Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

آئین‘ جمہوریت اور بلدیاتی ادارے

اردو میں سے جسے‘ نظام اور انگلش میں جسے سسٹم‘ کہا جاتا ہے وہ بھی آئین اور جمہوریت کی طرح ایک بے معنی اور لاحاصل حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ نظام‘ سسٹم‘ جمہوریت اور آئین بس اب کتابوں‘ باتوں‘ بحث مباحثوں اور ٹائم پاس کرنے کے لئے ہی رہ گئے ہیں۔ کہیں بھی جمہوریت دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی آئین‘ نظام یا سسٹم تو کہیں ٹانواں ٹانواں بھی نہیں پایا جارہا۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا عوام کی یاددہانی کے لئے ان ‘ ان دیکھی نعمتوں کا تذکرہ اکثر کرتے رہتے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے بھی اگر درخوراعتنا نہ تصور کیے جائیں تو سسٹم‘ یا نظام خود ہی کسی عمر رسیدہ اور بوسیدہ عمارت کی طرح زمین بوس ہو جاتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے میں اس کی کئی مثالیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے بھی عام آدمی ہی تسلیم کرتا ہے۔ ورنہ اشرافیہ تو ان فیصلوں کو ہوا میں ایسے اڑا دیتی ہے جیسے بچے پانی کے بلبلے اڑاتے ہیں۔ سن شعور سے ہی سنتے آئے ہیں کہ جہاں عدالتوں اور قانون کا احترام نہ کیا جائے وہ ملک اور معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ عوام رُل جاتی ہے لیکن اشرافیہ بوقت ضرورت پھر بھی ان میں گھل مل جاتی ہے۔ قانون تو اب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے جو قانون کی جتنی دھجیاں اڑائے گا۔ حکم عدولی کرے گا۔ اسے اتنا ہی بہادر اور جوان مردسمجھا جائے گا۔ پہلے جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ اب اقتدار‘ اختیار اور پیسہ سر چڑھ کر بول رہے ہیں۔ آپ کے پاس دولت ہے۔ ایم این اے اور ایم پی اے سے تعلق ہے تو تھانہ‘ کچہری اور ادارے آپ کے ہی ہیں۔ جائز ناجائز کا تصور باقی نہیں رہا۔ بس آپ کے پاس ویگو ڈالا‘ لینڈ کروز اور سجے کھبے دو تین کلاشنکوف بردار باڈی گارڈ ہونے چاہئیں۔ ایک زمانے میں جب دھاک بٹھانے کے لئے یہ سہولیات دستیاب نہیں تھیں تو مونچھوں سے کام چلایا جاتا تھا۔ لیکن اب کام کے لئے مونچھیں شرط نہیں ہیں۔ کبھی مجسٹریٹ کے عہدے کا بھی دبدبہ‘ ٹہکا اور اس کے فیصلوں پر بھی بلاحیل و حجت عملدرآمد کیا جاتا تھا۔ لیکن اب قانون کی پاسداری کا یہ عالم ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو بھی اہمیت نہیں دی جاتی اور یہ کارہائے نمایاں کوئی اور نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی سرانجام دے رہی ہیں۔
اسی تلخ حقیقت کا اظہار گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیا۔ انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق سی ڈی اے کے تمام اختیارات میٹروپولیٹن کارپوریشن کو منتقل ہونا تھے۔ لیکن آج بھی یہ اختیارات کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی بورڈ استعمال کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں یہ اختیارات منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ آئین یہ بھی کہتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے ہی اپنے اختیارات استعمال کریں۔ لیکن پانچ سالوں سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جارہے۔ جبکہ سپریم کورٹ اس ضمن میں ایک اور اسلام آباد ہائیکورٹ چارفیصلے دے چکا ہے لیکن حکومت ان فیصلوں پر عملدرآمد سے پہلوتہی کر رہی ہے۔ فاضل جسٹس محسن اختر کیانی کے ان ریمارکس کے بعد سٹم اور نظام کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے پاکستان کا کوئی ایک ادارہ بھی بتائیں جو اپنا کام سنبھالنے کے قابل رہا ہو۔ عدالتوں سمیت کوئی ادارہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہا۔ ماتحت عدالتوں کی حالت زار سب کے سامنے ہے۔ اگر کسی کو قانون وارہ نہیں کھاتا تو اسے ایک سائیڈ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ جو کچھ عام آدمی کے ساتھ ہو رہا ہے وہی حال عدالتوں اور ججز کا بھی ہے۔ ایسے میں صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے۔
فاضل جسٹس محسن اختر کیانی نے سسٹم اور نظام کو وہ آئینہ دکھایا ہے۔ جو کوئی بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔ یہاں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئین‘ جمہوریت اور قانون کا کیا حشر نشر کیا جارہا ہے ۔ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری قرا ر دیا جاتا ہے لیکن یہ نرسری کئی برسوں سے پھل پھول نہیں رہی۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بلدیاتی انتخابات کسی بھی سیاسی پارٹی کی ترجیح نہیں رہے۔ پنجاب کی صوبائی حکومت سال میں دو تین بار بلدیاتی آرڈیننس کا چورن بیچ رہی ہے۔ جس کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ بلدیاتی آرڈیننس میں حکومتوں نے حسب منشا تبدیلیاں کیں۔ جمہوری حکومتوں میں تو بلدیاتی انتخابات کرانے سے ہمیشہ گریز کیا گیا لیکن عسکری حکمرانوں کے دور میں بلدیاتی انتخابات دھوم دھام کے ساتھ کرائے گئے۔ جن کا کریڈٹ فیلڈ مارشل ایوب خان‘ جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کو جاتا ہے۔ ان ادوار میں بلدیاتی نمائندوں کو لامحدود اختیارات حاصل تھے۔ جن سے عوام کے بنیادی مسائل بھی کسی حد تک حل ہوئے۔
آئین کہتا ہے کہ جمہوریت کو فروغ دیا جائے اور یہ فروغ بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہی دیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں پر بلاتاخیر عملدرآمد کرتے ہوئے اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ ورنہ آئندہ جمہوریت اور قانون کا ڈھنڈورا نہ پیٹا جائے۔

یہ بھی پڑھیں