Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

نیک و بد کی پہچان

شیخ سعدی شیرازی ؒ کے مشہور اشعار سے بات شروع کرتے ہیں۔ترجمہ: ایک دن حمام میں مجھے ایک دوست کے ہاتھوں خوشبو دار مٹی ملی،میں نے مٹی سے پوچھا کہ تو مشک ہے یا عنبر،کہ تیری دلآویز خوشبو نے مجھے سرشار و سرمست کردیا ہے۔ مٹی نے جواب دیا کہ میں تو وہی ناچیز مٹی ہوں لیکن مدتوں پھولوں کی صحبت میں رہی ہوں ،دوست کی صحبت اور خوبصورتی کا مجھ پر اثر ہے ورنہ میں تو وہی ناچیز مٹی ہوں جو پہلے تھی۔
اسی بنا پر سچے لوگوں کے ساتھی بننے کے متعلق حکم الٰہی بھی ہے‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ یاایھا الذِین آمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادِقِین۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جائو۔(التوبۃ : 119 )
دو اینٹوں کی مثال ‘ایک آدمی نے دو اینٹیں لی ایک اینٹ کو مسجد میں لگا دیا اور ایک اینٹ بیت الخلا میں لگا دی ‘اینٹیں ایک جیسی‘ بنانے والا ایک جیسا‘ لگانے والا بھی ایک ہی آدمی لیکن ایک کی نسبت مسجد سے ہوئی اور ایک کی نسبت بیت الخلا سے ‘جس اینٹ کی نسبت بیت الخلا سے ہوئی وہاں ہم ننگے پائوں بھی رکھنا پسند نہیں کرتے اور جس اینٹ کی نسبت بیت اللہ سے ہوئی وہاں ہم اپنی پیشانیاں ٹیکتے پھرتے ہیںدونوں کے رتبے میں فرق کیوں ہوا‘قیمت ایک تھی‘ چیز بھی ایک تھی‘ ایک ہی طریقے سے دونوں اینٹ ایک انسان نے لگائی بھی‘ فرق صرف یہ تھا کہ دونوں کی نسبت الگ الگ تھی ‘اپنی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رکھیں‘صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے رکھیں‘یقینا بہت فرق پڑے گا اللہ والوں کی محفل اور اللہ والوں سے نسبت اللہ تک پہنچا دیتی ہے۔
مزید چند گذارشات اس حوالے سے سماعت فرمائیں دوستی، صحبت، مجلس اور تعلقات کے ماحول پر کیسے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیںمرغے اور گدھے کی صحبت میں فرق ‘ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاِ۔جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو ، کیوں کہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیو ںکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے(صحیح3303)
اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلا کہ نیک لوگوں کی صحبت میں دعا کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ قبول ہونے کی امید زیادہ ہوتی ہے۔سیدنا زید بن خالد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مرغ کو گالی مت دیا کرو ، اس لیے کہ یہ نماز کے لیے جگاتا ہے ۔ (5101صحیح ) حضرات محترم اور جو علما ء کرام آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں دین کے دیگر شعبوں میں رہنمائی فرماتے ہیں اگر مرغ کا احترام فقط اس وجہ سے ضروری ہے کہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے تو جو نماز پڑھانے والا ہے اس کا احترام تو کہیں درجہ زیادہ ضروری ہے سو سائٹی میں ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے لوگوں کی توہین کرنا مناسب ہے؟
گھوڑوں اور بکریوں کی صحبت میں فرق‘ بکریوں کی طبعیت میں چونکہ نرمی ہوتی ہے اس لیے بکریوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسان کی طبیعت نرم ہوتی ہے اور اونٹوں اور گھوڑوں کی طبیعت میں چونکہ نخرا، سختی اور شیخی ہوتی ہے اس لئے ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسان کی طبیعت میں بھی فخر اور تکبر پیدا ہوتا ہے‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں ، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو (عموماً) گائوں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے (3301)اسی بنا پر درندوں کی کھال کے قالین،شرٹ وغیرہ استعمال کرنے سے منع فرمایا ۔
حضرت ابوملیح بن اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال استعمال کرنے سے منع فرمایاہے۔ اس حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیاہے (صحیح)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال نیچے بچھانے سے منع فرمایاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خونخوار درندوں سے بنی ہوئی اشیا کی صحبت کا انسان کی طبیعت پر یہ برا اثر پڑتا ہے کہ اس کے اندر بھی درندگی کے اوصاف در آتے ہیں۔
مردوں پر ریشم اور سونے کے زیورات حرام قرار دینے میں حکمت‘ سیدنا علی بن ابی طالب نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے ریشم لیا اور اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور سونا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا پھر فرمایا بلاشبہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چونکہ نرم اور ملائم ہیں یا نرمی کو لازم ہیں لہٰذا ان کے استعمال سے مردوں کی طبیعت میں نزاکت، آرام پسندی، کمزوری اور بزدلی پیدا ہو گی جیسا کہ اللہ نے یہی بات عورت کے متعلق زیوارت کے استعمال کی وجہ سے بیان کی ہے ۔ فرمایا‘اور کیا (اس نے اسے رحمان کی اولاد قرار دیا ہے) جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے اور وہ جھگڑے میں بات واضح کرنے والی نہیں؟ (الزخرف : 18 )
اصحاب کہف کی چوکیداری کی وجہ سے کتے کا تذکرہ تاقیامت باقی رکھا گیا۔کتا ایک ایسا جانور ہے کہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویر ہو۔لیکن جب وہی کتا چند نیک افراد کی چوکیداری کے لیے ان کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ نے صحبت صالحین کی وجہ سے ناصرف یہ کہ محل مدح میں اس کا تذکرہ کیا بلکہ تاقیامت اس کی یاد زندہ کردیا۔ فرمایا‘اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے۔ (الکہف :18 )
ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے ایک جانور کی جان بخشی اور دشمنی کی وجہ سے دوسرے کے قتل کا حکم ‘ ام شریک رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور فرمایا :یہ ابراہیم علیہ السلام پر پھونکیں مارتی تھی۔محدث عبد الرزاق نے اپنی مصنف8392) )میں معمر عن الزہری عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنھا روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مینڈک ابراہیم علیہ السلام سے آگ بجھاتے تھے اور چھپکلی اس میں پھونکیں مارتی تھی، سو انھیں قتل کرنے سے منع فرمایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے(چھپکلی کو) قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ (جار ی ہے)

یہ بھی پڑھیں