Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

معلوم … یا … نامعلوم

آج کی نوجوان نسل کو … سلیمانی ٹوپی… کے حوالے سے شائد آگاہی نہ ہو لیکن ایک دور میںسلیمانی ٹوپی کا بڑا چرچا ہوا کرتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ اگر بندہ سلیمانی ٹوپی پہن لے تو وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن سلیمانی ٹوپی والے بندے کو سب دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے والے پاکستانی وفد میں شامل خاتون شمع جونیجو نے بھی سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی کہ وہ کئی دن کے دورے کے دوران کسی کو بھی دکھائی نہیں دیں اور جیسے ہی انہوں نے سلیمانی ٹوپی اتاری ہر طرف تھرتھلی مچ گئی کہ یہ خاتون کون ہیں؟ شمع جونیجو کوئی غیر معروف خاتون نہیں ہیں۔ ان کے شوہر بھی ایک سابق بیورو کریٹ ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے لندن میں مقیم ہیں۔ شمع جونیجو کی وفد میں شمولیت نے صورتحال کو پراسرار بنا دیا ہے اور ان گنت سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں سوالات کی شرح ‘ شرح پیدائش سے بھی کہیں زیادہ ہے لیکن ان سوالات کے جوابات متضاد اور مبہم دیئے جارہے ہیں جن پر کوئی بھی یقین نہیں کر رہا ۔
چند دن قبل ایک افغانی نوجوان جہاز کے ٹائر والی جگہ میں بیٹھ کر ہندوستان پہنچ گیا تھا۔ جس کا کسی کو پتہ نہیں چلا تو کیا شمع جونیجو بھی جہاز کے ٹائر والی جگہ میں بیٹھ کر مختلف ممالک کے دوروں کے دوران وفد میں شامل ہوتی رہی ہیں۔ صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان کے بیرون ممالک دوروں پر جانے والی شخصیات کے نام دونوں ایوانوں کی پروٹوکول برانچ وزارت خارجہ کے پروٹوکول سیکشن میں بھجواتی ہے جو بلاحیل و حجت انہیں سفارتخانے کو ارسال کر دیتی ہے۔ فہرست میں نام بھی کسی نہ کسی اعلیٰ شخصیت کے ایما پر ہی کیے جاتے ہیں۔ شمع جونیجو دوہری شہریت کی حامل خاتون ہیں۔ اعلیٰ ایوانوں تک رسائی اور شناسائی حاصل کرنے کے لئے طویل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران معروف ماڈل اور ٹک ٹاکر حریم شاہ کی وزارت خارجہ میں ’’دھڑلے‘‘ کے ساتھ آمدورفت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ حریم شاہ صرف وزارت خارجہ تک ہی محدود رہی اور شمع جونیجو کی طرح ’’نامعلوم‘‘ بن کر غیر ملکی دوروں پر نہیں گئی۔ معروف خواتین کی ایوان میں آمدورفت اور رسائی ملکی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس ضمن میں جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت کی رنگینیاں کئی عشروں بعد بھی زیر بحث ہیں۔ ان میں ماضی کی ایک معروف اور خوبصورت خدوخال کی مالک اداکارہ ترانہ کا واقعہ شہرت کا حامل ہے۔ کیونکہ اداکارہ ترانہ ایک بار جب ایوان صدر گئیں تو انہیں سٹا ف کے کسی اہلکار نے سلام تک نہیں کیا۔ لیکن جب وہ واپس جانے کے لئے گیٹ پر پہنچیں تو ایک اہلکار نے انہیں پرجوش سلیوٹ ’’ٹھوک‘‘ دیا‘ جس پر اس کے ساتھی اہلکار نے پوچھا کہ تم نے میڈیم کو جاتے ہوئے ’’سلیوٹ‘‘ نہیں کیا تو اب کیوں کیا ہے۔ جس پر سلیوٹ مارنے والے اہلکار نے ’’ٹھک‘‘ سے جواب دیا کہ میڈیا اندر جانے سے پہلے صرف ’’ترانہ‘‘ تھیں اور واپسی پر و ہ ’’قومی ترانہ‘‘ ہیں۔ اسی نوعیت کے ترانے ہر دور میں بجتے رہے ہیں اور آئندہ بھی بجتے رہیں گے۔
سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں ایک ’’نامعلوم‘‘ خاتون ملک کے وزیر دفاع کی پشت پر بیٹھی ہو اور وزیر موصوف کو اس کی خبر ہی نہ ہو ‘ یہ کیسے ممکن ہے۔ اب وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزارت خارجہ دونوں ہی ’’نامعلوم‘‘ خاتون کو ’’معلوم‘‘ ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں وزارت خارجہ کا موقف ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے منظور شدہ وفد کی فہرست میں شمع جونیجو کا نام شامل نہیں تھا۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے شمع جونیجو کی پوسٹ پر بھی شدید تنقید کی جارہی ہے ان کی آخری پوسٹ اکیس ستمبر کو منظر عام پر آئی تھی جو بعد ازاں ڈیلیٹ کر دی گئی ہے۔ شمع جونیجو کا دعویٰ ہے کہ وہ مئی2025 ء وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ بطور مشیرفرائض سرانجام دے رہی ہیں جنہوں نے انہیں اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر لکھنے کا ٹاسک بھی دیا تھا اور میں نے ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر دن رات کام کیا ہے۔ وفد میں شامل شخصیات اور میں نے ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا ہے۔ ایک موقع پر میں اور وزیر دفاع خواجہ ایک ہی گاڑی میں پچھلی نشست پر اکٹھے بیٹھے تھے۔ شمع جونیجو کی وزیراعظم شہباز شریف‘ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف‘ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہمراہ متعدد تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اعلیٰ ایوانوں میں آنا جانا رہا ہے۔ دعوتی کارڈ کے بغیر تو کوئی کسی کو بارات کے ساتھ لے کر نہیں جاتا ۔ چہ جائیکہ کوئی شخص اعلیٰ سطح حکومتی وفد میں ’’گھس ‘‘ کر جہاز میں بیٹھ کر جائے۔ ہوٹلوں میں ان کے ساتھ قیام کرے۔ اجلاسوں میں شرکت کرے اور کسی کو پتہ ہی نہ چلے کہ ہمارے وفد میں شامل ’’گھس بیٹھیا‘‘ کون ہے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے کے مطابق شمع جونیجو کا نام وزارت خارجہ کی سفارش پر شامل کیا گیا تھا۔اعلیٰ ایوانوں کی سیکورٹی کے مراحل طے کرنا مشکل ترین ہے۔ اگر کوئی ملاقاتی ان مراحل سے گزر کر اعلیٰ ایوانوں میں داخل ہو بھی جائے تو راہداریوں میں سیکورٹی پر معمور عملہ اس سے متعدد بار پوچھ گچھ کرتا ہے۔ شمع جونیجو کا واقع دو اہم وفاقی وزراء میں شدید نوعیت کے جھگڑے کا باعث بھی بنا ہے جس میں دونوں نے اپنے اپنے دل کی جی بھر کر بھڑاس نکالی ہے۔ یقین واثق ہے کہ شمع جونیجو والے مسئلے پر بھی جلد ہی مٹی ڈال دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں