Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بھوک کی زمین پر عیاشیوں کے محل

پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی مستقل المیہ ہے تو وہ یہ کہ اشرافیہ نے ریاست کو اپنی چراگاہ بنا رکھا ہے۔ جس طرف نظر ڈالیں وزراء، مشیر، جج، جرنیل، اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، وزیر اعلیٰ، گورنر اور اعلیٰ بیوروکریسی کی مراعات کا ایسا انبار کہ عام شہری کو دیکھ کر شرم بھی نہ آئے۔کہا جاتا ہے کہ یہ ملک غریب ہے خزانہ خالی ہے بجٹ خسارے میں ہے لیکن جب باری آتی ہے اشرافیہ کے ناز و نعم کی تو سب رکاوٹیں جادو کی طرح ہٹ جاتی ہیں۔ کابینہ کے اراکین کی تنخواہیں ملاحظہ کیجیے۔ ایک زمانہ تھا جب وفاقی وزیر کی بنیادی تنخواہ چند ہزار روپے ہوا کرتی تھی پھر یہ لاکھوں تک جا پہنچی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ اب عام پاکستانی کی پانچ نسلوں کی کمائی پر بھاری ہے۔ صوبائی وزرا بھی کسی سے پیچھے نہیں بلکہ بعض اوقات تنخواہ اور مراعات کے بوجھ میں وہ وفاق سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔اب آئیے معزز جج صاحبان کی طرف۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان کو نہ صرف بھاری پنشن اور مراعات حاصل ہیں بلکہ تین پولیس گن مین )ہر ایک آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دینے والا)بھی ساتھ دیے جانے کا نیا پروانہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ گویا کل نو پولیس اہلکار صرف ایک صاحب کے تحفظ پر مامور۔ یہی نہیں ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان کو بھی تاحیات ایک گن مین ملتا ہے اور اگر خدا نخواستہ جج صاحب کا انتقال ہو جائے تو ان کی اہلیہ محترمہ کو بھی پنشن اور سیکورٹی اسی سطح پر میسر رہتی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک میں جہاں عام آدمی تھانے میں اپنی جان بچانے کے لیے بھٹکتا پھرتا ہے اور اسے شنوائی تک نصیب نہیں ہوتی۔اب اگر ہم فوجی جرنیلوں کی طرف دیکھیں تو وہ بھی کسی سے کم نہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد رہائشی پلاٹ، زرعی زمینیں، میڈیکل اور دیگر مفت سہولتیں، سرکاری گاڑی، ملازمین اور زندگی بھر کے لئے ہر طرح کی سہولتیں۔ یہ سب کچھ اس وقت جب ملک کے 80 فیصد شہری غربت کی لکیر سے نیچے جی رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اراکین بھی توجہ کے مستحق ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی سو گنا اضافہ کیا گیا۔ کبھی دلیل دی جاتی ہے کہ دوسرے ملکوں کے ارکانِ پارلیمان کی تنخواہیں دیکھئے کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ ملک کی خدمت کرتے ہیں اس لیے حق دار ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خدمت کس کی؟ کیا عوام کے حالات بہتر ہوئے؟ کیا تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ ہوا؟ کیا روزگار کے مواقع بڑھے؟سچ یہ ہے کہ یہ تمام مراعات اشرافیہ کی اس ذہنیت کی عکاس ہیں جو ریاست کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے۔ 1947ء کے بعد سے اب تک یہ کھیل جاری ہے۔ کبھی نواب اور جاگیردار تھے مگر اب وزرا، جج اور بیوروکریٹ ہیں۔ چہرے بدل گئے مگر کھیل وہی رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بدحالی نے عام آدمی کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ لیکن اشرافیہ کی خواہشات کا کوئی انت نہیں۔ کبھی تنخواہ بڑھا لی جاتی ہے کبھی نئی مراعات کا اعلان ہو جاتا ہے کبھی سیکورٹی کے نام پر درجنوں پولیس اہلکار جھونک دیے جاتے ہیں۔