Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

وفاقی وزیر حنیف عباسی اور ریلوے

پاکستان ریلوے ہمیشہ عوام کی تنقید کی زد میں رہی۔ وقت کی پابندی نہ کرنے‘ غیر معیاری کھانے‘ کرایوں میں بار بار اضافہ اور صفائی کے ناقص انتظامات کی شکایات‘ متعدد وفاقی وزیر ریلوے آئے اور گئے لیکن دعوئوں کے مطابق ریلوے کی ایک ’کل‘ بھی سیدھی نہ ہوسکی۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی ریلوے کے وزیر رہے لیکن ان کے دور میں بھی صورتحال میں تبدیلی نہیں آسکی۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے شادی شدہ جوڑوں کے لئے عروسی پارلر بنائے لیکن وہ پارلر بھی کھوکھے ہی ثابت ہوئے۔ کیونکہ شادی شدہ جوڑوں نے انہیں رتی بھر بھی اہمیت نہیں دی۔ جبکہ دیگر مسائل حسب سابق برقرار رہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ جب سے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے وزارت کا قلمدان سنبھالا ہے محکمہ ریلوے میں تھرتھلی سی مچی ہوئی ہے۔ جس کے باعث یہ محکمہ پٹڑی پر چڑھا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ٹرینوں کی آمدورفت مقررہ وقت پر ہو رہی ہے ۔ دوران سفر مسافروں کو معیاری کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں پر صفائی کی صورتحال بھی قابل ستائش ہے۔ جس کے باعث عوام آمدورفت کے لئے ٹرین میں سفر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ گو چھک چھک کا دور قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے میرا تعلق تقریباً تین عشروں پر محیط ہے۔ انہوں نے ہمیشہ خلوص نیت سے عوام کی خدمت کی ہے انہیں اپنے سیاسی سفر میں کئی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا۔ حتی کہ ان پر سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج کیے گئے لیکن رب ذوالجلال نے انہیں ہمیشہ سرخرو کیا۔ وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کے ملک کے مختلف شہروں کے ریلوے اسٹیشنوں کے ہنگامی دورے مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ عوام کی معمولی نوعیت کی شکایت کا بھی نہ صرف بلاتاخیر نوٹس لیتے ہیں بلکہ اس کا فالو اپ بھی رکھتے ہیں ۔
گزشتہ دنوں محمد حنیف عباسی نے ریلوے کے سینئر افسران کے ایک اجلاس میں بعض ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام ڈویژنز اور ہیڈ کوارٹرز کو سختی سے ہدایت کی کہ تاخیری وجوہات فوراً دور کی جائیں کیونکہ ہم نے محکمہ ریلوے پر عوام کا اعتماد بحال کرکے اسے ایک منافع بخش ادارہ بنانا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ ہم محکمہ ریلوے میں پائی جانے والی خرابیوں کا خاتمہ کریں۔
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے مطابق وقت کی پابندی عوام کو مناسب اور جدید سہولیات کی فراہمی‘ ریلوے کی اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ٹرین کو عوام کے لئے آمدورفت کا ایک پرکش ذریعہ بنانا ان کا مشن ہے۔ وفاقی وزارت کا منصب سنبھالنے کے بعد انتہائی مصروفیات کے باوجود محمد حنیف عباسی نے عوام کے ساتھ رابطے کی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے ۔ سیٹلائٹ ٹائو ن میں ان کی رہائش گاہ پر سینکڑوں سائلین روزانہ اپنی شکایات اور مسائل کے حل کے لئے آتے ہیں۔ جن کا بلاتاخیر ازالہ کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی سے کوئی بھی شہری ‘ کسی بھی وقت رابطہ کرسکتا ہے۔ ان کی رہائش گاہ پورا دن حقیقی معنوں میں عوامی مرکز کا منظر پیش کرتی ہے۔
راولپنڈی کے شہری شیخ رشید احمد اور محمد حنیف عباسی کی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے مختصر سے عرصے میں محمد حنیف عباسی کی کارکردگی کو سراہتے ہیں۔ وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کا گزشتہ روز پیش آنے والا واقعہ زبان زد عام ہے جس پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے کے باوجود عاجزی اور انکساری کا دامن نہ چھوڑنا۔ حسب نسب والی شخصیت کی ہی خوبی ہوسکتی ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ریل کار کی نئی بوگیوں کے افتتاح کے موقع پر وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کو ایک کپ کیک پیش کیا گیا جس کا پیکٹ کھولتے ہوئے کیک نیچے گر گیا۔ جس پر ان کے سٹاف نے گرا ہوا کیک اٹھانے کی کوشش کی لیکن محمد حنیف عباسی نے انہیں کیک اٹھانے سے روک دیا اور نیچے گرا ہوا کیک نہ صرف خود اٹھایا بلکہ پھونک مار کر کھابھی لیا اور کہا کہ وہ آقائے دو جہاں حضرت محمدﷺ کے ارشاد کے مطابق کھانے پینے کی کوئی بھی چیز اگر نیچے گر جائے تو وہ اسے ناگواری کا اظہار کیے بغیر اٹھا کر کھالیتے ہیں۔
وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی نے راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان ایک جدید اور تیز رفتار ٹرین چلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو جڑواں شہروں کے لئے ایک بیش قیمت اور شاندار تحفہ ثابت ہوگا۔ یاد رہے کہ1996 ء میں پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں بھی دونوں شہروں کے درمیان عوامی ٹرین چلائی گئی تھی جو نوگزہ روڈ راولپنڈی سے مارگلہ سٹیشن تک چلنی تھی۔ لیکن محکمہ ریلوے کی عدم توجہی کے باعث چند ماہ بعد ہی یہ ٹرین بند کر دی گئی۔ وفاقی وزیر کی ترجیحات میں ریلوے ٹریکس اور ٹرینوں کی فول پروف سیکورٹی‘ ریلوے کی اراضی پر ناجائز قبضے کا خاتمہ اور مسافروں کو سہولیات کی فراہمی کے علاو متعدد دیگر ادقدامات شامل ہیں جس کے انشاء اللہ جلد نتائج ظاہر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں