Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

پاک،چین معاشی ترقی کا تقابلی جائزہ

پاکستان اور چین دونوں تقریباً ایک ہی دور میں سامراجی غلامی سے آزاد ہوئے۔ چین 1949ء میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد آزاد ہوا جبکہ پاکستان نے 1947ء میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کی۔ ابتدائی حالات بھی دونوں کے قریب قریب تھے۔ غربت، پسماندگی، زرعی معیشت اور بیرونی دباؤ۔ مگر اگلے 78 سالوں میں دونوں ممالک کی ترقی کی رفتار میں واضح فرق ہے۔ چین نے اصلاحاتی پروگرام کے ذریعے معیشت کو ترقی دی۔ برآمدات میں اضافہ کیا اور خصوصی اقتصادی زون بنائے۔ تعلیم اور سائنس پر بے پناہ سرمایہ کاری کی۔ سیاسی استحکام برقرار رکھا اور ایک پارٹی کے زیرِ سایہ طویل مدتی منصوبہ بندی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، اس کی فی کس آمدنی پاکستان سے دس گنا زیادہ۔ چین اس وقت ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور فوجی طاقت میں عالمی سپر پاور ہے۔ دوسری طرف پاکستان جمہوری ادھورپن، اندرونی و بیرونی مداخلتوں، کرپشن، طبقاتی تقسیم، تعلیمی اور ٹیکس نظام کی ناکامی، دہشت گردی اور مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ نتیجتاً معاشی ترقی رک گئی، قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔ آبادی کا بڑا حصہ آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ یہ فرق محض وسائل کا نہیں، بلکہ قیادت کے وژن، اداروں کی مضبوطی، تعلیم پر توجہ اور طویل مدتی پالیسیوں کے تسلسل کا ہے۔ چین نے ان سب کو ترجیح دی، پاکستان ابھی تک جدوجہد کر رہا ہے۔
چین میں 1978 میں ڈینگ ژیاو پنگ کی قیادت میں شروع ہونے والی اصلاحات نے نہ صرف معیشت کو مرکزیت کے دباؤ سے آزاد کیا بلکہ ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے۔ نجی شعبہ فعال ہوا، زرعی شعبے میں خود مختاری بڑھی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہا گیا اور جدید صنعتی ڈھانچے کی تشکیل کا عمل تیزی سے آگے بڑھا۔ اصلاحات کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات، حکومتی اداروں کی مضبوطی اور پالیسیوں کے تسلسل نے چین کو اجتماعی ترقی کی راستے پر گامزن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ چند دہائیوں میں کروڑوں افراد غربت سے نکلے، عالمی منڈیوں میں چینی مصنوعات کی دھاک بیٹھی، اور ملک دوسری بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔
پاکستان کا سفر اس کے برعکس زیادہ پیچیدہ اور غیر ہموار رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد سیاسی اتار چڑھاؤ، بار بار حکومتوں کی تبدیلی، بیوروکریسی کی کمزوری اور حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل نے قوم کو مستقل سمت فراہم نہ کی۔ معاشی اصلاحات اکثر داخلی ضرورت کے بجائے بیرونی دباؤ کے تحت کی گئیں، جن کی وجہ سے نہ وہ دیرپا ثابت ہو سکیں نہ ہی اداروں کو مضبوط بنا سکیں۔ زراعت، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات تو ہوئیں مگر وہ محدود، غیر مربوط اور اکثر وقتی نوعیت کی رہیں۔ نتیجتاً پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور انسانی وسائل کے باوجود ترقی کی وہ رفتار حاصل نہ کر سکا جس کی اسے ضرورت تھی۔
چین نے تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے پر جس تسلسل سے سرمایہ کاری کی، اس نے اس کے انسانی سرمائے اور صنعتی مسابقت دونوں کو مستحکم کیا۔ دیہی ترقی، معیارِ تعلیم، ٹیکنالوجی کی مقامی پیداوار اور ہنر مندی کے فروغ جیسے اقدامات نے چین کو عالمی سپلائی چین کا لازمی حصہ بنا دیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں تعلیمی نظام کی بہتری کے باوجود خواندگی کی شرح کم، صحت کی سہولیات غیر مساوی اور تکنیکی تربیت کا دائرہ محدود ہے، جس سے صنعتی ترقی اور معاشی استحکام متاثر ہوتے ہیں۔
کرپشن اور شفافیت کے معاملے میں بھی دونوں تجربات نمایاں فرق پیش کرتے ہیں۔ چین نے سخت احتساب اور شفاف حکمرانی کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے اعتماد پیدا کیا جبکہ پاکستان میں کرپشن نے اداروں کی ساکھ کو کمزور کیا اور ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کو متاثر کیا۔ پالیسیوں کی غیر یقینی سمت اور سیاسی ترجیحات کے غالب رہنے نے عوامی اعتماد کو بھی مجروح کیا۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی اصلاحات کو حقیقی قومی ترجیح بنائے۔ ادارہ جاتی مضبوطی، پالیسیوں کا تسلسل، بدعنوانی کے خلاف عملی اقدامات، اور تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی و انفراسٹرکچر میں سنجیدہ سرمایہ کاری وہ عناصر ہیں جن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ چین کی کامیابی کا مرکز اس کا مربوط وژن اور تسلسل ہے اور یہی وہ سبق ہے جسے اپنا کر پاکستان بھی ترقی کے راستے پر نئی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
پاکستان اور چین کی ریاستی ترقی کا تقابلی سفر یہ واضح کرتا ہے کہ دونوں ممالک نے تاریخ، قیادت اور حکمرانی کے مختلف تجربات کی بنیاد پر الگ الگ راستوں کا انتخاب کیا۔ چین نے اجتماعی فیصلہ سازی، ادارہ جاتی مضبوطی اور طویل المدتی وژن کے امتزاج سے وہ بنیاد رکھی جس نے ملک کو معاشی، تکنیکی اور سماجی طاقت میں تبدیل کر دیا، جبکہ پاکستان مسلسل سیاسی عدم استحکام، کمزور اداروں اور غیر مستقل پالیسیوں کے باعث ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں