جرائم کی تاریخ میں متعدد ایسی داستانیں رقم ہیں‘ جن میں جرم کرنے والوں کا بھیانک انجام ہوا‘ لیکن اس سے سبق کسی نے نہیں سیکھا۔ یہی وہ امر ہے کہ آج جرائم اور بدمعاشی کا زہر ملک کے ہر شہر‘ دیہات حتیٰ کہ گلی کوچوں تک سرایت کر چکا ہے۔ شریف النفس طبقہ ایک انجانے خوف میں مبتلا ہے کہ نہ جانے کب اور کہاں وہ کس کی بدمعاشی کا شکار ہو جائے۔ امن و امان کی صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال اور نہ ہی بہن بیٹیوں کی عزت۔ اب تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ذہنی پستی اور غلاظت میں لتھڑے اوباش گلی کوچوں سے گزرنے والی خواتین کی عزتوں کو بھی پامال کرنے لگے ہیں۔ قانون کا خوف ہے اور نہ ہی کسی فرد کا ڈر۔ شائد اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کے قانون میں…لچک… ہی اتنی ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اسی یقین نے جرائم پیشہ عناصر کو … مادر پدر… آزاد کر دیا ہے۔ چند دن قبل سیالکوٹ میں ایک ایسا واقع رونما ہوا ہے کہ جسے دیکھ اور سن کراس قدر دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ کیا گھٹیا پن کا مظاہرہ اس حد تک بھی کیا جاسکتا ہے۔ چند خواتین ایک چنگ چی رکشہ میں بیٹھ کر جارہی ہوتی ہیں کہ اسی اثناء میں موٹر سائیکل پر سوار ایک اوباش نوجوان چنگ چی رکشہ میں بیٹھی ہوئی ایک لڑکی کا دوپٹہ کھینچنا شروع کر دیتا ہے… اس کی گھٹیا ترین حرکت سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اسے کسی قسم کا کوئی ڈر خوف اور نہ ہی خواتین کی عزت کے تقدس کا احساس ہے یا شائد اس کی تربیت ہی کسی غلیظ ماحول میں ہوئی ہے اور اس پر دوسرا ستم یہ کہ کسی نے اس کا ہاتھ روکنے کی کوشش یا جرات نہیں کی۔ ایسی حرکت کا مرتکب ہونے والے کئی افراد کے… نیفے… میں پستول چل چکا ہے لیکن نہ جانے اس اوباش کے نیفے میں پستول کیوں نہیں چلا‘ ڈر… خوف اور احساس تو معاشرے سے اس طرح غائب ہوچکا ہے جیسے گھروں کے چولہوں سے گیس۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لا کر جو جرات مندانہ اقدام کیا ہے وہ قابل تحسین ہے بڑے بڑے اشتہاری مفرور اور بدمعاش ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض تو حرم شریف میں جا کر یقین دلا رہے ہیں کہ وہ آئندہ شرافت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ سی۔سی۔ ڈی کے سربراہ ایڈیشنل ڈپٹی انسپکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ کی سربراہی میں کی جانے والی تابڑ توڑ کاررائیوں کے مثبت نتائج ظاہر ہو رہے ہیں اور جرائم میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پنجاب کے عوام اس وقت کے منتظر ہیں جب ان کی جانیں‘ عزتیں اور مال محفوظ ہوگا۔ انہیں کسی بدمعاش اور غنڈے کا ڈر خوف نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ قائم کرکے بہت بڑا رسک کیا ہے گزشتہ چند دنوں سے لاہور کے ایک معروف ڈان خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کی اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاکت موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔ ٹیپو ٹرکاں والا اور بٹ خاندان کی دشمنی تیس برسوں پر محیط ہے۔ جس کے نتیجے میں دونوں خاندانوں کے کئی افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
تاریخی مقامات کے علاوہ گینگسٹر نے بھی لاہور کی شہرت میں اضافہ کیا ہے۔ امیر بالاج کے قتل نے ٹیپو ٹرکان والا اور بٹ فیملی کے درمیان دشمنی کو بام عروج پر پہنچا دیا ہے۔ لاہور کے صحافتی حلقوں کے مطابق طیفی بٹ اور گوگی بٹ کے والد معمولی دکاندار تھے۔ لیکن ان کے بیٹوں کے ہاتھ ایسی گیڈر سنگھی لگی کہ ان کا شمار ارب پتی طبقے میں ہونے لگا اور ان کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ سیاسی‘ سماجی حلقوں اور بیورو کریسی میں بھی ان کا اثرورسوخ قائم ہوگیا۔ جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند برس قبل طیفی بٹ کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں اس وقت کی اعلیٰ ترین وفاقی اور صوبائی حکومتی شخصیات کے علاوہ لاہور کی مقامی انتظامیہ کے افسران نے بھی شرکت کی تھی۔ علاوہ ازیں فروری 2024ء کے عام انتخابات میں طیفی بٹ نے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی بھرپور انتخابی مہم بھی چلائی تھی۔ ان کے اعلیٰ سطح پر رابطوں کے باعث ان کی دھاک اور دہشت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ ٹیپو ٹرکاں والا کے قتل کے بعد دشمنی کا بھاری بھر کم بوجھ امیر بالاج اور امیر معصب کے کندھوں پر آگیا۔ طیفی بٹ کی غیر متوقع ہلاکت نے تمام طبقہ فکر کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ کیونکہ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوگا۔ اس واقعے کے بعد ان حلقوں کے خدشات غلط ثابت ہوگئے ہیں جن کی رائے تھی کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ صرف چھوٹے مجرموں پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک تقریباً سات سو سے زائد مجرم… فل فرائی… اور سینکڑوں… ہاف فرائی… ہوچکے ہیں۔ جبکہ اتنی ہی تعداد کے … نیفوں میں پستول چل چکا ہے ۔ ماضی میں لاہور کے جتنے بھی ڈان گزرے ہیں ان کا انجام بھی قتل کی صورت میں ہی ہوا۔ جن میں طالب علم رہنما ارشد امین چوہدری‘ عاطف چوہدری‘ عابد چوہدری اور مظہر ستی وغیرہ قابل ذکر ہیں جن کی وجہ عناد اپنی دھاک بٹھانا تھا۔ ایسے افراد کو ہمیشہ سیاسی پشت حاصل رہی ہے جس سے ان کے حوصلے بڑھتے ہیں۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی سے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا یہ عزم پورا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے کہ جس طرح میری بیٹیاں محفوظ ہیں اسی طرح پنجاب کی ہر بیٹی کو تحفظ فراہم کرنا میرا فرض ہے۔ ذرائع کے مطابق سی سی ڈی کے اختیارات میں کمی لانے کی تجویز بھی دی جارہی ہے اگر ایسا ہوا تو جرائم پھر سے پنپنے لگیں گے۔ بلاشبہ جرائم پیشہ عناصر کی جڑیں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ انہیں اکھاڑنا‘ انتہائی مشکل ہوتا ہے لیکن اگر ارادہ مصمم اور نیت نیک ہو تو بھی کوئی مشکل… مشکل نہیں رہتی۔ ایسے ہی جیسے اکثر ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے۔ نیت صاف… منزل آسان۔