اقتدار کے سنگھاسن پر جلوہ افروز ہونا ہر سیاسی پارٹی کا ٹارگٹ ہوتا ہے اس کی جدوجہد‘ مصائب و مشکلات اور قید و بند کی صعوبتیں اس لئے ہوتی ہیں کہ وہ ملک و قوم پر حکمرانی کر سکے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کئی عشروں تک ایک دوسرے کی شدید حریف رہی ہیں۔ لیکن اب وہ آپس میں شیر وشکر ہیں۔ باامر مجبوری ہی سہی۔ دونوں جماعتوں کی سیاست کا ایک طائرانہ سا جائزہ لیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں ان کی سیاست میں ایک دوسرے کی مخالفت‘ الزامات اور تنقید رہی ہے۔ 1985ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی نے بوجہ حصہ نہیں لیا تھا۔ جس کا خمیازہ بعدازاں اسے بھگتنا پڑا اور قیادت کو بھی احساس ہوا کہ یہ ان کی سیاسی غلطی تھی۔
پیپلزپارٹی کی سیاست میں ہمیشہ عوامی رنگ نمایاں رہا ہے جس کی جھلک آج بھی کہیں نہ کہیں دکھائی دیتی ہے۔ جس زمانے میں حکمت کا چرچا تھا لوگ سیانٹریں حکیم کو‘ نبض سیانٹراں کہتے تھے پیپلزپارٹی کے چیئرمین سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوبھی‘ نبض سیاست تھے۔ انہوں نے عام آدمی کو وہ سیاسی شعور دیا کہ ملک کی سیاست کا رنگ ڈھنگ میں بدل گیا۔ عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کا واحد ذریعہ اخبارات یا جلسہ جلوس ہی تھے۔ لیکن اس کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے شہر شہر اور گائوں گائوں تک اپنی پارٹی کی جڑیں مضبوط کیں۔ یہ اس کا ثمر تھا کہ جب جنرل ضیاء الحق نے انہیں پابند سلاسل اور بعدازاں عدالت نے سزائے موت کا حکم سنایا تو عوام نے ان کی خاطر اٹک اور شاہی قلعہ کے علاوہ ملک کی مختلف جیلوں میں شدید ترین تشدد برداشت کیا۔ کوڑے کھائے۔ حتیٰ کہ خود سوذی بھی کی‘ ملکی سیاسی تاریخ میں یہ دیوانگی صرف پیپلزپارٹی کے دیوانوں میں ہی دیکھی گئی ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور نوے دن کے بجائے نو سال کے بعد عام انتخابات کرائے اور وہ بھی غیر جماعتی‘ ان انتخابات کے بطن سے مسلم لیگ (جونیجو) جسے عرف عام میں مسلم لیگ (ج) کہا جاتا تھا۔ اس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی کی آشیرباد سے میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر خزانہ رہ چکے تھے اور پھر جنرل ضیاء الحق کی عمر بھی نواز شریف کو لگ گئی اور ان کا’’ کلا ‘‘بھی مضبوط ہوگیا اور ایسا مضبوط ہوا کہ چالیس سال گزرنے کے باوجود اسے کوئی اکھاڑ نہ سکا۔ محمد خان جونیجو کی وفات کے بعد مسلم لیگ (ن) معرض وجود میں آئی۔
بعض سیاسی ناقدین نے مسلم لیگ (ج) کو جائز اور مسلم لیگ (ن) کو ناجائز بھی کہا۔ اسی کی دہائی سے قبل میاں نواز شریف کا مسلم لیگ سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔ وہ سابق ائیر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں شامل تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے عنان اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد جب عام انتخابات کا اعلان کیا تو میاں نواز شریف نے تحریک استقلال کے ٹکٹ پر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ان کا قومی اسمبلی کا حلقہ نمبر این اے 87 اور صوبائی اسمبلی کا حلقہ نمبر 105 تھا۔ تب میاں نواز شریف اتفاق فائونڈری کوٹ لکھپت کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ میاں نواز شریف نے جس طرح مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی وہ ایک الگ داستان ہے۔ صدارت کے انتخابات کے موقع پر اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ہونے والی ہلڑی بازی اور ہنگامہ آرائی میاں نواز شریف کے لئے مسلم لیگ کی صدارت کا پیغام لے کر آئی۔ وزارت خزانہ سے شروع ہونے والا سیاسی سفر وزارت عظمیٰ تک جاری رہا لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کے اس سفر کو ’’بریک‘‘ لگ گئی ہے اور مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کی وجہ سے ان کی کچھ ڈھارس بندھی ہوئی ہے۔
بلاشبہ مریم نواز شریف کی کارکردگی کی سپیڈ قابل تعریف ہے لیکن پنجاب میں سیلابی صورتحال کے دوران انہوں نے پیپلزپارٹی کے حوالے سے جو جارحانہ رویہ اپنایا ہے اس نے میاں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ اور بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور کی یاد تازہ کر دی ہے۔ مریم نواز شریف کے بعض بیانات نے پیپلزپارٹی کو ’’تپ‘‘ چڑھا دی ہے جس کے بعد دونوں طرف سے الفاظ کی گولہ باری شدت سے جاری ہے۔ یہ گولہ باری کیا رنگ لائے گی۔ لائے گی بھی یا نہیں۔ ایک تاثر یہ بھی پایا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ ہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے ماضی میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک دوسرے پر جو سنگین الزامات لگائے وہ لوگ بھولے نہیں ہیں لیکن اقتدار کا نشہ اور چسکا‘ تمام نشوں اور چسکوں سے کہیں زیادہ سرور اور سکون دیتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کو قبول تو کرلیا تھا۔ لیکن ان کے دلوں میں نریم گوشہ‘ پیدا نہ ہوسکا اور نہ ہی آئندہ اس کی توقع کی جاسکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ’’انگلی‘‘ توڑنے والے بیان نے تو پیپلزپارٹی میں ایک آگ سی بھڑکا دی ہے۔ انہوں نے انگلی کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ کبھی سنتے تھے کہ اگر گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو اسے ٹیڑھا کرلینا چاہیے جبکہ 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف 126 دن تک ایمپائز کی ’’انگلی‘‘ اٹھنے کی منتظر رہی۔ لیکن انگلی نہ اٹھی اور انہیں اٹھنا پڑ گیا‘ ذرائع کے مطابق جب بڑے مل کر بیٹھیں گے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں صلح صفائی ہو جائے گی اور سب اسی تنخواہ پر کام کرنے لگیں گے اور اقتدار کی خاطر‘ تیرے نال‘ نال وے میں رہنڑاں‘ دہرا لیں گے۔