Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

مرشد‘ تجھ سا لائو ں کہاں سے

جو بے سہاروں کا سہارا بنتے ہیں انہیں پھر کسی دنیاوی سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ پھر رب ذوالجلال ان کا سہارا اور مددگار ہوتا ہے۔ جو ان کے لئے آسانیاں فراہم کرتا ہے۔ بلاشبہ خطہ پوٹھوار مختلف حوالوں سے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اولیاء کرام ‘ غازیوں اور شہداء کی سرزمین ہے جبکہ یہاں اہل دل بھی بستے ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے وہ بندے بستے ہیں جن پر لوگ ہنستے ہیں۔ ان کا مذاق اڑاتے ہیں حتی کہ ان پر سنگ ریزی بھی کرتے ہیں۔ معروف سیاسی و سماجی شخصیت خواجہ نوید سے میری شناسائی ہے اور نہ ہی کبھی ان سے کوئی ملاقات ہوئی ہے۔ گزشتہ روز فون پر سوائے ایک مختصر سی گفتگو سے۔ ان کے جس جذبے نے مجھے متاثر کیا وہ ان کا ایسے بچوں سے والہانہ لگائو پیار اور بے لوث محبت ہے جنہیں معاشرے میں وہ مقام اور توجہ حاصل نہیں ہوتی جس کے و ہ حقدار ہوتے ہیں۔ خواجہ نوید نے عادل عرف مرشد کو اس طرح اپنے بازوں میں سمیٹا کہ ان کا جذبہ ایثار ایک مثال بن گیا ہے۔ مرشد کے والدین وفات پاچکے تھے۔ اس کی سادگی اور بھول پن کے باعث عزیز و اقارب حتی کہ بہن بھائیوں نے بھی عادل عرف مرشد سے لاپرواہی برتنا شروع کر دی۔ گائوں کے بچوں کے ہاتھ تو جیسے کوئی کھیل تماشا آگیا تھا۔ بچے عادل کو اتنا ستائے کہ اکثر وہ رونے لگ جاتا تھا۔ خواجہ نوید آتے جاتے ہوئے اکثر یہ مناظر دیکھتے تھے۔ پھر ایک دن نہ جانے ان کے دل میں کیا سمائی کہ وہ عادل کو اپنے گھر لے آئے۔ یاد رہے کہ عادل کو مرشد کا لقب خواجہ نوید نے اپنے ساتھ لانے کے بعد دیا تھا۔
موجودہ دور سوشل میڈیا کا ہے۔ فیس بک پر اکثر خواجہ نوید اور مرشد کی ویڈیوز نظروں سے گزرتی تھیں جن میں مرشد ان کے ساتھ مختلف تقاریب اور دعوتوں میں دکھائی دیتا۔ مرشد کا سر سے پائوں تک پیش قیمت لباس دیکھ کر گمان یہی ہوتا تھا کہ اس کا تعلق کسی صاحب حیثیت گھرانے سے ہے۔ لیکن بعد ازاں عقدہ کھلا کہ مرشدی کا خواجہ نوید سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے اور اگر کوئی رشتہ ہے تو وہ انسانیت کا ہے۔ خواجہ نوید کے مطابق انہوں نے یہ فریضہ اس لئے ادا کیا ہے کہ ایسے بچوں اور افراد کو نارمل افراد سے بڑھ کر توجہ اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے دیگر مخیر حضرات کو بھی بڑھ چڑھ کر اس کارخیر میںحصہ لینا چاہیے۔ مرشد تقربیاً تیرہ برس تک خواجہ نوید کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ انہوں نے اس کی ہر ضرورت کا خیال اپنے بچوں کی طرح رکھا۔ اسے اپنے ہاتھوں سے نہلا کر کپڑے پہنانا‘ بال بنانا اور اس کے ساتھ گیمز کھیلنا روز کا معمول تھا۔ وقت ہنسی خوشی گزر رہا تھا کہ اچانک مرشد گردوں کے مرض میں مبتلا ہوگیا اور اسے علاج معالجے کے لئے ایک نجی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ خواجہ نوید نے مرشد کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ انہیں ان کے بیرون ممالک مقیم دوستوں کے علا وہ علاقے کے مخیر حضرات نے بھی اپنے مالی تعاون کی پیشکش کی۔ لیکن خواجہ نوید نے شکریے کے ساتھ انکار کر دیا۔ انہوں نے شب و روز مرشد کی دیکھ بھال کی ۔ ان کا مرشد کے ساتھ لگائو اور بے لوث محبت انتہائی متاثر کن ہے اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا نفسانفسی‘ مفاد اور اناپرستی کے دور میں ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ جہاں خونی رشتے ایک دوسرے سے بیگانے دکھائی دیتے ہیں۔ خواجہ نوید نے ایک ایسی مثال قائم کر دی ہے۔ جو معاشرے کے لئے باعث تقلید ہے۔ مرشد جہاں خوش لباس تھا۔ وہاں وہ خوش خوراک بھی تھا۔
ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے باوجود مرشد صحت یاب نہ ہوسکا اور اس کی حالت مزید بگڑتی گئی جس نے خواجہ نوید کو مزید تشویش میں مبتلا کر دیا اور ان کا زیادہ وقت ہسپتال میں ہی گزرنے لگا اور انہیں یہ احساس ہوگیا کہ مرشد چند دنوں کا مہمان ہے۔ ان کی دوستی اور ’’سنگت‘‘ کے خاتمے کا وقت نزدیک آرہا ہے اور پھر ایک دن مرشد نے جب اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور اللہ حافظ‘ کہنے کے انداز میں ہاتھ اٹھاکر کہاکہ میں امی ابو کے پاس جارہا ہوں۔ یہ دیکھ اور سن کر خواجہ نوید کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں اور انہیں یقین کامل ہوگیا کہ ان کا مرشد انہیں چھوڑ کر منوں مٹی کے نیچے جانے والا ہے اور پھر چند ہی دنوں بعد تمام وسوسے اور خدشات درست نکلے اور مرشد اپنے سفر آخرت پر روانہ ہوگیا۔ خواجہ نوید اپنی سنگت ٹوٹ جانے پر اس طرح پھوٹ پھوٹ کر روئے کہ جیسے ان کا کوئی اپنا سگا خونی رشتہ دنیا سے چلا گیا ہے۔ مرشد ایک بے ضرر سا انسان تھا۔ کوئی شوق نہ د نیا سے رغبت‘ معصوم سا چہرہ اور کبھی کبھی گہری باتیں۔ یہ احساس دلاتی تھیں کہ مرشد اللہ لوک بندہ ہے۔
مرشد کے دنیا سے جانے کے بعد خواجہ نوید باقاعدگی سے ایسے بچوں کو اپنے گھر مدعو کرتے ہیں جن میں انہیں مرشد کا عکس نظر آتا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھلانا‘ وقت گزارنا اور ان کی ضروریات پوری کرنا ان کا معمول ہے۔ گمان تھا کہ شائد مرشد کی وفات کے بعد خواجہ نوید یہ سلسلہ اپنے سنگی تک ہی محدود رکھیں۔ لیکن انہوں نے نہ صرف اس کارخیر کو جاری رکھا ہوا ہے بلکہ اس کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا ہے۔ خواجہ نوید آج بھی مرشد کی یاد میں افسردہ ہو جاتے ہیں۔ شائد وہ کہنا چاہتے ہیں کہ مرشد‘ ایسا لائوں کہاں سے‘ تجھ سا کہوں جسے۔

یہ بھی پڑھیں