اہلیان وطن کو یقین کامل تھا کہ ستائیسویں ترمیم بھی اچھے نمبروں سے پاس ہو جائے گی۔ ان کا موقف ہے کہ اگر 26ویں آئینی ترامیم پاس ہوسکتی ہیں تو پھر ستائیسویں ترمیم بھی نہ صرف پاس ہو جائے گی بلکہ اس کے بعدپیش کی جانے والی ترامیم بھی پاس ہوتی رہیں گی۔ کسی مائی کے لعل میں جرات ہے کہ وہ ترامیموں کے پاس ہونے میں رکاوٹ ڈالے۔ یا اس پر اعتراض کرے۔ امور مملکت اس وقت حصہ بقدر جشہ کے فارمولے کے تحت چلائے جارہے ہیں جس سیاسی جماعت کا جتنا جشہ ہے اسے اتنا حصہ مل رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ایک دوسرے پر سنگین الزامات آ ج بھی عوام کی یادداشتوں میں محفوظ ہیں ۔ سڑکوں پر گھسیٹنے اور پیٹ پھاڑنے کے ڈائیلاگ بچے بچے کو یاد ہیں۔ لیکن آج یگانگت اور بھائی چارے کے مناظر دیکھ کر حیرت ہو رہی ہے شائد اقتدار چیز ہی ایسی ہے کہ اس پر سیاستدانوں کی رال ٹپکتی رہتی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ سب کچھ فراموش کر دیتے ہیں ۔ سیاستدانوں کی چالبازیوں پر اب عوام نے چپ سادھ لی ہے یا شائد انہوں نے بھی حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران نے ستائیسویں ترمیم کی بھرپور حمایت کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اقتدار سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔
1973 ء کا آئین ’لیرولیر‘ ہوچکا ہے۔ جو حشر جمہوریت کے ساتھ کیا جارہاہے وہی سلوک آئین کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ ستائیسویں ترمیم کا ’چن‘ کیا چڑھا کہ ملک بھر میں رولا پڑگیا ہے اور اس رولے میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں سے اس خدشے کو تقویت مل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مستعفی ہونے والے جج صاحبان کو مختلف بار کورٹس اور وکلا تنظیموں کی طرف سے احتجاجی ریلیوں میں شرکت اور اجلاسوں سے خطاب کرنے کی دعوت دی جارہی ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ عدلیہ سے مزید استعفے بھی آسکتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو بحرانوں میں گھرے وطن عزیز کو مزید بحرانوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مستعفی ججوں سے مختلف عدالتوں کے جج صاحبان بھی اظہار یکجہتی کررہے ہیں اس سے عدلیہ اور حکومت میں تنائو پیدا ہوگا۔ وکلا برادری ستائیسویں ترمیم کو عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کے مترادف قرار دے رہی ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ستائیسویں ترمیم پر حکومت کی ہمنوا ہے۔ ابھی26 ویں ترمیم کارولا ختم نہیں ہوا تھا کہ ستائیسویں ترمیم کا کٹا کھول دیا گیا ہے۔ مختلف عدالتوں کے جج صاحبان سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو خطوط لکھ کر اپنا حال دل سنا رہے ہیں۔ ان خطوط کے جوابات آتے ہیں یا نہیں‘ فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
ستائیسویں ترمیم پاس ہونے کے بعد جسٹس امین الدین کو آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا ہے جنہوں نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھالیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں سینئر جج صاحبان نے شرکت نہ کرکے اپنا خاموش احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔
نئی نویلی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 2030 ء تک اپنے منصب پر فائز رہیںگے اور آئندہ عام انتخابات بھی اس عرصے کے دوران ہوں گے۔ جو شائد پاکستان تحریک انصاف کے لئے نیک شگون ثابت نہ ہو۔ موجودہ ملکی صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک پیج پر ہیں۔ ستائیسویں ترمیم کے پاس ہونے پر حکومت بظاہر خوشی کا اظہار کر رہی ہے لیکن ترمیم کی حمایت کرنے کے دوران ایوان میں موجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین کی باڈی لینگوئج اور چہروں کے تاثرات یہ ظاہر کررہے تھے کہ جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں۔ آخری گیت سنانے کے لئے آئے ہیں۔ جبکہ تین بار وزارت عظمی کے منصب پر فائز رہنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے ان الفاظ کی بازگشت کانوں میں اس وقت گونج رہی تھی جو انہوں نے جنرل ضیا الحق کی برسی کے موقع پر انتہائی جوش و خروش سے محترمہ بینظیر بھٹو کے حوالے سے کہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں یہ عورت کہاں سے آگئی ہے۔ یہ انگریزوں کے کتے نہلانے والے لوگ ہیں۔ اس کے باپ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیئے تھے۔ جبکہ بلاول زرداری بھٹو نے بھی ببانگ دہل کہا تھا کہ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کبھی بھی اتحا د نہیں کرے گی۔ ستائیسویں ترمیم کی منظوری کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی اختلافات کا دھواں اٹھنا شروع ہوگیا ہے۔
پیارے دیس میں کشیدگی کی فضا سے ملک و قوم کا نقصان ہوگا۔ عوام اس وقت اس کشتی میں سوار ہیں جس کا ملاح چپو چلانے میں دانستہ غفلت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ مسافر کنارے پر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ اپوزیشن بھی احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دے رہی ہے۔ لیکن تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے اسے اپنی ساری کشتیاں جلانی پڑیں گی۔ اگر احتجاجی تحریک میں شدت پیدا ہوگئی تو حکومت کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی اڑپھس کیا رنگ لائے گی۔ اس کے لئے پاکستان کو اس طرح انتظار کرنا ہوگا۔ جس طرح وہ گزشتہ78 برسوں سے اچھے دنوں کا انتظار کررہے ہیں۔