پاکستان پر قرضوں کا یہ پہاڑ محض اعداد و شمار کی داستان نہیں بلکہ قومی حمیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔ اسٹیٹ بینک کی دستاویزات چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ جون 2025ء تک ملک پر 94 ہزار 197ارب روپے کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ پچھلے ایک ہی مالی سال میں 8 ہزار 740 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ گویا قوم کا ہر بچہ قرض کی زنجیروں میں جکڑا پیدا ہو رہا ہے۔ یہ منظر محض معیشت کا بحران نہیں بلکہ حکمران طبقے کی بے حسی کا نوحہ ہے جو محلات میں جھومتے اور قافلوں میں فراٹے بھرتے ہیں جبکہ قوم کے کندھوں پر قرضوں کا بوجھ اور غریب کے پیٹ پر بھوک کی مہر ثبت ہے۔یہ حکومت جس نے اقتدار سنبھالتے ہی خوشحالی کے خواب دکھائے اس کے ابتدائی 16مہینوں میں ہی 13 ہزار 78ارب روپے کے قرض کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ یہ اضافہ مارچ 2024 سے جون 2025 تک کے قلیل عرصے میں سامنے آیا جیسے کوئی نشئی دن رات نئی بوتلیں پی کر قرضوں کے کھاتے میں ڈال رہا ہو۔ لیکن ان اربوں کھربوں کا رخ کس طرف ہے؟ کیا اس سے غریب کو روٹی کا کوئی نوالہ ملا ؟ کیا یہ ہسپتالوں کی حالت سنوارنے پر لگا؟ کیا یہ تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ ہوا؟ نہیں۔ یہ سب جاگیر داروں کے عشرت کدوں، وزیروں کے محلات، بیوروکریسی کی تنخواہوں اور وزرائے اعظم و صدور کے پروٹو کولز اور شاہانہ عیاشیوں کی نذر ہوا۔
وفاقی حکومت کے قرضوں میں مارچ 2024ء سے جون 2025 ء تک مقامی سطح پر 11 ہزار 796ارب روپے اور بیرونی سطح پر 1282 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یوں وفاقی قرضہ 64 ہزار 810 ارب سے بڑھ کر 77 ہزار 888 ارب روپے تک جا پہنچا۔ یہ اضافہ محض حسابی نہیں یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ اس قوم کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔ افسوس کہ حکمران طبقے کے رویے میں ذرا سی شرمندگی نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا خزانہ انہی کی وراثت ہے اور قوم کی رگوں سے نچوڑا گیا خون انہی کی ضیافتوں کے لیے بہایا جاتا ہے۔یہی ہے وہ تضاد جو اس ملک کو لے ڈوب رہا ہے۔ ایک طرف غریب کی جھونپڑی میں فاقہ کشی کی آگ جلتی ہے دوسری طرف اشرافیہ کے ڈرائنگ روموں میں عیش و عشرت کی محفلیں برپا ہیں۔ پاکستان کا ہر نیا قرض صرف معیشت کو نہیں ڈبوتا بلکہ اخلاقیات کو بھی دفن کرتا ہے۔ قرضے بڑھتے رہیں گے اور عیاشیاں جاری رہیں گی۔ جب تک اس قوم میں وہ غیرت پیدا نہیں ہوتی جو یزیدیت کے محلات کے سامنے حسینؓ کے قافلے کی طرح کھڑی ہو جائے۔یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ یہ قوم اب مزید برداشت کے قابل نہیں رہی کہ چند ہزار خاندانوں کے عیش و عشرت کے لیے 24 کروڑ عوام کی ہڈیاں پسوائی جائیں۔ قانون، انصاف اور مساوات کا تقاضا یہ ہے کہ سب کے لیے ایک ہی معیار ہو۔ اگر عام آدمی کو اپنے گھر کی حفاظت خود کرنی ہے تو ریٹائرڈ جج، وزیر اور جنرل بھی اپنی سیکورٹی کا بندوبست خود کریں۔ اگر عام ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد چند ہزار پنشن ملتی ہے تو بڑے منصب پر بیٹھے افراد کے لیے بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔بقول حبیب جالب :
عوام کیا چاہتے ہیں؟ روٹی، کپڑا، مکان
حکمران کیا چاہتے ہیں؟ بس اپنی جان کی امان
خدارا ۔۔ اب یہ ملک مزید کسی تجربے یا تماشے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ریاست کو اشرافیہ کی چراگاہ نہیں عوام کی امانت سمجھ کر چلایا جائے۔ ورنہ یاد رکھیے کہ تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی۔

یہ بھی پڑھیں