Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اپنی اپنی ڈفلی… اپنا اپنا راگ

وطن عزیز میں قدرتی موسم بدل رہا ہے چنددن قبل ہونے والی بارش نے گرمی کو ہلکا سا جھٹکا دیا ہے اور آنے والے چند ہفتوں میں موسم میں مزید تبدیلی رونما ہوگی۔ موسم بدلتے رہتے ہیں کبھی خزاں‘ کبھی بہار‘ کبھی ساون اور کبھی بھادوں۔ لیکن نہیں بدلا تو ملک کا سیاسی موسم نہیں بدلا اور نہ ہی آئندہ اس کے بدلنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ پہلے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یعنی حکومت بمقابلہ حکومت کے درمیان اختلافات نے سیاسی موسم میں گرمی پیداکی۔ ممکن ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک اس گرمی میں کمی آچکی ہو‘ اگر نہیں آئی تو آجائے گی۔ کیونکہ دونوں پارٹیوں کا مفاد اور سیاست آپس میں جڑے رہنے میں ہی ہے۔ بھائی ہوراں کی ڈرانٹریں آں … تے گڑ پئے کھانڑیں آں‘ کے مصداق یہ سلسلہ وقفے وقفے سے آئندہ بھی جاری رہے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی میں عوام کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ انہیں آلو‘ پیاز‘ ٹماٹر جو پانچ سو روپے کلو ہوگئے ہیں اور دال چاول کے چکر میں ایسا الجھا دیا گیا ہے کہ ان کا دھیان کسی دوسری طرف جاتاہی نہیں ہے ۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دو سال سے زائد عرصے تک پابند سلاسل رہنے کے باوجود عمران خان نے کارکنوں اور ووٹرز کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جیل سے باہر پاکستان تحریک انصاف کے راہنمائوں نے اس طرح کی کارکردگی نہیں دکھائی جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود قیدی نمبر804کی پارٹی مفادات پر گرفت مضبوط رہی۔
جبکہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی نس پھج کو بھی تنقیدی اور شک کی نظر سے دیکھا گیا اور بالآخر انہیں وزارت اعلیٰ کے منصب سے ہاتھ دھونا پڑگئے۔ فراغت کے بعد بھی امین گنڈا پور عمران خان اور کارکنوں کو اپنی وفاداری کایقین دلا رہے ہیں۔ لیکن ان کی یقین دہانی کو پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی اور آج کل وہ اپنے پالتو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ وقت گزار ر ہے ہیں۔ سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کی قیادت‘ کارکنوں اور صوبے بھر کے عمائدین کی بھرپو ر حمایت حاصل ہے۔ سونے پر سہاگہ کہ سہیل آفریدی نے حلف اٹھاتے ہی جارحانہ اننگز کا آغاز کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں کی جانے والی تقاریر کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ کہا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ دبائو بڑھانے اور قیدی نمبر804 سے ملاقات کے لئے کیا جارہا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق ایک وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ آئند ہ چند دنوں میں سہیل آفریدی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرا دی جائے گی۔ سیاسی تنائو اور کھچائو کے باعث ملک و قوم رگڑے جارہے ہیں۔ حکمران طبقے کو صرف اپنے اقتدار کو دوام اور استحکام دینے کی فکر ہے۔ انہیں دیگر صورتحال کا احساس ہے نہ پاس ہے۔ ان کے مطابق عوام جائے بھاڑ میں‘ ملک کی فضائوں میں متضاد خبروں بلکہ افواہوں کی بازگشت ہے۔ سوشل میڈیا اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ سے معاملات سلجھنے کے بجائے الجھتے جارہے ہیں۔ کبھی کبھی یہ بھی کہا جاتاہے کہ عمران خان چند دنوں یا ہفتوں میں اڈیالہ جیل سے آزاد ہو جائیں گے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں اس کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ خیبرپختونخواہ اور وفاق میں ‘ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی جیسی کیفیت ہے۔ رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ یہ آگ مزید نہ بھڑکے۔ اس آگ پر پانی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ کوئی تو ایسا ہو جو یہ فریضہ سرانجام دے اور اگر پانی نہیں ڈالا جاسکتا تو کم از کم چھڑکائو ہی کر دیں۔ تاکہ آگ کی حدت کم ہوسکے۔ کارکنوں اور دیگرطبقہ فکر کی حمایت سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا حوصلہ مزید بلند ہوگیا ہے۔ ان کی جانب سے وفاق کو جو ناکارہ گاڑیاں واپس کی گئی ہیں۔ اس نے جلتی پر تیل کا کام کیاہے جس سے وفاقی حکومت کو مزید تپ چڑھ گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی کمپرومائز لیڈر شپ نے عمران خان کی رہائی کے لئے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے اور کوئی بھی تحریک کامیاب نہیںہوسکی۔ شنید ہے کہ عمران خان سہیل آفریدی کو ان کی رہائی کے لئے تحریک چلانے کی ہدایت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس کے نتائج وزیر اعلیٰ‘ صوبے کی قیادت اور کارکنوں کو آزمائش اور مشکلات میں ڈالنے کے سوا کچھ بھی نہیں نکلیں گے۔ اس سے قبل چلائی جانے والی تحریکوں کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان کی اسیری میں ایک مماثلت دکھائی دے رہی ہے کیونکہ جب ذوالفقار علی بھٹو سنٹرل جیل راولپنڈی میں پابند سلاسل تھے تو پیپلز پارٹی کی قیادت بھی کمپرومائزڈ ہوگئی تھی لیکن ذوالفقار علی بھٹو عوام کے دلوں پر راج کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’بھٹو‘‘ آج بھی زند ہ ہے۔ عمران خان کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامناہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی لیڈر شپ کمپرومائزڈ ہے لیکن عوام عمران خان کے ساتھ ہے۔ ان کی اسیری جتنی طویل ہوتی جارہی ہے اسی حساب سے عمران خان کے ساتھ ہمدردی اور ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تمام صورتحال ایک طرف لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ جو دکھائی دے رہا ہوتاہے ایسا ہوتا نہیں ہے اور جو ہو رہا ہوتا ہے و ہ دکھائی نہیں دے رہا ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں