امارت …حیثیت… اور منصب… کا … ٹہکا… دکھانے کے مرض نے معاشرے کو مزید ایک وائرس میں مبتلا کر دیا ہے نمودونمائش اور دکھائوا اس قدر عام ہوچکا ہے کہ جیسے یہ کوئی فریضہ ہے جسے ادا کرنا ضروری ہے… شادی‘ بیاہوں پر تو وہ… آنی… ڈالی جاتی ہے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ دو دن کی شادی کو کھینچ کر کئی کئی دنوں تک لے جایا جاتا ہے۔ مہندی‘ ابٹن‘ دوستیاں‘ پیلا جوڑا اس کے علاوہ بھی کئی فضول رسومات کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے بلکہ اب تو ایسے موقعوں پر‘ قوالی نائٹ بھی فرض ہوگئی ہے۔ کسی گلوکار کے گھسے پٹے اور درجنوں بار سنے گئے گانوں کے بغیر شادی ادھوری تصور کی جاتی ہے۔ بعض شادیوں میں تو رقص و سرور کی محفلیں بھی ’’سجائی‘‘ بلکہ برپا کی جاتی ہیں۔ گلوکاروں‘ رقاصائوں اور قوالوں پر لاکھوں روپے ایسے نچھاور کئے جاتے ہیں کہ جیسے اس کا ثواب حاصل ہوگا۔ باقاعدہ اسٹیج لگتے ہیں اور نوٹ پھینکنے والے گروپ اسٹیج کے سامنے میزوں پر نوٹوں کی ڈھیریاں لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر جیسے ہی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہوتی ہے۔ نوٹوں کی بارش برسنے لگتی ہے‘ جن میں پاکستانی کرنسی کے علاوہ ڈالر اور ریال بھی شامل ہوتے ہیں۔ اکثر سننے میں آتا ہے کہ ایک ایک قوالی نائٹ اور موسیقی کے پروگراموں پر چالیس‘ پچاس لاکھ روپے سے بھی زائد اڑا دئیے جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک خواجہ سرا مہک ملک (ملک لکھتے ہوئے دل کو کچھ کچھ ہو رہا ہے) پر ہزار‘ ہزار روپے کے اتنے نوٹ نچھاور کئے گئے کہ اس نے نوٹ پھاڑنے شروع کر دئیے اور پھاڑے بھی قائداعظمؒ کی تصویر والی جگہ سے ہیں جس پر مہک ملک نے بعدازاں معذرت بھی کی ہے۔ ناچ گانے کے دوران بانی پاکستان کی تصویر والے نوٹ پائوں کے نیچے روندے جارہے ہوتے ہیں۔ مہندی‘ ولیمہ اور بارات کا اہتمام بڑی بڑی عالیشان مارکیوں میں کیا جاتا ہے جن میں سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں مہمان بھی شریک ہوتے ہیں۔ درمیانہ مینیو بھی پانچ چھ ہزار روپے پر ہیڈ میں پڑتا ہے۔ دولہا‘ دلہن کے عروسی جوڑے لاکھوں میں تیار ہوتے ہیں۔ کروڑ نہیں بلکہ اب تو ارب پتی طبقے کی بھی کمی نہیں ہے یہ طبقے جتنا پیسہ ایک شادی پر پھونک دیتے ہیں اتنے پیسوں میں عام گھرانوں کی کئی بیٹیوں کی شادی ہوسکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر شادی بیاہ کی ویڈیوز دیکھ کر دل میں اضطراب کی ایک ہوک سی اٹھتی ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ آج نہ جانے کتنے گھروں میں چولہا نہیں جلا ہوگا۔ بیمار بغیر دوائی کے اور بچے بھوکے پیٹ سوئے ہوں گے۔ اب تو قل اور چہلم بھی مارکیوں میں ادا کئے جا رہے ہیں جن کے مینیو شادی بیان کے کھانوں سے کم نہیں ہوتے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس لئے کیونکہ کوئی پوچھنے والا نہیں اور جو پوچھنے والے ہیں وہ بھی اس رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ سرکاری افسران کی بیٹیوں اور بیٹوں کی شادیوں پر کروڑوں روپے لٹائے جارہے ہیں ابھی لاہور کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کی بیٹی کے ایک کروڑ چوبیس لاکھ روپے کے لہنگے کی دھوم مچی ہوئی تھی کہ ایک اور اعلیٰ سرکاری افسر کی بیٹی کی شاہانہ اور والہانہ شادی پر چوبیس کروڑ اسی لاکھ روپے ’’وار‘‘ دئیے گئے دولت کی نمائش سے امیروں کے طرز زندگی اور ملک کے نظام ٹیکس کا پول اکثر طشت ازبام ہوتا رہتا ہے۔ غریب آدمی تو اپنے راشن پر بھی ٹیکس دے رہا ہے جس کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ بجلی کا بل ادا کرتا ہے تو اس کے پاس مکان کا کرایہ ادا کرنے کی گنجائش نہیں رہتی اور اگر وہ یہ دونوں ادائیگیاں کر بھی دے تو اسے روٹی کے لالے پڑ جاتے ہیں۔
خبر ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والے امیروں‘ کبیروں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یعنی بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً ایک لاکھ امیر افراد کی فہرست بھی تیار کرلی گئی ہے۔ ایسی خبریں اس سے قبل بھی کئی بار اڑائی گئی ہیں۔ لیکن اس کے بعد پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔ کسی گھر میں جب کوئی بچہ لگاتار بیمار رہے تو اس کا نام تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اس بات پر اتنا اعتقاد ہوتا ہے کہ بچہ تندرست بھی ہو جاتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نام اس سے قبل سنٹرل بورڈ آف ریونیو تھا لیکن نام کی تبدیلی کے باوجود اس کی صحت بدستور خراب ہے۔ ایف‘ بی‘ آر کی خرابی صحت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کروڑوں سرمایہ داروں میں سے صرف ایک لاکھ امیروں کا چنائو کیا گیا ہے۔ تمام تر دعوئوں اور حربوں کے باوجود مطلوبہ ٹیکس کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جس پر… مائی باپ آئی ایم ایف نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لئے اب ٹک ٹاکرز سے بھی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ایک طرف امیروں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دوسری جانب غریبوں کی تعداد میں بھی دھڑا دھڑ اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک کی نصف آبادی غریبت کی چکی میں پس رہی ہے۔
دولت مند طبقہ زندگی کی تمام آسائشوں اور عیاشیوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے اور غریب آدمی ایک ایک لقمے کے لئے ترس رہا ہے۔ یہ وہ ’’راگ‘‘ ہے جسے متواتر الاپا جاتا ہے لیکن بے سود‘ امیر اور غریب میں پائی جانے والی خلیج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔جب تک ادارے اور ان سے وابستہ افسران اور اہلکار ایمانداری اور فرض شناسی سے اپنے فرائض سرانجام نہیں دیں گے۔ یہ خلیج بڑھتی جائے گی۔ کتابوں میں ملک کا آئین اور قانون بھی موجود ہے لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث نتائج صفر ہیں۔ یہ ستم نہیں تو اور کیا ہے؟