اڑان پاکستان،چند ماہ قبل یہ نوید بلکہ نوید مسرت سنائی گئی تھی کہ پاکستان … اڑان… بھر چکا ہے۔ لیکن اس کے بعد پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی اور نہ ہی کوئی خیر خبر موصول ہوئی کہ پاکستان کتنے فٹ کی بلندی پر پرواز کررہا ہے۔ یا کہیں خدانخواستہ لینڈنگ پوزیشن میں تو نہیں آگیا‘ اور کیا دوران اڑان ڈانوں ڈول تو نہیں ہو رہا‘ دکھائی یہی دے رہا ہے کہ وطن عزیز کی فضائیں ابر آلود اور تیز جھکڑوں کی زد میں ہیں ایک سے ایک بڑھ کر ہوشربا انکشاف، قرضوں میں اربوں ڈالر کا تاریخی اضافہ۔ بیروزگاری میں اضافہ‘ مہنگائی میں ‘ گل گھوٹ اضافہ‘ ادویات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ۔ حکومت نفع اور عوام خسارے میں جارہی ہے۔ سرکاری اداروں کےاعدادو شمار کے مطابق ہر طرف خوشحالی اور ہریالی ہے اور نہ جانے ان کے کان سماعت اور آنکھیں بصیرت سے کیوں محروم ہیں کہ انہیں عوام کی خالی جھولیاں اور جیبیں دکھائی نہیں دے رہیں۔ زندگی کی گاڑی گھسیٹ گھسیٹ کر بھی نہیں چل رہی۔ ایک گڑھے سے نکلتی ہے دوسرے میں جاگرتی ہے۔ دال چاول آتے ہیں تو گھی ختم۔ گھی آتا ہے تو آٹے کا کنستر خالی ہوچکا ہوتا ہے۔ جنرل سٹورز پر دو یا تین کلو آٹا خریدنے کی تعداد میں اضافہ ہو رہا کیونکہ اب وہ اکٹھا دس بیس کلو آٹا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ معمولی نوعیت کی بیماری بھی دیہاڑی دارمزدور اور لگی بندھی تنخواہ والوں کے لئےکسی کٹھن آزمائش سے کم نہیں ہوتی۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار سے کون آگاہ نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کی جھڑکیں ‘ پیرا میڈیکل سٹاف کے دھکے‘ قدم قدم پر تذلیل‘ حاصل پھر بھی کچھ نہیں۔ جینا تو مشکل تھا ہی اب مرنا بھی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ پچاس ہزار روپے سے زائد کی قبر تیار ہو رہی ہے۔ اگر کسی مزدور یا ریڑھی بان سے یہ پوچھ لیں کہ بھائی گزارہ ہو رہا ہے؟ تو جواب سے پہلے اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں۔
کسی زمانے میں ایک سفید پوش طبقہ ہوا کرتا جسے درمیانہ طبقہ بھی کہا جاتا تھا‘ اب سفید پوش یا درمیانہ طبقہ بھی صرف طبقہ ہی رہ گیا ہے۔ وسائل سمٹ رہے ہیں اور مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ اڑان پاکستان کا بھونڈا دعویٰ بھی شائد دیگر ان گنت دعوئوں کی طرح عوام کی یادداشتوں میں کہیں کھو گیا ہے ۔ عوام بے چاری کیا کرے ۔ سو سو سیاپے ہمہ وقت اس کی دہلیز پر پائوں پسارےرہتے ہیں۔ دعویٰ تھا کہ اڑان پاکستان معاشی ترقی کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا ‘ ملک اونچی اڑان کے لئے ٹیک آف کرچکاہے اور قوم اب رکاوٹ برداشت نہیں کرے گی۔ اڑان پاکستان پروگرام کی صرف شرلیاں ہی بیان کی ہیں۔ عوام اگر اس کی تفصیل سے آگاہ ہو جائیں تو شائد انہیں رات کو خوشی کے مارے نیند ہی نہ آئے۔
پاکستان نے اڑان بھرلی ہے یا نہیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں تقریباً اٹھائیس لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ممالک اڑان بھرچکے ہیں۔ ان نوجوانوں میں ڈاکٹر‘ انجینئر‘ آئی ٹی ایکسپرٹ‘ بینکرز‘ پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر اور چارٹر اکائونٹنٹ شامل ہیں۔ زندگی کو کبھی گاڑی سے تشبیع دی جاتی تھی لیکن اڑان پاکستان کے باوجود زندگی کسی ٹوٹے پھوٹے ریڑھے کی طرح چل رہی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کی اڑان ملک کی معاشی صورتحال اور مستقبل کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر انہیں اپنے ملک میں مناسب روزگار کے مواقع میسر ہوں تو انہیں کیا پڑی ہے کہ و ہ اپنے اہل خانہ سے ہزاروں میل دور پردیس کی صعوبتیں برداشت کریں۔ نامساعد حالات کے باعث تقریباً دو ہزار چھوٹی بڑی فیکٹریاں بندہوچکی ہیں۔ اندیشہ ہےکہ آنے والے دنوں میں ان میں مزید اضافہ ہوگا۔ فیکٹریوں کی بندش لاکھوں افرادکی بیروزگاری اور ایک اندازے کے مطابق کروڑوں افراد کی معاشی حالت کی تباہی کا باعث بنے گی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غربت کی شرح پچاس فیصد تک جانے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ جس سے ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی جائے گی۔ اگر خدانخواستہ صورتحال یہی رہی تو یہ آبادی کہیں زمین کے نیچے ہی نہ چلی جائے۔
حکومتی عیاشیوں کے باعث پاکستان 94 ہزار197 ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ یہ قرض کون ادا کرے گا کیونکہ عوام میں تو اب مزید ستم سہنے کی سکت نہیں رہی۔ اپنے لئے… چیپڑیاں تے نالے دو دو… جبکہ عوام کو جھوٹی تسلیاں ۔ حکومت کا سیلاب متاثرین کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق‘ جنہیں بجلی کے بلوں میں صرف ایک ماہ کا ریلیف دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ بھی آئی ایم ایف کی رضامندی سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے لئے طویل عرصہ درکار ہے۔ ایک ماہ بعد کون سا متاثرین کی لاٹریاں یا کمیٹیاں نکل آئیں گی کہ وہ اپنے بل دے سکیں گے۔ کیا چیئرمین سینٹ‘ سپیکر قومی اسمبلی‘ وزراء‘ ججوں اور ممبران اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی کئی لاکھ اضافہ آئی ایم ایف سے پوچھ کر کیا گیا تھا۔ پیارے پاکستانیو‘ خوابوں اور خیالوں میں … اڑان پاکستان … کے مزے لیں اور جھوم جھوم کر ‘ میں … اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال … کا ورد کریں۔