسائی بھی مسلمانوں کے زیرسایہ امن سے رہتے تھے۔ لیکن جب غرور نے جگہ لے لی، جب عیش و عشرت اور جاہ و جلال نے دلوں کو کھوکھلا کر دیا تو یہی اندلس مسلمانوں کے ہاتھ سے چھن گیا۔ غرناطہ کی شکست صرف ایک سلطنت کا زوال نہ تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے خواب اور غیرت کا جنازہ تھا۔اسی طرح بغداد کو لیجیے۔ یہ صرف ایک شہر نہیں تھا بلکہ عباسی خلافت کا دل، علم و فنون کی چراگاہ اور دنیا کی سب سے بڑی تہذیبی و فکری طاقت کا مرکز تھا۔ یہاں وہ بیت الحکمت قائم تھا جہاں یونانی فلسفہ، ہندوستانی ریاضی اور ایرانی طب کا ترجمہ ہوتا تھا۔ یہی بغداد تھا جہاں جابر بن حیان کی کیمیا، خوارزمی کا الجبرا اور ابن الہیثم کی بصریات دنیا کو نئی جہتیں بخش رہی تھیں۔ یہاں کی درسگاہوں سے نکلنے والا ہر عالم دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں علم کی شمع روشن کر رہا تھا۔مگر جب امت نے قرآن کی ہدایت کو پسِ پشت ڈال کر دنیا پرستی، عیش و عشرت اور تفرقہ بازی کو اپنا لیا تو وہ بغداد جس پر فرشتے ناز کرتے تھے انسانوں کے ہاتھوں برباد ہوا۔
1258 ء میں ہلاکو خان کی قیادت میں منگول فوجیں بغداد کی دیواروں کو روندتی ہوئی داخل ہوئیں۔ لاکھوں مسلمان تہہ تیغ کئے گئے، گلیاں خون سے بھر گئیں اور عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں تلے کچل دیا گیا۔ تاریخ رقم کرتی ہے کہ بغداد کی عظیم لائبریریوں کو دریا میں پھینک دیا گیا اور دجلہ کئی دنوں تک سیاہ بہتا رہا کیونکہ کاغذ کی روشنائی اس کے پانیوں میں گھل گئی تھی۔یہ منظر محض ایک شہر کا زوال نہ تھا بلکہ امت مسلمہ کی فکری اور روحانی شکست تھی۔ بغداد کے کھنڈر امت کو چیخ چیخ کر یہ بتاتے ہیں کہ جب مسلمان اپنے علمی اور ایمانی قلعے کمزور کر دیتے ہیں تو کوئی فوج، کوئی دولت اور کوئی تلوار انہیں نہیں بچا سکتی۔ بغداد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم اور ایمان کا چراغ بجھ جائے تو سلطنتوں کے ستون زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ یہی بغداد مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی عبرت ہے کہ اگر قرآن و سنت سے رشتہ کمزور پڑ جائے تو وہی شہر جو دنیا کی آنکھ کا تارا ہو ذلت و بربادی کا شکار بن جاتا ہے۔غرناطہ سے بیت المقدس تک کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ بیت المقدس وہ سرزمین ہے جہاں سے معراج النبی ﷺ کا آغاز ہوا، جہاں انبیاء کے قدموں کے نشان ہیں اور جو ہمیشہ سے مسلمانوں کے قلوب کی دھڑکن رہی ہے۔ یہ مقدس خطہ تاریخ میں بارہا صلیبیوں اور غاصبوں کے قبضے میں گیا لیکن جب بھی مسلمان غیرت ایمانی کے ساتھ اٹھے انہوں نے اسے آزاد کرا لیا۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب یورپی فوجوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو ستر ہزار مسلمان بے دردی سے شہید کر دئیے گئے۔
مسجد اقصیٰ میں گھوڑے باندھے گئے اور محرابوں کو آلودہ کیا گیا۔ مگر یہ ظلم زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ اللہ نے امت کو صلاح الدین ایوبی جیسے مردِ میدان سے نوازا جس نے برسوں کی حکمتِ عملی، صبر اور جہاد کے بعد 1187ء میں بیت المقدس کو فتح کیا۔ صلاح الدین نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر ایمان کی چنگاری بھڑک اٹھے تو دشمن کے قلعے ریت کے گھروندوں کی طرح ڈھہ جاتے ہیں۔ ان کی عدل و حکمت کی یہ مثال بھی تاریخ میں محفوظ ہے کہ جب شہر فتح ہوا تو صلیبیوں کو عام معافی دی گئی حالانکہ انہی صلیبیوں نے پچھلی فتح پر مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا تھا۔