صدر ٹرمپ کی مسلم دشمنی اب اپنی انتہا کو چھو رہی ہے جیسے کوئی زہریلا طوفان جو ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہو۔ کبھی وہ کانگریس کی پہلی مسلم رکن الہان عمر پر زہر اگلتے ہیں، انہیں سکم کہہ کر ان کی صومالی جڑوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں تو کبھی لندن کے مئیر صادق خان کو دنیا کا بدترین مئیر قرار دے کر نفرت کا پرچار کرتے ہیں۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جو سعودی عرب، قطر اور کویت سے اربوں ڈالر کا تیل، سرمایہ کاریاں اور پرتعیش تحائف وصول کرتے ہیں مگر پھر انہی کے خلاف سازشیں رچتے ہیں۔ یہ اسی تھالی میں چھید کرنے کا عمل ہے جس میں وہ کھاتے ہیں۔ قطر پر اسرائیلی حملہ کروایا، ایران پر حملوں کی سرپرستی کی، شام اور فلسطین کو آگ و خون میں نہلایا۔ انسانیت کی کوئی فکر ان کے دل میں نہیں۔ کاش فلسطین میں مرتے بچوں کی چیخیں ان کے اپنوں کی ہوتیں تو شاید انہیں احساس ہوتا۔ فلسطین کی ماں کا درد ان کے اپنے گھر میں ہوتا تو شاید وہ سمجھتے۔ نیتن یاہو ان کی چھتری تلے کھلے آسمان مظالم کی انتہا کر رہا ہے۔ اور اب افغانستان کو نئی دھمکی۔ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ بگرام ایئربیس امریکہ کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ یہ ایئر بیس وہ اس لیے واپس لینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ چین کی جوہری تنصیبات سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ گزشتہ دنوں برطانیہ کے دورے پر برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے طالبان کو بگرام مفت میں دے دیا لیکن اب اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے اس اعلان پر کیئر اسٹارمر کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
2021 ء میں امریکہ نے 20سال بعد بگرام طالبان حکام کے حوالے کیا تھا۔ اب ٹرمپ اسے اور چھوڑا گیا اسلحہ واپس لینے کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں اور کھل کر دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر بگرام نہ ملا تو نجام برا ہو گا۔ کیا یہ نئی جنگ کا اعلان ہے؟ کیا افغانستان جو 20سال کی تباہی سے گزر چکا پھر امریکی بموں کا نشانہ بنے گا؟ٹرمپ کی یہ حرکتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی فہرست کا حصہ ہیں۔ الہان عمر جو امریکہ کی کانگریس کی پہلی مسلم رکن ہیں ان پر حملے کیوں؟ الہان نے جواب دیا کہ میں مسلم صومالی اور امریکی ہونے پر فخر کرتی ہوں۔ صادق خان کو بدترین مئیر کہہ کر برطانوی ضیافت سے خارج کروایا۔ یہ کیا ہے؟ مسلم ہونے کی سزا؟ یہ نفرت 2017ء کے مسلم بین سے شروع ہوئی جب انہوں نے کئی مسلم ممالک پر پابندی لگائی۔ آج فلسطین میں 60 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے جن میں ہزاروں بچے ہیں۔ ٹرمپ کی خاموشی یا حمایت اس قتل عام کو ہوا دیتی ہے۔ نیتن یاہو کی ہر حرکت چاہے غزہ پر بمباری ہو یا شام و لبنان پر حملے ٹرمپ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔قطر جو امریکہ کا اتحادی ہے، اس پر اسرائیلی حملہ ہوا۔ 9 ستمبر 2025ء کو دوحہ میں حماس رہنماں کی میٹنگ پر اسرائیلی جیٹس نے بمباری کی چھ افراد مارے گئے۔ قطر جو غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں ثالث ہے اسے کیوں نشانہ بنایا؟ ٹرمپ نے صرف ناراض ہونے کی بات کی لیکن کیا کیا؟ کچھ نہیں۔ یہ حملہ امریکہ کی ساکھ کو دا پر لگا رہا ہے کیونکہ قطر میں امریکی اڈہ الودید ہے۔ ایران پر بھی ٹرمپ کی پالیسی نے حالات خراب کیے۔ جون 2025ء میں امریکہ‘اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا۔ ایران نے جواباً قطر کے الودید اڈے پر میزائل داغے جو امریکہ نے روک لیے لیکن یہ سلسلہ جاری ہے۔ شام میں بشار الاسد کے خلاف حملے فلسطین میں نیتن یاہو کی بے لگام کارروائیاں سب ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کا نتیجہ ہیں ۔سعودی عرب، قطر، کویت اربوں ڈالر دیتے ہیں۔ تیل بیچتے ہیں لیکن ٹرمپ انہیں بیچ دیتے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جو فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں اسرائیلی حملوں سے ناراض ہیں۔ بگرام کی کہانی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
2021 ء میں بائیڈن نے یہ ایئر بیس چھوڑ دیا اور طالبان نے قبضہ کیا۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ مفت میں دیا گیا اور اب واپس لینا چاہیے کیونکہ یہ چین کی جوہری تنصیبات سے قریب ہے۔ 18ستمبر 2025ء کو کیئر اسٹارمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم اسے واپس لے رہے ہیں۔ طالبان نے انکار کیا اور کہا کہ بگرام افغانستان کا ہے۔ ٹرمپ نے 21ستمبر کو ٹروتھ سوشل پر دھمکی دی کہ اگر نہ دیا تو بہت برا ہو گا۔ کیا یہ دوبارہ جنگ کی تیاری ہے؟یہ سب امریکہ کی خطے میں کمزور ہوتی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی نے اتحادیوں کو الجھن میں ڈال دیا۔ قطر پر حملہ ہوا ٹرمپ نے صرف احتیاط کی نصیحت کی۔ سعودی عرب ایران سے چین کی مدد سے تعلقات بہتر کر رہا ہے۔ اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی سب کہتے ہیں کہ اسرائیل ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ ایران حملوں کے باوجود مضبوط ہو رہا ہے۔ چین افغانستان میں اثر بڑھا رہا ہے۔ پاکستان جو بگرام کی وجہ سے پھر الجھ سکتا ہے کیا کرے؟ٹرمپ کی حرکتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔
فلسطین میں بچوں کی لاشیں، غزہ میں قحط، لبنان میں ہزاروں ہلاکتیں یہ سب ٹرمپ کی خاموشی سے ہو رہا ہے۔ الہان عمر اور صادق خان پر حملے اسلاموفوبیا اور نسلی تعصب ہیں۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ڈیل میکر ہیں لیکن ان کی ڈیلز خون سے لکھی جا رہی ہیں۔ خطے کی صورتحال کمزور ہو رہی ہے کیونکہ امریکہ کی ساکھ ختم ہو گئی۔ 1991ء کی خلیجی جنگ کے بعد خلیجی ممالک نے امریکی اڈوں کی میزبانی کی بدلے میں تحفظ ملا۔ آج وہ تحفظ کہاں؟ قطر پر حملہ ہوا، ایران نے جواب دیا مگر ٹرمپ صرف باتیں کرتے رہے۔ حل کیا ہے؟ مسلم ممالک کو متحد ہونا چاہیے۔ او آئی سی، عرب لیگ کو فعال کرنا چاہیے۔ فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھانی چاہیے۔ ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب سفارت کاری سے دینا چاہیے۔ پاکستان جیسے ممالک توازن قائم کریں۔ بگرام کا معاملہ مذاکرات سے حل ہو۔ آخر میں ٹرمپ کی انسانیت سوز حرکتیں تاریخ میں ثبت ہوں گی۔ وہ فلسطین کے بچوں کی لاشوں پر چلتے ہیں، الہان عمر اور صادق خان کو دباتے ہیں، قطر اور ایران کو نشانہ بناتے ہیں، افغانستان کو دھمکی دیتے ہیں۔ کاش وہ سمجھیں کہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں۔ فلسطین کی مائیں، افغانستان کے بچے سب انسان ہیں۔ ٹرمپ کی نفرت خطے کو کمزور کر رہی ہے اور امریکہ کو تنہا۔ وقت ہے کہ عقلمندی غالب آئے، نفرت پر۔