Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

زندگی اے زندگی….

ڈیپریشن…جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں متعدد انسانی جانیں۔ ڈیپریشن کی نذر ہوچکی ہیں۔ جن میں قابل ذکر اسلام آباد پولیس کے سپرنٹنڈنٹ پولیس عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی ہے یہ سانحہ پیش آئے ہوئے تقریباً تین ہفتے گزر چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ خودکشی ایسے ہی معمہ بنی ہوئی ہے جیسے پیارے دیس کی تاریخ میں پیش آنے والے دیگر کئی حادثات اور واقعات برسوں گزرنے کے باوجود بھی پراسرایت کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں جبکہ اس نوعیت کے واقعات ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں لیکن دھوم دھام سے کی جانے والی تحقیقات کے باوجود ان کا کوئی ’’سرا کھرا‘‘ ہاتھ نہیں لگتا۔ جس طرح کسی سانحے کے پس پردہ کردار اور پراسرار قوتیں منظر عام پر نہیں آتیں اس طرح تحقیقات کو بھی بے ضرر بنانے میں بعض خفیہ ہاتھ اپنے ’’فن‘‘ کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ایمبولینس کی خرابی، وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل، جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کے علاوہ دیگر اعلیٰ فوجی قیادت کو پیش آنے والا سانحہ بہاولپور، بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ اور بم دھماکہ، سانحہ مشرقی پاکستان اور سانحہ ماڈل ٹائون جیسے سنگین نوعیت کے واقعات کی تفتیش اور تحقیقات بھی فائلوں کے ڈھیر میں دب گئی ہیں۔ یا دبا دی گئی ہیں۔ یہ الفاظ تحریر کرتے ہوئے دل دکھتا ہے کہ مملکت خداداد میں انسانی جان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ قتل و غارت اور انسان کا انسان پر وحشیانہ تشدد کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ لمحہ فکریہ ہے اس نوعیت کا جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو چند دن ہنگامہ اور شور شرابا برپا رہتا ہے لیکن پھر گہرا سکوت چھا جاتا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی اس ضمن میں تازہ مثال ہے۔ اس واقعے کی گرد بھی کسی حد تک بیٹھ چکی ہے۔ افواہیں اور من گھڑت کہانیاں بھی دم توڑ چکی ہیں۔ اس پر مختصر سے وقت کے لئے دوبارہ اس وقت حسب توفیق اظہار خیال کیاگیا۔ جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عدیل اکبر کی اہلیہ کے لئے متعدد مراعات کی منظوری دی، جن میں سرکاری گھر، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بلوں کی ادائیگی، ڈبل کیبن گاڑی بمعہ ماہانہ ایک ہزار لیٹر پٹرول، دو ڈرائیور، تین گن مین، ایک باورچی اور سوئیپر کی سہولیات شامل ہیں۔
بلاشبہ آسائشیں اور مراعات ایک انسان کے دنیا سے جانے کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتیں۔ لیکن ان سے لواحقین کی کسی حد تک داد رسی ضرور ہو جاتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رصوی کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔ عدیل اکبر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت پولیس آفیسر تھے۔ فورسز میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور پھر اعلیٰ افسران کی سرزنش بھی معمول کی ’’کارروائی‘‘ تصور کی جاتی ہے۔ فورسز میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو بخوبی یہ ادراک ہوتا ہے کہ انہیں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بھی غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فورسز سے وابستہ افراد کو مضبوط اعصاب کا انسان سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے مذہب میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی انسان کو کانٹا بھی چبھ جائے تو اس کی چھبن بھی شدید تکلیف دیتی ہے۔ آتشیں اسلحے سے اپنی زندگی ختم کرنے کی اذیت سے جسم و جاں میں خوف کی جھرجھری سی دوڑ جاتی ہے۔
گزشتہ کالم میں معاشرے میں پائے جانے والے ڈیپریشن کا تذکرہ کیا تھا، جسے قارئین نے بے حد سراہا اور اسے حقیقت کے عین مطابق قرار دیا، ڈیپریشن کے حوالے سے تحریر کئے گئے کالم اور زیر نظر سطور تحریر کرنے تک کئی افراد ڈیپریشن کے باعث خودکشی کر چکے ہیں۔ عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کے بعد اسلام آباد میں خودکشی کا ایک اور واقعہ بھی پیش آچکا ہے جس کے مطابق سابق ائیر کموڈور عبدالسلام نے اپنی رہائش گاہ پر سر پر گولی مار کر خودکشی کرلی ہے۔ ائیرکموڈور عبدالسلام کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ منصب اور زندگی کی تمام آسائشیں عطا کر رکھی تھیں۔ اس کے باوجود خودکشی کرنا ایک معمہ ہی ہے۔ ادھر تھانہ فیروز والا میں ایک پولیس کانسٹیبل شیروز افضل نے بھی اپنے گھر میں پستول سے ماتھے پر گولی مار کر خودکشی کرلی ہے۔ شیروز افضل کی عمر صرف بائیس سال تھی اور چند ماہ بعد اس کی شادی ہونے والی تھی۔ خودکشی سے دونوں واقعات کی حسب روایت، روایتی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ جو لسی میں مدہانی چلانے کے مترادف ہی ثابت ہوں گی اور ان سے کبھی بھی مکھن نہیں نکلے گا۔ جبکہ کلرسیداں میں بھی ایک چوبیس سالہ نوجوان بابر قیوم نے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بابر قیوم کے والدین کسی کام کی غرض سے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ واپس آئے تو بیٹے کی لاش کو رسے سے جھولتے ہوئے دیکھا۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ دنیا کے غم کم ہونے کے بجائے ان میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ لیکن غم کو اپنے اوپر اتنا بھی طاری نہیں کرلینا چاہیے کہ انسان اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی جان لے لے۔ کبھی نشیب کبھی فراز، کبھی غم کبھی خوشی اور کبھی خوشحالی اور کبھی تنگدستی زندگی کا حصہ ہیں۔ ایسے حالات میں رب ذوالجلال سے صبر اور آسانیاں عطا کرنے کی دعا کی جائے۔ سوہنڑاں رب اپنے بندے کی سنتا بھی ہے اور معاف بھی کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ رحمان ہے، رحیم ہے اور کریم ہے۔

یہ بھی پڑھیں