مگر آج بیت المقدس پھر غیروں کے قبضے میں ہے اور مسلم دنیا تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اسرائیل کے قبضے کو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ مسجد اقصی کی حرمت بار بار پامال ہوتی ہے مگر عرب اور عجم کے حکمران بیان بازی سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ قرآن نے تو خبردار کیا تھا اور ان کے مقابلے کے لیے تیار رکھو جو کچھ بھی تم سے ہو سکے قوت۔ مگر آج امت نے قوت کو چھوڑ کر غلامی کو اپنا لیا ہے۔ صلاح الدین ایوبی کے وارث محلات میں سو رہے ہیں اور فلسطین کے بچے پتھروں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ منظر صرف بیت المقدس کی غلامی نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کی بے بسی کا نوحہ ہے۔یہ ساری تاریخ ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ ایک ہی سبق کہ جب مسلمان اپنے رب سے جڑتے ہیں علم و عدل کے ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے آگے ٹک نہیں سکتی۔ لیکن جب وہ غفلت میں پڑ جاتے ہیں، مال و دولت کو اصل سرمایہ سمجھ لیتے ہیں، جب ایمان کی جگہ عیش و عشرت لے لیتی ہے تو ان کا انجام اندلس اور بغداد جیسا ہوتا ہے۔آج عرب دنیا کے محل، ٹاورز اور سونے کی چمک دمک ہمیں اندلس کے زوال کی یاد دلاتے ہیں۔
آج بھی عرب حکمرانوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ چاہیں تو پورے عالم اسلام کو ایک دن میں معاشی خودکفالت کے مقام پر لے آئیں۔ وہ چاہیں تو اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان میں غیرت ایمانی کہاں ہے؟ ان کی آنکھیں ڈالروں کی چمک سے چندھیا چکی ہیں۔ ان کی پالیسیاں واشنگٹن اور لندن میں بنتی ہیں۔ ان کے خواب نیویارک اور پیرس کی گلیوں میں بھٹکتے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ اللہ نے انہیں تیل اور وسائل کی دولت اس لیے دی تھی کہ وہ امت مسلمہ کے لیے قوت کا مرکز بنیں نہ کہ غیروں کی تجوریوں کو بھرنے والے غلام۔اندلس سے بغداد اور غرناطہ سے بیت المقدس تک کا سفر ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو کل مکہ اور مدینہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ دشمن ہماری سرزمین میں داخل ہو چکا ہے وہ ہماری فکری سرحدیں توڑ چکا ہے وہ ہمارے نوجوانوں کو عیش و عشرت اور بے راہ روی کی طرف لگا چکا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم تاریخ کے ان المیوں سے سبق لیں۔ہمیں پھر سے صلاح الدین ایوبی جیسے لیڈر چاہیے۔ ہمیں پھر سے اندلس جیسے علمی مراکز قائم کرنے ہیں۔ ہمیں پھر سے بغداد جیسی درسگاہوں کو زندہ کرنا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تیل اور ڈالر ہمیں بچا نہیں سکتے صرف ایمان، علم اور اتحاد ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔اندلس، بغداد، غرناطہ اور بیت المقدس صرف تاریخ کے نام نہیں یہ ہماری غیرت، ہماری عزت اور ہماری شناخت ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی خواب غفلت سے آنکھیں نہ کھولیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وہ پوچھیں گی کہ جب دشمن تمہارے گھروں تک پہنچ گیا تھا تو تم کہاں تھے؟ تمہارے محل کس کام آئے؟ تمہاری دولت کہاں گئی؟وقت کا تقاضا ہے کہ عرب اور عجم، مشرق اور مغرب کے سب مسلمان اکٹھے ہوں۔ ایک پرچم تلے جمع ہوں۔ اگر ہم نے یہ اتحاد نہ کیا تو ہمارا انجام اندلس اور بغداد سے بھی زیادہ عبرتناک ہوگا۔