پیارے دیس میں شاہد ہی کوئی ایسا فرد ہو جو کسی نہ کسی الجھن یا ڈیپرشن کا شکار نہ ہو‘ اگر کسی کو یہ امراض لاحق نہیں ہیں تو وہ خوش قسمت انسان تصور کیا جائے گا۔ ان خوش نصیبوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صرف اس وجہ سے ڈیپریشن میں رہتے ہیں کہ انہیں کہیں… ڈیپریشن… نہ ہو جائے۔ ڈیپریشن اس قدر عام عارضہ ہوگیا ہے کہ پچیس کروڑ کی آبادی میں آٹھ کروڑ سے زائد پاکستانی ڈیپریشن …کے ڈیپریشن سے گزر رہے ہیں۔ عام آدمی کے ڈیپریشن کی وجہ درجنوں مسائل ہیں۔ گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے والوں کے لئے ایک نہیں کئی مصیبتیں ہیں۔ مکان کا کرایہ‘ بجلی‘ گیس کا بل‘ آٹے دل کی ٹینشن‘ بچوں کے تعلیمی اخراجات‘اگر گھر کا کوئی فرد بیمار ہوجائے تو وہ اضافی مالی بوجھ بن جاتا ہے۔ جسے اتارنے کے لئے قرض لینا پڑ جاتا ہے۔ کوئی مہمان آجائے تو الگ پریشانی‘ ڈیپریشن اور ٹینشن کا چولی دامن کا ساتھ ہے ڈیپریشن ایک مستقل عارضہ ہے جبکہ ٹینشن جزوقتی مسئلہ ہے جو کوئی کام نہ ہونے کی صورت میں ہو جاتی ہے جب تک وہ کام نہ ہو جائے ٹینشن برقرار رہتی ہے۔ ڈیپریشن سے کسی شدید نوعیت کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔
بروقت کے لڑائی جھگڑے‘ بچوں کی ضروریات‘ اکثر گھروں میں تو یہ جھگڑے اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ معاملات قتل و غارت اور بیوی خاوند میں علیحدگی تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ میری یاداشت کے مطابق آج سے تقریباً تیس عشرے قبل 1996ء میں جب میں روزنامہ مرکز میں رپورٹنگ کے فرائض سرانجام دے رہا تھا تو میونپسل کارپوریشن راولپنڈی کے ریکارڈ کے مطابق صرف ایک ماہ میں طلاق کے ایک سو پچاس کیس رجسٹرڈ ہوئے تھے جس کی بنیادی وجہ مہنگائی‘ بے روزگاری اور وسائل میں کمی بتائی گئی تھی۔ خبر کی سرخی یہ تھی کہ مہنگائی بڑھنے لگی۔ گھر اجڑنے لگے۔ شومئی قسمت کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی وہی رونا دھونا‘ وہی سیاپا‘ جس کی وجہ سے شرح طلاق میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔
یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ صرف ایک دن میں راولپنڈی کی فیملی کورٹ میں دوسو تیرہ جبکہ لاہور کی عدالت میں بھی ایک دن میں چار سو چون طلاق کے کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ آج مہنگائی کے علاوہ دیگر کئی مسائل بھی طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ عدم برداشت‘ برابری کی ضد‘ اور انا‘ جب سے نوجوان نسل کے دماغ میں یہ سمایا ہے کہ آپ کون سی پسند‘ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ازدواجی زندگیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف گزشتہ روز میں نے جو منظر دیکھا وہ قابل رشک تھا‘ میں اپنے ایک دوست سے ملنے اس کے گھر گیا۔ ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک اس کے والد کمرے میں داخل ہوئے جنہیں دیکھ کر میرا دوست انتہائی مودبانہ انداز میں کھڑا ہوگیا اور جب تک اس کے والد بیٹھ نہیں گئے وہ کھڑا رہا اور جتنی دیر وہ ہمارے درمیان موجود رہے میرے دوست نے گفتگو میں بھی ادب احترام اور ملحوظ خاطر رکھا اور جب اس کے والد جانے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ پھر کھڑا ہوگیا اور انہیں دروازے تک چھوڑ کر آیا۔ ایسے مناظر اب خال خال ہی دیکھنے میں آتے ہیں جبکہ یہ روایت ہمارے ایج روپ نے ہی قائم رکھی ہوئی ہے۔
ڈیپریشن ہماری زندگیوں میں تشویش ناک حد تک سرایت کر چکا ہے۔ چند برس قبل تک پانچ افراد میں سے ایک فرد ذہنی مریض تھا اور آج تین افراد میں سے ایک فرد اس مرض میں مبتلا ہے۔ گھریلو مسائل کے علاوہ ملکی غیر یقینی صورتحال بھی اس کا باعث بن رہی ہے۔ ہر چہرہ ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے اور اس کا ایک ہی سوال ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہوگا۔ لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ ہمارے نام نہاد نجات دھندہ جن کے اپنے ہی دھندے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ عوام ڈیپریشن کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ برداشت کی جگہ عدم برداشت نے لے لی ہے۔ ڈیپریشن کے علاوہ کروڑوں افراد دیگر مہلک امراض میں بھی مبتلا ہیں۔ عوام اور اشرافیہ میں خلیج گہری ہوتی جارہی ہے۔ ایک وقت تک تھا جب امید کی کوئی کرن دکھائی دیتی تھی اور اس کا دیا بھی روشن تھا لیکن آج امید کی کرن اور اس کا دیا دونوں ہی ماند پڑ چکے ہیں۔ کیونکہ جن میں تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ہیں۔ خدانخواستہ یہ ہوا مزید تیز ہوگی تو تین میں سے ایک فرد کے بجائے ہر فرد ڈیپریشن کی لپیٹ میں آجائے گا۔
چند دن قبل لاہور میں پیش آنے والے ایک حادثے نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شاید ڈیپریشن نے لوگوں کو بے حس اور خودغرض بنا دیا ہے۔ بے حسی کا یہ عاصم ہے کہ کولڈڈرنکس لے کر جانے والا ایک ٹرک حادثے کا شکار ہو جاتا ہے جس میں چار افراد موقع پر جاں بحق ہو جاتے ہیں لیکن جائے حادثہ پر پہنچنے والے زندہ و جاوید افراد میتوں کو اٹھانے کے بجائے کولڈڈرنکس لوٹنے اور نوش کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ بے حسی کے ایسے مناظر روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ اب صرف صبر کا گھونٹ ہی پیا جاسکتا ہے جو ہم خاموشی سے پی رہے ہیں۔