پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جنرل محمد ضیاء الحق کا دور ایک ایسا باب ہے جو آج بھی تنازعہ، غم، اور عبرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 5 جولائی 1977 ء سے 17 اگست 1988 ء تک جاری رہنے والا یہ دور گیارہ سالوں پر محیط تھا ایک ایسا عرصہ جس میں پاکستان نے جمہوریت، آئین، اور شہری آزادیوں پر مسلسل حملے برداشت کیے۔
5 جولائی 1977ء کو انہوں نے ایک آئینی طور پر منتخب وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کیا، اور یوں پاکستان کی جمہوری سمت کو ایک بار پھر فوجی آمریت کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب آئینِ پاکستان معطل ہوا، عوام کی حاکمیت چھینی گئی، اور ریاست کا نظم بندوق کے سائے میں منتقل کر دیا گیا۔
ضیاء الحق کے اقتدار کا آغاز ہی غیر آئینی تھا۔ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد وعدہ کیا کہ نوے دن میں انتخابات کرائے جائیں گے، مگر یہ وعدہ گیارہ سالوں تک پورا نہ ہوا۔ اس عرصے میں پاکستان نے نہ صرف جمہوریت کا جنازہ دیکھا بلکہ عدلیہ، میڈیا، اور سیاسی اداروں کو ایک ایک کر کے ضیاء کی مطلق العنانیت کے تابع ہوتے دیکھا۔ آئین کی شق 6 کے مطابق، آئین توڑنا سنگین غداری ہے، مگر ضیاء نے اس عمل کو اصلاح اور اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر جائز ٹھہرایا۔
ان کے دور کا سب سے المناک اور غیر آئینی واقعہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی تھا، جو ایک متنازع عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ہوئی۔ اس مقدمے کو دنیا بھر کے ماہرین قانون نے judicial murder کہا۔ ایک منتخب وزیرِاعظم کو ختم کر کے ضیاء نے نہ صرف ایک انسان بلکہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کو بھی پھانسی دے دی۔
ضیاء الحق نے آئین کو معطل کرنے کے بعد Provisional Constitutional Order (PCO) جاری کیا، جس کے تحت جج صاحبان سے نیا حلف لیا گیا کہ وہ آئین کے بجائے فوجی حکم نامے کے وفادار رہیں۔ جن ججوں نے یہ حلف لینے سے انکار کیا، انہیں برطرف کر دیا گیا۔ اس طرح عدلیہ، جو آئین کی محافظ تھی، ضیاء کے احکامات کی تابع بنا دی گئی۔
سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی، اخبارات پر سنسرشپ عائد ہوئی، اور اختلاف رائے رکھنے والے دانشوروں اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ معروف صحافیوں کو کوڑے مارنے کے مناظر آج بھی پاکستانی تاریخ کے بدنما دھبے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 19جو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، ضیاء کے دور میں محض کاغذ پر رہ گیا۔ اس وقت کے کئی صحافی آج بھی یاد کرتے ہیں کہ خبر چھاپنے سے پہلے صرف سچ نہیں، ضیاء کی مرضی دیکھنی پڑتی تھی۔
1984 ء میں جنرل ضیاء ء نے ایک غیر آئینی ریفرنڈم کرایا جس کے ذریعے خود کو صدر منتخب کروایا۔ اس ریفرنڈم میں سوال ہی ایسا رکھا گیا جس کا مقصد عوامی رائے نہیں بلکہ مذہبی جذبات کو استعمال کرنا تھا: کیا آپ پاکستان میں اسلامی نظام چاہتے ہیں؟۔ یہ ایک سیاسی چال تھی تاکہ اپنی حکمرانی کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر جائز دکھایا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ریفرنڈم نے جمہوریت کی روح کو مزید زخمی کیا۔
ریفرنڈم کے بعد ضیاء الحق نے 1985 ء میں آئین میں آٹھویں ترمیم (8th Amendment) متعارف کرائی یہ ان کے دور کا سب سے متنازع آئینی اقدام تھا۔ اس ترمیم کے ذریعے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے، وزیراعظم کو برطرف کرنے، اور آئینی اختیارات کو اپنے ہاتھ میں مرکوز کرنے کا مکمل اختیار دے دیا گیا۔
یہی وہ شق تھی (آرٹیکل 58(2)(b)) جس نے بعد کے برسوں میں منتخب حکومتوں کی برطرفیوں کا راستہ کھولا۔ اس ترمیم نے نہ صرف پارلیمانی نظام کو کمزور کیا بلکہ پاکستان کی سیاست میں مستقل غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی۔ یوں آئین میں کی گئی یہ تبدیلی دراصل مارشل لا کو آئینی لبادہ پہنانے کی ایک کوشش تھی۔
اسی دوران ضیاء ء نے اسلامائزیشن کے نام پر حدود آرڈیننس نافذ کیے، جنہیں پارلیمنٹ نے کبھی منظور نہیں کیا۔ یہ قوانین عورتوں، اقلیتوں، اور عام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف سمجھے گئے۔ مذہب کو ریاستی طاقت کے ساتھ جوڑ کر انہوں نے وہ فکری بیج بوئے جن سے آج کی شدت پسندی، فرقہ واریت اور انتہاپسندی نے جنم لیا۔ ان قوانین کے اثرات آج بھی معاشرتی سوچ میں جڑوں تک سرایت کیے ہوئے ہیں۔
ان کے دور میں افغان جنگ کے ذریعے پاکستان کو ایک عالمی اسلحہ گاہ بنا دیا گیا۔ امریکہ اور دیگر ممالک سے آنے والا اسلحہ اور پیسہ بعد میں معاشرے میں دہشت گردی، منشیات اور کرپشن کا باعث بنا۔ ضیاء الحق کے فیصلوں نے نہ صرف آئین بلکہ پاکستان کے سماجی تانے بانے کو بھی چیر کر رکھ دیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب بندوق، ڈالر اور مذہب کو ایک ساتھ ملا کر اقتدار کا نیا فلسفہ تخلیق کیا گیا جس کے نتائج ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔
آئین کی پامالی، عدلیہ کی تذلیل، اور جمہوریت کے گلا گھونٹنے کے بعد جب 17 اگست 1988 ء کو ضیاء الحق کا طیارہ حادثے میں تباہ ہوا، تو پاکستان ایک شدید نظریاتی، سیاسی اور مذہبی تقسیم میں مبتلا تھا۔ ان کے جانے کے بعد بھی ان کا سایہ سیاست، مذہب، اور اداروں پر قائم رہا جیسے کوئی زہریلی میراث جس سے نجات آج تک مکمل نہیں ہو سکی۔ ان کا دور اس بات کی عملی مثال ہے کہ جب طاقت قانون پر غالب آ جائے تو ریاست اپنی روح کھو بیٹھتی ہے۔
جنرل ضیاء الحق کا دور پاکستان کے لیے ایک ایسا سبق ہے جو بار بار یاد دلانے کی ضرورت ہے: جب آئین ٹوٹتا ہے، تو ریاست صرف قانونی نہیں، اخلاقی بنیاد بھی کھو بیٹھتی ہے۔ جمہوریت کمزور ہو سکتی ہے، مگر آمریت کبھی بھی پائیدار نہیں رہتی۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ قومیں آئین کے تحفظ سے ہی زندہ رہتی ہیں، اور جو آئین کو توڑتے ہیں، وہ خود تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہو جاتے ہیں۔