Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

کیا دنیا بدل رہی ہے؟

فلسطین… اسرائیل کی جارحیت‘ بربریت اور انسانیت سوز مظالم کی ایسی داستان جسے احاطہ تحریر میں لاتے ہوئے مورخ کے ہاتھ کئی بار کانپیں گے۔ دل خون کے آنسو روئے گا۔ کھنڈرات بنی ہوئی بلند و بالا عمارتیں‘ کٹے پھٹے انسانی جسم‘ بھوک پیاس سے بلکتے بچے‘ بزرگ اور خواتین۔ ہاتھ باندھے کر آنسوئوں کے ساتھ چیخ چیخ کر دہائیاں دے رہے ہیں کہ ہمیں اسرائیل کی بربریت سے بچائو‘ ہمیں خوراک اور پانی پہنچائو‘ لیکن دنیا کی بے حسی کہ صرف بند کمروں میں بیٹھ کر ہی اسرائیل کے مظالم کی مذمت کی گئی۔ جس سے اسرائیل کا حوصلہ مزید بلند ہوا اور بے گناہ اور نہتے فلسطینیوں پر مظالم میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری و ساری ہے۔ روزانہ فضائی اور زمینی حملوں میں غزہ کے فلسطینی شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج بندوق کی نوک پر غزہ کو خالی کرا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک چالیس فیصد شہریوں کو شہربدر کیا جاچکا ہے۔ فلسطین میں ایک شدید انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جو دنیا میں کیے جانے والے مظالم کی ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔
اندازہ ہے کہ اکتوبر2023ء سے اسرائیلی حملوں میں تقریباً ستر ہزار فلسطینی شہید جبکہ دو لاکھ سے زائد زخمی اور لاکھوں گھر سے بے گھر ہوچکے ہیں۔ بیس ہزار سے زائد بھوک پیاس سے بلکتے بچوں کو شدید غذائی قلت اور قحط کا سامنا ہے۔ ان وحشیانہ مظالم کو عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے بس اور مجرمانہ خاموشی گردانا جارہا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی ردی کا کاغذ ہی ثابت ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کی خاموشی اسرائیل کے مذموم اداروں کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ ’’پھوکے‘‘ مذمتی بیانات اور ’’دھیمے سروں‘‘ میں تشویش سے مظلوم فلسطینیوں کی کیا خاک دادرسی ہوگی۔ یہی وہ اسباب ہیں جن کے باعث اسرائیلی جارحیت کا دائرہ کار لبنان‘ شام‘ یمن اور اب قطر تک وسیع ہوچکا ہے۔ جس سے پرامن ممالک اور دنیا بھر کے سکون اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس ضمن میں پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور ہر فورم پر فلسطینیوں کے حقوق کے لئے پاکستان کی آواز بلند ہو رہی ہے۔
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے دوحہ کانفرنس میں اسرائیل کے مکمل بائیکاٹ کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستان نے اسرائیل کی بربریت کے خلاف اپنا واضح موقف پیش کر دیا ہے۔ دیگر اسلامی ممالک اور اقوام متحدہ کا بھی یہ فرض اولین ہے کہ وہ اسرائیل کو بدلتی ہوئی صورتحال اور ہوائوں کا رخ دیکھ کر فلسطینیوں پر مزید مظالم سے روکے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسرائیل علاقائی امن کو تباہ و برباد کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی آگ میں دھکیل دے۔ امریکہ اور برطانیہ کی اسرائیل کے ساتھ ’’پکی یاری‘‘ ہے۔ اب مسلم ممالک کو بھی آپس میں ’’یاریاں‘‘ نبھانی ہوں گی۔ پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے لئے یہ آزمائش کی گھڑیاں ہیں ۔ کیونکہ اقوام متحدہ بھی صرف ’’ڈاہڈے‘‘ کے ساتھ ہی کھڑا ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ محلے کی اس ’’ماسی‘‘ کا کردار ادا کر رہاہے جو دونوں طرف لگاتی ہے اور محلے داروں کو یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔ اس کا اندازہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس درفطنی سے لگایا جاسکتا ہے کہ … قطر ہمارا اتحادی ہے … اسرائیل کو محتاط رہنا ہوگا جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہمارا بہترین اتحادی ہے۔ زور کس پر ہوا ’’بہترین‘‘ پر۔
صدا لحمد للہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹرٹیجک دفاعی معاہدہ طے پاچکا ہے۔ پاکستان کو یہ سعادت بھی حاصل ہوگئی ہے کہ وہ حرمین شریفین کے تحفظ میں بھی سعودی عرب کا شراکت دار بن گیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کی بنیاد1960 ء کے عشرے میں شاہ فیصل نے رکھی تھی تاہم فوجی تعاون کا باقاعدہ آغاز1967 ء میں دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد ہوا تھا۔1970 ء کی دہائی کی دونوں ممالک میں فوجی تعاون کے حوالے سے مزید پیش رفت ہوئی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے نے ہندوستان اور اسرائیل میں صف ماتم بچھا دی ہے ۔ کیونکہ سعودی پاک معاہدہ صرف دفاعی امور تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ دونوں ممالک میں سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اکتوبر میں سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطح کا تجارتی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور اگلے مرحلے میں پاکستان کے بڑے کاروباری شہروں کی چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔ اس صورتحال پر عرف عام میں یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ … کیا دنیا بدل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں