Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

عرفان صدیقی صحافت وسیاست کا تابندہ ستارہ

استاد محترم عرفان صدیقی بھی اللہ پاک کے حضور پیش ہو گئے ،اس خاکسار کا ان سے تقریباً 27سالہ پرانا تعلق آج ٹوٹ گیا ،ان کی شفقت بھری ادائیں یادگار بن کر قلب و ذہن کو جلا بخشتی رہیں گی وہ صرف ’’صدیقی‘‘ ہی نہیں بلکہ لفظوں کی صداقت کے امیں بھی تھے۔’’نفاست‘‘ ان کے انگ انگ سے پھوٹتی تھی،انہوں نے اس وقت مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں اپنے ’’قلم‘‘ سے ’’تلوار‘‘ کا کام لیا کہ جب بڑے بڑے نامی گرامی صاحبان قلم ،بلکہ میڈیا ہائوسز بھی امریکی بارگاہ میں سجدہ ریز تھے، وہ ادیب ،مصنف ،شاعر، سیاستدان اور عظیم صاحب طرز کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ترین کردار کے حامل بڑے انسان بھی تھے، وہ جب اپنے قلم کو تلوار بنائے ’’شہنشاہ عالم پناہ‘‘کی فرعونیت کو للکارتے تھے،تو تب ایک مرد قلندر اللہ والے نے ان کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’ملا عمر کے خیمے کے گرد ایک شخص اپنے قلم کو تلوار بنا کر پہرہ دے رہا ہے، اس شخص کا نام عرفان صدیقی ہے،وہ آقاﷺ کی طرف پھینکے جانے والے ہر تیر کا جواب دیتا ہے، وہ تڑپ تڑپ کر مقابلہ کرتا ہے، طاقتور دشمنوں کو کھری کھری سناتا ہے، وہ کبھی ملا عمر کے چہرے کی خاک جھاڑتا ہے، تو کبھی کشمیر کے بوڑھے علی گیلانی کو جا کر سہارا دیتا ہے، وہ کبھی فلسطینی مجاہدین کا حوصلہ بڑھاتا ہے تو کبھی دجلہ فرات کے کنارے جا کر سیدنا حسان بن ثابت ؓکی طرز میں لشکر اسلام کو ہمت دلاتا ہے، وہ چاہتا تو اپنے سیال قلم کو بیچ کر امریکہ کے دورے کرتا پھرتا، مگر وہ تو آقا ﷺکے خیمے کا پہرہ دے رہا ہے۔
صدیقی صاحب مبارک ہو بہت مبارک خزاں کے موسم میں بہار کی نگرانی مبارک، خزاں کے بعد پھر بہار ہے، اوربہار کی رتوں میں آپ کا بھی حصہ شامل رہے گا، شہیدوں کی قبروں پر جب موسم بہار میں پھول کھلیں گے تو پھولوں کی مہک میں اپ کا حصہ میں شامل ہوگا، جی ہاں یہ سب کچھ’’ اصل زندگی ‘‘ میں بہت کام انے والا ہے، آخر حوض کوثر پر بھی تو ایک تقریب ہونی ہے۔ مبارک ہوآقا ﷺکے خیمے کے پہرے دارو! مبارک ہو،صدیقی صاحب ماشاء اللہ دینی معاملات میں بہت محتاط رہے اللہ کی شان دیکھئے کہ انسان کا علم اور تقویٰ جس قدر برتا جاتا ہے دینی معاملات کے بارے میں اس کی احتیاط میں اضافہ ہوتا جاتا ہے حضرات صحابہ کرام ؓمیں سے بعض جب کوئی حدیث سناتے تھے تو ان پر خوف اور احتیاط کی وجہ سے گریہ طاری ہو جاتا تھا کوئی بات غلط نہ نکل جائے اسلاف میں سے کسی کا فرمان ہے’’لا ادری نصف العلم ‘‘ یعنی یہ بات کہنا کہ میں نہیں جانتا یہ آدھا علم ہے،امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ جیسے امام فرماتے ہیں کہ جیسے جیسے میرا علم بڑھتا جاتا ہے مجھے اپنی جہالت کا زیادہ پتہ چلتا جا رہا ہے عرفان صدیقی پر اللہ تعالیٰ کا احسان رہا کہ وہ دینی معاملات میں خود بھی احتیاط کرتے رہے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہے وہ ہفت روزہ القلم میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں کہ ’’قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ یہ نام نہاد روشن خیال طبقہ دینوی علوم پر اپنے اپ کو سند خیال کرتا ہے، یہ ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ کمپیوٹر یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے امور میں مداخلت کرے، لیکن جب دین کا معاملہ اتا ہے تو یہ ’’مجتہد العصر‘‘بن بیٹھتے اور مفتی اعظم کے انداز میں فتوے جاری کرنے لگتے ہیں، انہیں اس بات کا کچھ اندازہ ہی نہیں کہ دینی معاملات قرآن نصوص اور سنت نبویؐ کے حساس ترین منطقوں میں داخل ہونے کا استحقاق ہر کسی کو نہیں‘‘ صدیقی صاحب کی اسی احتیاط کا نتیجہ تھا کہ وہ اکثر و بیشتر قرآن و سنت کا حوالہ تو نہیں دیتے مگر بات قرآن و سنت کی ہی کرتے تھے،ان کی بعض عبارتیں قرآن و سنت کے عالی احکامات کی دل نشین تشریح ہوتیں، ان کے ایک کالم کے چند جملے بطور مثال پیش خدمت ہیں ’’جب سوچ کے سارے راستے دنیوی مفادات کی منزلوں کی طرف نکل جائیں اور انسان کی نگاہ دور کے منظروں سے ہٹ کر سامنے بچھے دسترخانوں تک محدود ہو کر رہ جائے تو اس کی پوری شخصیت دنیا داری کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے، مادیت کا طلسم اس کے افکار و اعمال کو پوری گرفت میں لے لیتا ہے اور ذرا ذرا سی لذائذ اس کا منتہائے مقصود بن جاتے ہیں، جب انسان ایسے آشوب میں مبتلا ہو جائے تو اس کے پر خود بخود جھڑنے لگتے ہیں، اس کے لہو کی حرارت پر برف گرنے لگتی ہے، اس کے ایمان اور یقین کے قلعے کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کے دست و بازو کی توانائی خود بخود کسمسانے لگتی ہے۔‘‘
یہ کیفیت ہولے ہولے شیروں کو بھی رباہی سکھانے لگتی ہے اور انہیں اپنی ایسی جبلی خصوصیات سے محروم کر دیتی ہے جو ان کے رعب و وقار اور دبدبے اور عظمت کی علامت ہوتی ہیں،وہ مسلم لیگ نون اور اس کی قیادت کے قریب ترین ہونے کے باوجود لبرل اور سیکولر شدت پسندی سے دور بہت دور رہے، اسلام پسندی انکی گھٹی میں شامل تھی، کراچی کے ایک ہوٹل میں روزنامہ اوصاف کراچی ایڈیشن کی اوپننگ تقریب میں پورے ملک کی قیادت شریک تھی اس خاکسار نے استاد محترم عرفان صدیقی نور اللہ مرقدہ کو دعوت خطاب دیتے ہوے عرض کیا کہ اسلام پسند اور امت کے غم خوار کالم نگار استاد محترم عرفان صدیقی کہ جو آج کل مسلم لیگ نون کو پیارے ہو گئے ہیں کو خطاب کی دعوت دیتا ہوں، محترم عرفان صدیقی مسکراتے ہوئے مائیک پہ تشریف لائے اور یوں گویا ہوئے کہ عالی مرتبت ہاشمی صاحب کی محبت ہمارا سرمایہ ہے،اور ہمارے درمیان یہ محبت بھری اٹھکیلیاں جاری رہتی ہیں اور پھر اپنا خطاب شروع کیا۔

یہ بھی پڑھیں