جادو ٹونہ‘ تعویز گنڈھا‘ دست شناس اور شف شف کا کاروبار بھی اب ایک صنعت کا درجہ اختیار کرچکا ہے۔ جس میں نہ سرمائے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صرف لال‘ سبز ‘ نیلے ‘ پیلے جھنڈے لگائیں۔ کندھوں تک بال بڑھائیں‘ کالا جوڑا پہنیں اور اگر اپنی روحانیت میں مزید اضافہ کرنا ہے تو آستانے کی دیوا روں پر بکرے کی چند سریاں لٹکا دیں اور گوگل سلگالیں۔ اس سے دھندہ چمک اٹھتا ہے۔ پیری فقیری پر لوگ اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ بالخصوص خواتین اس شعبے میں خاصی د لچسپی رکھتی ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کرتی ہیں جس میں انہیں اپنی کامیابی کی ہلکی سی جھلک بھی دکھائی دیتی ہو۔ اکثر ایسے واقعات بھی نظروں سے گزرتے ہیں جن کے مطابق خواتین اپنی جمع پونجی‘ زیورات حتی کہ اپنی عصمت بھی گنوا دیتی ہیں۔ جادو ٹونے کے کمالات دکھانے کے شعبے میں زیادہ تر مرد حضرات ہی نمایاں دکھائی دیتے ہیں جبکہ اس شعبے میں خواتین کی تعداد بہت کم ہے اور اگر کوئی ہے تو بشری بی بی کی طرح اس کے کمالا ت کی دھوم دور دور تک پھیل جاتی ہے۔عالمی جریدے نے بشری بی بی کی پیش گوئیوں کے حوالے سے پنڈورا باکس کھول کر ‘ چسکے خوروں کو ایک بار پھر چسکے لینے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف اور بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے داستان گوئی کرکے ان کے ناقدین کو بھرپور تسکین پہنچائی ہے۔ بشری بی بی کی روحانیت کے حوالے سے کہانیاں منظر عام پر لاکر شائد وہ سمجھ رہی ہوں گی کہ انہوں نے کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دے دیا ہے جبکہ انہوں نے جتنے بھی انکشافات کیے ہیں وہ اس سے قبل متعدد بار منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کی سٹوری میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر بشری بی بی اتنی ہی پہنچی ہوئی ہوتیں تو وہ اپنی روحانیت سے عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کو ہی ناکام بنا دیتیں۔ علاوہ ازیں بشری بی بی کو اڈیالہ جیل فراغت ہی فراغت ہے وہ اپنی اور عمران خان کی رہائی کے لئے چلہ کاٹ کر آزاد بھی ہوسکتی ہیں۔ یہ انکشافات پرانی فلم نیا پرنٹ کے مترادف ہیں۔
کیچڑ اچھالنے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا ریکارڈ بھی کوئی قابل تعریف نہیں ہے۔ کچھ دنوں سے واٹس ایپ پر مسلم لیگ (ن) کا ایک گروپ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جو ہرزہ سرائی اور الفاظ استعمال کر رہا ہے۔ یہاں ان کا متبادل لکھتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے۔ یہاں پیپلز پارٹی قابل ستائش ہے کہ اس کے راہنما اور کارکن اپنی مخالف سیاسی جماعت کی خواتین کے متعلق کوئی بھی قابل اعترا ض الفاظ استعمال نہیں کرتے۔ سیاست کو صرف سیاست تک ہی محدود رہنا چاہیے اور کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ خواتین کی ذاتی زندگی کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے۔ جہاں تک بات ہے روحانیت اور روحانی شخصیات کے آستانوں پر حاضری دینے اور رابطوں کی تو پاکستان کے بیشتر حکمران یہ فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں۔
بشری بی بی نے اگر روحانیت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا تو اس فعل پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا چہرہ یا فوٹودیکھ کر بشری بی بی تو کوئی چمتکار نہ دکھاسکیں۔ کیونکہ عمران خان کو وزات عظمی سے فارغ کرانے میں عثمان بزدار کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ غلام حیدر وائیں کے بعد عثمان بزدار کا وزارت اعلیٰ کا دور انتہائی ماٹھا اور بے سود رہا۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنے اثاثوں اور دولت میں بے پناہ اضافہ کرلیا۔
ملکی تاریخ میں تقرریوں اور تبادلوں میں بیگمات کا ہمیشہ عمل دخل رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں اور بیورو کریسی میں اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے لوگ بیگمات کا چینل ہی استعمال کرتے ہیں۔ جادو ٹوٹے اور تعویز گنڈھا کرنے کا کاروبار وسعت اختیار کرچکا ہے۔ جو بندہ کسی کام کاج کا نہیں ہوتا وہ لمبا چوغا پہن کر ملنگ بن جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جعلی عاملوں اور پیروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات صادر کر دیئے ہیں جس کے مطابق انہیں سات سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی جائے گی اور جعلی عاملوں اور پیروں کی تشہیری مہم پر بھی قانونی کارروائی ہوگی۔
یہ امرخوش آئند ہے کہ آئندہ عوام کو دیواروں پر بنگالی بابوں کے محبت میں ناکامی‘ محبوب آپ کے قدموں میں‘ شادی اور روزگار میں بندش اور گھریلو ناچاقی کے خاتمے کے لئے اشتہارات اور چاکنگ دکھائی نہیں دے گی۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی عاملوں اور پیروں کے لئے کیا معیار مقرر کیا جائے گا کہ ان کے پاس کون سی سند‘ ڈگری یا تجربہ ہونا چاہیے تاکہ انہیں کوالیفائیڈ بابا سمجھا جائے ۔ یہ ضروری ہے کہ عاملوں او ر پیروں کی بھی رجسٹریشن کی جائے تاکہ عوام دو نمبر بابوں سے محفوظ رہیں۔
برطانوی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ ابھی زیر بحث ہی تھی کہ بیرون ملک ایک صحافی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی منظر عام پر آگیا۔ جسے عمران خان کے کسی چاہنے والے کے تلخ اور تندوتیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جس پر کہا جارہاہے کہ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ کسی کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو۔ یہ کوئی قابل تعریف کام نہیں ہے۔ شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ شائد چند لاکھ لوگوں نے دیکھا ہو لیکن صحافی نے بشری بی بی کی ذات کے حوالے سے ٹی وی چینل پر جو ٹاک شو کیا تھا اسے کروڑوں افراد نے دیکھا تھا۔ کیا صرف سستی شہرت اور وقتی واہ واہ کے لئے اس نوعیت کا پروگرام کرنا مناسب تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ نہ صرف زندگی کے تمام شعبوں میں بلکہ اخلاقی طور پر بھی ہم تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں جس سے بگاڑ میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