Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بلدیاتی انتخابات کی ’’چھوک‘‘

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی گڈی یعنی پتنگ ایک بار پھر چھوک مار گئی ہے۔ اب اسے دوبارہ کب کنی دی جائے گی۔ اس ضمن میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بلدیاتی انتخابات کو سال میں دو تین بارضرور کنی دی جاتی ہے۔ لیکن پتنگ بازوں کی عدم دلچسپی اوردانستہ سستی کے باعث گڈی کو جہاں سے کنی دی جاتی ہے وہ وہی پر آکر گرتی ہے اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں نہ جانے بلدیاتی انتخابات سے کیوں خوفزدہ ہیں حالانکہ اس وقت میدان سیاست میں سیاست کے جوہر دکھانے والی بیشتر شخصیات بلدیات کی نرسری سے ہی پروان چڑھی ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ چپل کباب میں چپل نہیں ہوتی۔ کشمیری چائے میں کشمیر نہیں ہوتا اور ٹماٹر کی چٹنی میں ٹماٹر نہیں ہوتا اسی طرح جمہوریت میں جمہوریت بھی نہیں ہوتی۔ بلدیات کو جمہوریت کی نرسری قرار دیا جاتا ہے لیکن اس نرسری کی اہمیت، پریپ جتنی بھی نہیں ہے۔ ایک بار پھر اپنا یہ موقف دہرا رہا ہوں کہ گاہے بگاہے بلدیاتی انتخابات کا شوشا صرف کارکنوں کو متحرک رکھنے کےلئےچھوڑا جاتا ہےکیونکہ ایک ایک یونین کونسل میں درجنوں امیدوار منظر عام پر آجاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کےقائدین کی حمایت حاصل کرنے کےلئےان سے ڈیروں کی رونق کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ بلدیاتی امیدوارجنازوں میں میت کو کندھا دینے کے لئے کندھے مارتے ہوئے میت تک پہنچ جاتے ہیں۔ جنہوں نے کبھی کسی ضرورت مند یا فلاحی اداروں کو سو پچاس روپے نہیں دیئے ہوتے وہ شادی بیاہوں میں ہزار دو ہزار روپےکے لفافے دینا شروع کر دیتے ہیں۔ جن پر اپنے نام کے ساتھ امیدوار برائے چیئرمین،وائس چیئرمین اور کونسلر چھپوایا ہوا ہوتا ہے۔ یونین کونسل کے ووٹرز کے ساتھ عزت و احترام اور ہمدردیاں ان کے انگ انگ سے چھلک رہی ہوتی ہیں۔ جمہوریت کی دعویدار سیاسی جماعتیں جب بھی برسر اقتدار آئیں انہوں نے بلدیاتی انتخابات کرانے کی کوشش کی اور نہ ہی انہیں اس کاحوصلہ ہوا۔ جنہیں ڈکٹیٹر اور آمرکہاگیا انہوں نے برسراقتدار آنے کے بعد بلدیاتی انتخابات کو ہی ترجیح دی۔ فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کا دور اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے بی ڈی سسٹم، جنرل ضیاء الحق نے وارڈ سسٹم جس کا ایک ہی کونسلر ہوتا تھا اور جنرل پرویز مشرف نے ناظمین اور نائب ناظمین کا سسٹم متعارف کرایا۔ جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام میں فنڈز کی بھرمار سے بلدیاتی اداروں کے بھاگ جاگ گئے تھے اور بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں میں قابل ذکر ترقیاتی کام بھی کروائے۔ بلدیاتی نمائندوں کو حاصل اختیارات نے حقیقی معنوں میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو ثابت کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں میونسپل کارپوریشن کے میئر، ڈپٹی میئر اور کونسلر کو بھی قابل ذکر اختیارات دیئے گئے تھے۔ راولپنڈی میونسپل کارپوریشن میں میئر شیخ غلام حسین کا عرصہ قابل ذکر ہے۔ انہوں نے شہر میں بےشمار ترقیاتی کام کروائے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مسلم لیگ کو بھی منظم اور متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ مسلم لیگ کے کارکنوں کو کونسلر جتنی اہمیت دیتے تھے۔
رواں سال دسمبر میں بلدیاتی انتخابات کے اعلان نے شہروں اور دیہاتوں میں رونق میلہ لگا دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن کے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کے اعلان نے ہی رونق میلے کو بے رونق اور اداسی میں بدل دیا ہے۔ امیدواروں نے اپنے علاقوں میں انتخابی دفاتر قائم کرنے کا آغاز کر دیا تھا لیکن اب سب کچھ ٹھپ ہوگیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات نہ جانے کب ہوں گے۔ ہوں گے بھی یا نہیں۔ یہ انتخابات جتنی تاخیر سے ہوں گے۔ امیدواروں پر نہ صرف مالی بوجھ پڑے گا بلکہ انہیں دیگر مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اب بلدیاتی انتخابات پر بھی لاکھوں روپے کے اخراجات ہو جاتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالےسے اگر تمام سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) دیگر جماعتوں سے آگے دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن قیادت کی خاموشی اور روپوشی کے باعث مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حالت بھی مایوس کن ہے ۔
سیاسی جماعتوں کی نظرمیں بلدیاتی نظام ان کے لئے خطرہ ہے کیونکہ اس وقت ملکی سیاست پر موروثی سیاست کا غلبہ ہے ایک ایک خاندان کے کئی افراد حکومتوں یا اسمبلیوں کا حصہ ہیں۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی اس فہرست میں سرفہرست ہیں۔ ان کے تمام صاحبزادے اسمبلیوں میں موجود ہیں۔ اگر ملک کا یہی نظام رہا تو موروثی سیاست مزید پھلے پھولے گی اور ان خاندانوں کی تیسری نسل بھی حکمرانی کر رہی ہوگی اور عام آدمی کی اوقات صرف تالیاں بجانے اور ووٹ ڈالنے تک ہی محدود ر ہے گی۔
معززعدالتوں نے بھی متعدد بار بلدیاتی انتخابات کرانے کے احکامات جاری کیےلیکن ہمارے ملک میں شائد عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے کا عہد کرلیا گیا ہےجو ایک تشویشناک امر ہےجبکہ ایک سچ یہ بھی ہے کہ صرف بلدیاتی امیدواروں میں ہی جوش خروش د یکھنے میں آرہا ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں عوام کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا موقف ہے کہ انہوں نے اپنے جن نمائندوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا ہے انہوں نے کون سے تیر چلائے ہیں ۔ جو اب چیئرمین اور کونسلر چلائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں