Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

شادی،کم عمری!شریعت سے متصادم قا نون سازی

پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی محض قانونی معاملہ نہیں بلکہ ایک گہری مذہبی، سماجی اور تہذیبی بحث بن چکی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کا بل منظور ہونے کے بعد مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا، جس میں اپوزیشن رہنما مسافر وزیر نے اسے غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون مغربی این جی اوز کے ایجنڈے کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق ہمارے معاشرتی حالات، خاندانی نظام اور مذہبی اصول مغربی معاشرے سے بالکل مختلف ہیں، اس لیے ایسے قوانین درآمد کرنا قومی اقدار سے انحراف ہے۔ بعد ازاں یہی بحث وفاقی سطح تک پھیلی اور قومی اسمبلی و سینیٹ نے بھی ایک ایسا ہی بل منظور کر کے اسے ملک گیر قانون بنا دیا، جس کے بعد شریعت و قانون کا بنیادی تنازع اور زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا۔
کم عمری کی شادی کے موضوع پر اسلامی نقطہ نظر صدیوں سے واضح اور مستحکم چلا آ رہا ہے۔ شریعت نے نکاح کے لیے کوئی مخصوص عمر مقرر نہیں کی، بلکہ بلوغت، اہلیت اور معاشرتی مصلحت کو بنیاد قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں نکاح کے مقاصد سکون، مودت اور عفت بتائے گئے ہیں، جبکہ سورۃ النسا ء کی آیت وابتلوا الیتامی حتی اِذا بلغوا النِکاح میں بلوغت کو نکاح کے قابل ہونے کا معیار فرمایا گیا ہے۔ اس آیت کی روشنی میں تمام مکاتبِ فکر کے فقہاحنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور جعفری اس بات پر متفق ہیں کہ نکاح کی اہلیت کا بنیادی پیمانہ بلوغت ہے، نہ کہ سرکاری طے شدہ کوئی عددی عمر۔ بعض فقہا نے پندرہ سال کو علامتِ بلوغت اور بعض نے جسمانی نشوونما کو معیار قرار دیا، جس سے ظاہر ہے کہ شریعت نے اس معاملے میں لچک رکھی ہے اور اسے حالات کے مطابق چھوڑا ہے۔
ایسے میں ریاست کا 18 سال کی لازمی حد مقرر کرنا شریعت کے اس اصول سے ہٹ کر ہے جو فرد اور خاندان کو نکاح کی اہلیت کے تعین کا اختیار دیتا ہے۔ ریاست کا کام بنیادی طور پر سہولت، نگرانی اور انصاف فراہم کرنا ہے، نہ کہ ایسے معاملات میں مداخلت کرنا جن کا فیصلہ شریعت پہلے ہی کر چکی ہے۔ اگر بالغ لڑکے یا لڑکی کو قانونی عمر کی وجہ سے نکاح سے روک دیا جائے تو اس سے نہ صرف ان کی شرعی حق تلفی ہوگی بلکہ معاشرتی و اخلاقی مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں مسافر وزیر نے اسی نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ قانون مقامی روایات سے میل نہیں کھاتا اور بیرونی ادارے ایسے قوانین کے پیچھے بنیادی محرک ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی معاشرہ ایک مخصوص خاندانی ڈھانچے کا حامل ہے جہاں نکاح محض سماجی معاہدہ نہیں بلکہ دینی فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، اس لیے اسے مغربی فریم ورک میں مقید کرنا غیر مناسب ہے۔ مغربی معاشروں میں بلوغت، خاندانی ذمہ داری، ماں باپ کے اختیارات اور معاشرتی اخلاقیات کا پیمانہ ہمارے معاشرے سے بالکل مختلف ہے، اور انہی بنیادوں پر ان کی شادی کی عمر متعین کی جاتی ہے۔ ان نظاموں کو اسلامی معاشرے پر لاگو کرنا نہ صرف غیر فطری بلکہ کئی صورتوں میں غیر شرعی بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
اس معاملے میں پاکستان کا سرکاری مذہبی ادارہ، اسلامی نظریاتی کونسل (CII)، سب سے زیادہ واضح اور مضبوط موقف رکھتا ہے۔ کونسل نے وفاقی قانون سازی کو شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمر کی حد مقرر کرنا اسلامی تعلیمات کے مزاج کے خلاف ہے۔ کونسل کے مطابق شریعت میں جہاں کہیں بھی نکاح کا ذکر ہے، وہاں بلوغت، اہلیت اور ذمہ داری کی بات کی گئی ہے، نہ کہ کسی مقررہ عمر کا حکم دیا گیا ہے۔ کونسل کا یہ بھی موقف ہے کہ اگر معاشرے میں کہیں کم عمری کی شادی ظلم یا زیادتی کا باعث بنتی ہو تو اس کا حل نکاح پر پابندی نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے موثر نگرانی، نکاح رجسٹریشن، طبی رہنمائی اور سوشل پروٹیکشن کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اس قانون کی سب سے شدید مخالفت جمعیت علمائے اسلام(ف) نے کی۔ جے یو آئی کے رہنماں نے موقف اپنایا کہ یہ قانون اسلامی روایات اور فقہی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نکاح جیسے دینی ادارے پر پابندی کا اختیار ریاست کو نہیں دیا جا سکتا۔ اگر بلوغت کے باوجود نوجوانوں کو نکاح سے روکا جائے تو اس سے معاشرتی الجھنوں میں اضافہ ہوگا، کیونکہ شریعت نے نوجوانوں کے لیے نکاح کو فتنوں سے بچائو کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن نے بھی اس قانون کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوغت کے باوجود صرف عمر کی بنیاد پر نکاح کو جرم بنانا شریعت کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا فرض ہے کہ ظلم کی راہیں بند کرے، نہ کہ خود شریعت کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے جائز چیزوں کو پابندیوں کا شکار بنائے۔ ان کے مطابق ایسے قوانین معاشرے میں بے چینی اور خاندانی انتشار پیدا کرتے ہیں، کیونکہ یہ دینی احکام میں غیر ضروری مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔
قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسائل نکاح پر پابندی سے حل نہیں ہوتے بلکہ نکاح کے ناقص انتظام، عدم رجسٹریشن، والدین کی غفلت اور معاشرتی نابرابری سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی بچوں کے حقوق کی حفاظت چاہتی ہے تو اسے نکاح پر پابندی نہیں بلکہ بہتر انتظامی اور سماجی اصلاحات کی طرف جانا چاہیے۔ نکاح کو جرم بنا دینا نہ شرعاً درست ہے اور نہ معاشرتی لحاظ سے سودمند۔
بالآخر مسئلہ صرف یہ نہیں کہ یہ قانون کیوں لایا گیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے قانون سازی کے عمل کی بنیاد کیا ہوگی؟ کیا ریاست اسلامی اصولوں کو بنیاد بنائے گی یا بیرونی اداروں کے بیانیے کو قانون کا محور بنایا جائے گا؟ پاکستان کا آئینی تشخص اسلامی ہے اور قانون سازی اسی وقت معتبر ہوگی جب وہ قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق ہو۔ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کرتا ہے کہ ہم بطور ریاست کس سمت میں جا رہے ہیں اور ہماری قانون سازی کس نظریاتی بنیاد پر کھڑی ہے۔
یہ بحث ختم نہیں ہوئی؛ بلکہ ابھی شروع ہوئی ہے۔ معاشرہ اس سوال کے جواب کا منتظر ہے کہ آیا ہمارا قانون مذہبی روایت کے تابع ہوگا یا جدید عالمی رجحانات کے تابع؟ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں