بیس نومبر 1979ء کی وہ سیاہ صبح جب مکہ مکرمہ کی فضا ء میں فائرنگ کی گونج نے پوری امت مسلمہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ جہیمان بن محمد العتیبی ایک سعودی انتہا پسند اپنے 400سے 500مسلح ساتھیوں کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل ہوا۔ وہ چیخ رہا تھا کہ سعودی شاہی خاندان غیر اسلامی ہے اور اس کا بہنوئی محمد القحطانی ’’مہدی‘‘ہے۔ انہوں نے خانہ کعبہ کے مقدس احاطے پر قبضہ کر لیا۔ ہزاروں زائرین کو یرغمال بنایا اور دنیا کو اپنا پیغام دینے کی کوشش کی۔ یہ حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا یہ خانہ خدا پر حملہ تھا جو ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے۔ سعودی بادشاہ خالد بن عبدالعزیز جو اس وقت عرش پر براجمان تھے نے فوری طور پر مدد طلب کی۔ ان کی آواز میں بے چینی تھی کیونکہ یہ نہ صرف سعودی عرب کی بلکہ پوری امت مسلمہ کی توہین تھی۔دوسری طرف پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق صدر تھے جو 1977ء کے مارشل لا کے بعد ملک کے حکمران بن چکے تھے۔ انہیں سعودی عرب کی درخواست موصول ہوئی تو انہوں نے لبیک اللھم لبیک کی آواز بلند کی اور بغیر کسی تاخیر کے پاکستانی اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے کمانڈوز کو تیار کیا۔ یہ کمانڈوز جو اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے لئے مشہور تھے فوری طور پر سعودی عرب روانہ ہوئے۔ آپریشن کا نام ’’عمل حرمین‘‘رکھا گیا۔ سعودی فورسز کے ساتھ مل کر پاکستانی کمانڈوز نے مسجد الحرام کو صاف کرنے کی ایک مربوط حکمت عملی بنائی۔ دو ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد حملہ آوروں کو شکست دی گئی۔ تقریباً 250دہشت گرد مارے گئے اور باقی گرفتار ہوئے۔ سعودی حکام نے بعد میں تسلیم کیا کہ پاکستانی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ ہوتا۔
جنرل ضیاء الحق نے اس موقع پر بیان دیا کہ حرمین کی حفاظت پاکستان کی قومی ذمہ داری ہے اور ہم ہمیشہ تیار ہیں۔ یہ واقعہ پاک سعودی بھائی چارے کی ایک زندہ مثال بن گیا جو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔یہ تاریخی واقعہ آج کے دفاعی معاہدے کی بنیاد ہے۔ 17ستمبر 2025ء کو ریاض میں دستخط ہونے والا یہ معاہدہ جو ’’اسٹریٹیجک میوچل ڈیفنس پیکٹ‘‘کہلاتا ہے دونوں ممالک کی دفاعی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ پاکستان، جو ہمیشہ سے حرمین شریفین کا محافظ سمجھا جاتا رہا ہے اب سعودی عرب کا سرکاری پارٹنر بن گیا ہے۔ معاہدے کی شقوں میں واضح ہے کہ کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ نہ صرف موجودہ خطرات جیسے دہشت گردی، علاقائی تنازعات اور جارحیت کا مقابلہ کرے گا بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو انضمام دے گا۔ سعودی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق یہ معاہدہ دہائیوں سے جاری مشترکہ فوجی تربیتوں، کثیر الجہتی مشقوں اور دفاعی صنعتی تعاون کی توسیع ہے۔اس معاہدے کی کامیابی کا سب سے بڑا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جاتا ہے۔ آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد انہیں فیلڈ مارشل کا اعزاز بخشا گیا جو پاکستان آرمی کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے۔ فیلڈ مارشل منیر کی دور اندیش قیادت نے پاک فوج کو دنیا کی نمبر ون فورس بنا دیا ہے۔ حال ہی میں مئی 2025ء کے پاک بھارت تنازعے میں پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود جو حجم میں دس گنا بڑی بھارتی فوج کو کرارا جواب دیا۔ بھارت نے ڈرون اور میزائل حملے کیے لیکن پاک فوج کی فوری جوابی کارروائی نے انڈیا کے رافیل سمیت چھ طیاروں کو مار گرایا اور ہر میدان میں بھاری نقصان پہنچایا۔ چار دن کی لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوئی مگر پاکستان کی فتح نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا۔ اس فتح نے پاکستان کے قومی فخر کو آسمان چھو لیا اور عالمی سطح پر وقار میں اضافہ کیا۔ فیلڈ مارشل منیر نے ثابت کیا کہ پاک فوج تعداد کی نہیں بلکہ ایمانی طاقت، عزم اور حکمت عملی کی مالک ہے۔سعودی عرب کے لئے یہ معاہدہ ایک بڑا اسٹریٹیجک موڑ ہے۔ اسرائیل کے 9ستمبر 2025ء کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حملے نے جہاں حماس کے رہنمائوں کو نشانہ بنایا گیا وہیں عرب دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ حملہ نیتن یاہو کی حکومت کی بے لگام جارحیت کا مظہر تھا جس نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل سے کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ قطر جیسے عرب ملک پر براہ راست حملہ ایک انتہائی قدم تھا جس نے عرب رہنمائوں کی آنکھیں کھول دیں۔ اس حملے کے چند دنوں بعد سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ سائن کر لیا جو ایک نیوکلیئر چھتری کی مانند کام کرے گا۔ اب پاکستان سعودی عرب میں بیلسٹک اور کروز میزائل نصب کرے گا جو جوابی حملے کی صلاحیت کو بہت بڑھا دے گا۔ یہ علاقائی توازن اسرائیل کا حساب کتاب الٹنے والا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاملے میں سب سے پہل کی اور پاکستان کو دنیا کا سب سے قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا۔ قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے ممالک بھی جلد ایسے اقدامات اٹھائیں گے کیونکہ امریکہ پر ان کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ملٹی پولر عالمی نظام میں جہاں امریکہ کی بالادستی کمزور پڑ رہی ہے سعودی عرب جیسی معاشی طاقت اور پاکستان جیسی عسکری قوت کا اتحاد ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔
پاکستان نے محدود معاشی وسائل میں بھارت جیسے معاشی اور فوجی طور پر طاقتور ملک کو شکست دی جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا۔ اسرائیل کے دوحہ حملے نے عرب ممالک کی سوچ بدل دی کہ نیتن یاہو سے ہر قسم کا خطرہ ہو سکتا ہے اور امریکہ پر لمبے عرصے تک بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کی اسرائیل کو دی جانے والی غیر مشروط مدد اسے خطے میں تنہا کر دے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اس کا بخوبی اندازہ ہے مگر صیہونی لابی کی طاقت ابھی بھی امریکہ میں غالب ہے۔ چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں توازن قائم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں لیکن وہ اپنے مفادات کے لیے دوسرے ممالک کو استعمال کرتی ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والے فوائد محدود اور باہمی ہوتے ہیں جبکہ پاک سعودی شراکت داری گہری، دیرپا اور بھائی چارے، مذہب اور نظرئیے پر مبنی ہے۔معاہدے کے عملی اطلاق کی بات کریں تو پاک فوج سعودی عرب میں پانچ میزائل رجمنٹس قائم کرے گی جو بیلسٹک اور کروز میزائلوں پر مشتمل ہوں گی۔ اس کے علاوہ ایک مشترکہ ایئر ڈیفنس سسٹم بھی بنایا جائے گا جو سیٹلائٹ کی مدد سے چلے گا اور اینٹی ایئر کرافٹ میزائلوں سے لیس ہوگا۔ یہ اقدامات نہ صرف حرمین شریفین بلکہ پورے سعودی عرب کی حفاظت کو مزید مستحکم کریں گے اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔ پاکستان کی دفاعی صنعتی صلاحیت خاص طور پر میزائل ٹیکنالوجی سعودی عرب کو منتقل ہو گی جو دونوں ممالک کی خودمختاری اور دفاعی خود کفالت کو بڑھائے گی۔ یہ معاہدہ نہ صرف دفاعی بلکہ اقتصادی اور سیاسی تعاون کو بھی فروغ دے گا کیونکہ سعودی عرب کی معاشی طاقت اور پاکستان کی عسکری مہارت مل کر ایک ناقابل شکست جوڑ بن جائیں گی۔یہ معاہدہ امن کے فروغ اور علاقائی و عالمی استحکام کا ایک اہم ذریعہ بنے گا۔ 1979ء کے اس واقعے سے لے کر آج تک پاکستان نے ہمیشہ اسلامی دنیا کے محافظ کا کردار ادا کیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ بھائی ممالک کی حفاظت کا ضامن ہے۔ یہ اتحاد خطے کے لیے خوشخبری ہے اور امید ہے کہ دیگر عرب ممالک بھی اس راہ پر چلیں گے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور سعودی عرب کو ہمیشہ مضبوطی اور سلامتی عطا فرمائے۔آمین ۔