گوشت‘ انسانی خوراک کی اہم ضرورت ہے۔ بکرے کا گوشت چھوٹا اور گائے بیل کا بڑا گوشت کہلاتا ہے جبکہ تعلیم یافتہ طبقہ اب بیف اور مٹن کہتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے گدھے کے گوشت کی بھی بڑی دھوم ہے۔ لیکن اس کے باوجود ’’کھوتے‘‘ کے گوشت کا سائز طے نہیں کیا جاسکا کہ اس کا شمار چھوٹے گوشت میں ہوتا ہے یا بڑے گوشت میں۔ دو نمبر اور غیر معیاری اشیائے خوردونوش کھا کھا کر انسان کے ذائقے اور سونگھنے کی حس دم توڑ چکی ہے۔ مارکیٹ میں بکرے کا گوشت چوبیس سو روپے اور بیل کا سولہ سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ہڈی اور بغیر ہڈی کے گوشت کے ریٹ بھی مختلف ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں گوشت کھانے کی عیاشی افورڈ کرنا عام آدمی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ ایک کلو گوشت کے ساتھ کم از کم ایک پائو چھچھڑے بھی ہوتے ہیں۔ یہ نقصان بھی صارف کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ مردہ اور بیمار جانوروں کا گوشت بھی دھڑلے سے فروخت اور عوام کو کھلایا جارہا ہے اور یہ دھندہ بالٹی اور کڑاہی گوشت کی آڑ میں کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ایک اور خبر جس نے روح بھی لرزا دی ہے کہ فیصل آباد میں ایک خاتون کئی برسوں سے گاہگوں کو انسانی گوشت کے کوفتے کھلا رہی تھی۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ کوفتے اتنے لذیذ اور خوشبودار ہوتے تھے کہ لوگ دور دور سے یہ کوفتے کھانے کے لئے آتے تھے۔ اس مکروہ دھندے کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب کوفتے بناتے ہوئے خاتون کو گوشت میں ایک انسانی ناخن نظر آیا جس پر اسے شک گزرا کہ معاملہ گڑبڑ اور سنگین ہے حقائق سے مزید آگاہی کے بعد انکشاف ہوا کہ خاتون جس قصائی سے گوشت منگواتی تھی وہ اس گھنائونے دھندے کا اصل چہرہ ہے۔
پولیس اور متعلقہ ادارے تفتیش میں مصروف ہیں۔ مزید حقائق مکمل چھان بین کے بعد ہی منظر عام پر آئیں گے کہ قصائی انسانی گوشت کہاں سے اور کیسے حاصل کرتا ہے۔
وہ دور بھی کیا دور تھا سادہ لباس‘ خالص خوراک‘ جھوٹ نہ فریب‘ انسان پریشانیوں اور بیماریوں سے محفوظ تھا۔ سکون کی نیند سوتا تھا۔ شیور کی مرغی اور بازاری گھی چھپا کر استعمال کئے جاتے تھے۔ لیکن وقت اور زمانے کی رفتار نے سب کچھ ہی الٹ پلٹ دیا ہے۔ ایک عزیز دوست جو معروف یورالوجسٹ ہیں انہوں نے بتایا کہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے تک انہوں نے چکن کڑاہی یا بالٹی گوشت نہیں کھایا تھا‘ انہوں نے ہمیشہ سادہ غذا کو ہی ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ ستر سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود وہ کئی بیماریوں سے محفوظ ہیں وہ اپنے مریضوں کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ سادہ غذا دال سبزی کو ترجیح دیں۔ خبر ہے کہ حکومت گوشت کے کاروبار کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور گوشت کی برآمد میں اضافے کے لئے کوشاں ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی مختلف ممالک کو گوشت برآمد کر رہا ہے۔ جسے معیاری قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ملک میں عوام کو جو گوشت کھلایا جارہا ہے۔ اس کے معیار پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔ کھوتے‘ کتے‘ بیمار اور مردار جانوروں کا گوشت بلاخوف و خطر فروخت کیا جارہا ہے بلکہ کھلایا بھی جارہا ہے۔ تنخواہ دار اور دیہاڑی پر مزدوری کرنے والا طبقہ تو صرف عیدالاضحی پر ہی گوشت کھا سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان صرف ملائیشیاء کو ہزاروں امریکی ڈالر کے لگ بھگ گوشت برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر محب وطن پاکستانی جب کوئی ایسی خبر سنتا ہے تو وہ جھوم‘ جھوم جاتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ ہم بھی کسی’’ جوگے‘‘ ہوگئے ہیں۔
پیارے پاکستانیوں‘ یہ خبر آپ کی خوشیوں میں مزید اضافہ کرے گی کہ وفاقی دارالحکومت اور پنجاب میں کھوتوں کو ذبح کرنے کے لئے سلاٹر ہائوس قائم کئے جارہے ہیں جبکہ حلال جانوروں کے سلاٹر ہائوس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ گوادر میں گدھوں کا سلاٹر ہائوس پہلے سے ہی موجود ہے۔ یاد رہے کہ چالیس برسوں میں حلال جانوروں کو ذبح کرنے کے لئے ایک بھی سلاٹر ہائوس قائم نہیں کیا گیا۔ ’’کھوتوں‘‘ کا سلاٹر ہائوس بنانے کے پس پردہ کیا حقائق اور مقاصد ہیں ان سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے اور اس امر کو یقینی بنایاجائے کہ ’’کھوتوں‘‘ کا گوشت پاکستانی گوشت خوروں کو نہیں کھلایا جائے گا۔ ہر سال کھوتوں کی پیداوار میں کئی گنا اضافے کی وجہ اب سمجھ آرہی ہے۔ دوسری خبر یہ ہے کہ چین کو گدھے کے گوشت کے علاوہ کھالیں بھی برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عرف عام میں ’’کھوتا‘‘ بیوقوفی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن ان اقدامات سے ’’کھوتے‘‘ کی اہمیت میں اضافہ متوقع ہے اور یہ امید بھی ظاہر کی جارہی ہے کہ چین کو گدھے کے گوشت اور کھال برآمد کرنے سے دونوں ممالک کی دوستی اور تعلقات میں مزید بہتری آئے گی یعنی ’’کھوتا‘‘ بھی اب کھوتا نہیں رہے گا۔