اگر قوم کے دو کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں تو اس کا مجرم یہ بوسیدہ نظام اور اس بوسیدہ نظام کے محافظ حکمران ہیں، وزیر د فاع خواجہ آصف سیالکوٹی فرماتے ہیں کہ اسلام آباد میں ہزاروں مساجد اور مدارس قبضے کی زمین پر بنے ہیں، فرمایا کہ پاکستان کا نصاب تعلیم امریکی یونیورسٹی نے افغان جہاد کو سپورٹ کرنے کے لئے ہمیں بنا کر دیا اور ہم نے وہ نصاب اپنے بچوں کو پڑھایا، پاکستان پر مزید طنز کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے دینیات کا نام اسلامیات کر دیا اور ہم پر ہر چیز کو اسلامی بنانے کا خبط سوار ہے۔اس سے قبل موصوف مسلمانوں کے ہیرو حضرت سلطان محمود غزنوی کو متعدد مرتبہ لٹیرا قرار دے چکے ہیں، جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ وہ ’’صاحب‘‘ ہیں، جنہیں اپنے ہی محلے کے پولنگ اسٹیشن سے شکست ہوئی، فارم سینتالیس کی جعلسازی سے جو وزارت پر قابض ہوئے ، اس سے پہلے الیکشن میں جنرل باجوہ کو کال کرکے سیٹ لینے کے حقائق بھی کوئی ڈھکے چھپے نہیں،حیرت ہے جس کی اسمبلی رکنیت اور وزارت کی اپنی حیثیت مشکوک اور غیر اخلاقی ہے، لیکن وہ نہایت ڈھٹائی کے ساتھ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر مدارس مساجد اور مسلمانوں کے سلطان محمود غزنویؒ جیسے عظیم ہیرو پر سنگ باری کر کے 25کروڑ پاکستانیوں کی د ل آزاری کا سبب بن رہا ہے،سوال مگر یہ ہے کہ ابھی تک وزیر اعظم شہباز شریف سمیت ن لیگ یا قومی سلامتی کے ضامن اداروں نے موصوف وزیر دفاع کے ان شدید متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟گو کہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی ایک بھی مسجد اور مدرسہ غیر قانونی نہیں،ہے، تاہم وزیراعظم اور قومی سلامتی کے اداروں کی ذمہ د اری ہے کہ وہ اس بات کا کھوج لگائیں کہ ایک وفاقی وزیر دینی مدارس و مساجد،نصاب تعلیم میں شامل قرآنی اور اسلامی مضامین اور سلطان محمود غزنوی کے خلاف کس کے ایما پر جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کو عالمی سطح پر کٹہرے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذمہ دار عہدے پر بیٹھے کسی شخص کے بیانات ،محض بیانات نہیں ہوتے ، یہ پاکستان کے ایک وزیر دفاع کے اعترافات ہیں، جو کل کسی بھی موقعہ پر ایف اے ٹی ایف یا کسی اور عالمی فورم پر پاکستان کے گلے میں پھندہ بنا کے ڈالے جا سکتے ہیں۔
یہ خاکسار قانون کو ہاتھ میں لینے کا ہمیشہ مخالف رہا،یہی وجہ ہے کہ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینک کر جب ان کا چہرہ کالا کیا گیا تو اس خاکسار نے انہی کالموں میں اس کی مذمت کی تھی، مگر سوال یہ ہے کہ وزیر دفاع کے منصب پہ بیٹھ کر مسلسل دینی مدارس اور مساجد کے خلاف ایک خود ساختہ بیانیہ گھڑنا اور پھر مسلمانوں کے نامور ہیرو سلطان محمود غزنوی ؒ کی بار بار توہین کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا اس کو کن اخلاقیات کا حصہ قرار دیا جائے؟ سلطان محمود غزنوی کے خلاف نریندر مودی اور خواجہ آصف کا بیانیہ ایک جیسا ہے تو کیوں؟ کیا خواجہ آصف پاکستان کے وزیر دفاع کے منصب پہ بیٹھ کر ہندوستان کے نریندر مودی کے بیانیے کو پروان چڑھارہے ہیں؟ وہ سلطان محمود غزنوی کہ جس کی جرآت و بہادری کی داستانیں پڑھ کر آج بھی غیرت مند مسلمانوں کے حوصلے کو جلا ملتی ہے،وہ سلطان محمود غزنوی کہ تاریخ نے جسے ’’بت فروش‘‘ نہیں ’’بت شکن‘‘قرار دیا،شریفوں کے کسی غلام کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ وہ سر عام اسکی تو ہین کرتا پھرے ،وزیر دفاع کے اس بدبودار بیانئے سے ملک میں نفرتیں پیدا ہو رہی ہیں،عوام میں دوریاں جنم لے رہی ہیں، وزیر ریلوے حنیف عباسی سمیت پاکستان کے 25کروڑ عوام وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر مقتدر قوتوں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ وزیر دفاع خواجہ آصف سے ان ہزاروں دینی مدارس کا ثبوت طلب کریں کہ جو اسلام آباد میں قبضے کی جگہ پر ناجائز بنے ہوئے ہیں۔
حنیف عباسی کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں ایک بھی ایسا کوئی مدرسہ یا مسجد نہیں ہے کہ جو ناجائز ہو،ان حالات میں پاکستان کے مسلمان عوام کہاں جائیں ،اپنی مساجد ومدارس اور سلطان محمود غزنوی جیسی عظیم شخصیات کی کھلے عام توہین کرنے والوں کو روکنے کے لئے کس درپہ جائیں،؟اس خاکسار کی گزشتہ دنوں خواجہ آصف کے دینی مدارس اور حضرت سلطان محمود غزنوی کے خلاف دیئے جانے والے متنازعہ بیانات کے حوالے سے جن، ن لیگی دوستوں سے بات ہوئی وہ سارے خواجہ آصف کے ان بیانات سے نالاں نظر آے،مگر بادی النظر میں اس خاکسار کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے تنظیمی ڈسپلن اور حکومتی خوشہ چینی نے انہیں زباں بندی پر مجبور کر رکھا ہو،بہرحال وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بڑے سلجھے ہوئے انداز میں خواجہ آصف کے متنازعہ بیان کو رد کرتے ہوئے دینی مدارس و مساجد کے حق میں جو گواہی دی ہے اس سے صرف راولپنڈی اسلام آباد ہی نہیں، بلکہ پاکستان بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں نہ صرف یہ کہ ان کا احترام بڑھا ہے، بلکہ انہیں اس بات پہ بھی اطمینان ہوا ہے کہ خواجہ آصف کے یہ شدید ترین متنازعہ خیالات نون لیگ کا ایجنڈا نہیں ہیں،،منگل کے دن مفتی اعظم راولپنڈی شیخ الحدیث مفتی مجیب الرحمن کا فون آیا وہ وزیر ریلوے حنیف عباسی کے اس بیان سے بہت خوش تھے، انہوں نے ہی مجھے حنیف عباسی نے دینی مدارس و مساجد کے حق میں جو گواہی دی وہ ویڈیو کلپ بھیجا اور میری توجہ اس طرف مبذول کروائی، اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے جید علما ء صحافیوں کی توجہ جن کے مثبت کاموں کی طرف مبذول کروائیں ، ان کے دلوں میں اس وزیر مشیر یا رکن اسمبلی کا کتنا احترام ہوگا، نصیب اپنا، اپنا ،گوروں کی غلامی کرتے ہوے دینی مدارس و مساجد دشمنی میں اندھا ہونے والوں کے ہاتھ میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آتا ،جبکہ تاریخ کے درست دھارے میں کھڑے ہو کر جو اپنی عبادت گاہوں مساجد اور اسلام کے قلعوں دینی مدارس کی وکالت کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اللہ ان کی عزت و احترام انسانوں کے دلوں میں خود بخود ڈال دیتے ہیں، میری حنیف عباسی سے گزارش ہوگی کہ وہ حضرت سلطان محمود غزنوی رحم اللہ علیہ کے کارناموں کے حوالے سے بھی کسی اینکر کے ساتھ ایک پورا ٹاک شو کریں ،تاکہ مسلمان’’ہیروز‘‘کے خلاف نریندر مودی کے بدبودار بیانیے کو پاکستان میں پروان چڑھانے والوں کا ایجنڈا اپنی موت آپ مر جائے ، ہمارے میزائلوں کے نام تو غوری ،غزنوی،اور ابدالی ہیں،یہ شہاب الدین غوری ،احمد شاہ ابدالی اور محمود غزنوی وہ ہیں جن پر کروڑوں ،اربوں مسلمان صدیوں سے فخر کرتے چلے آ رہے ہیں،اور انہیں ’’لٹیرا‘‘قرار دینے والوں کی سات نسلوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ جس پر اسکے گھر والوں نے ’’فخر‘‘ تو دور کی بات کبھی مکمل اعتماد بھی کیا ہو؟بدھ کی صبح کالم لکھنے کے دوران وفاق المدارس کے ترجمان مولانا عبد القدوس محمدی سے رابط ہوا تو پتہ چلا کہ دینی مدارس کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ کے تحت اسلام آباد میں کل مدارس کی تعداد 384ہے،بریلوی، اہلحدیث ،جماعت اسلامی اور شیعہ مدارس کی تعداد کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تو اندازا یہ چھ آٹھ سو کے درمیان ہو سکتی ہے ،فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کو چاہیئے کہ وہ خواجہ آصف کو حکم دیں کہ انہوں ہزاروں ،ہزاروں کی جو رٹ لگا رکھی ہے،پہلے اسلام آباد میں وہ ’’ہزاروں‘‘دینی مدرسے تو ثابت کریں، جائز ناجائز تو بعد کی بات ہے۔