بزدلی انسان کے دل کو کمزور اور عمل کو مفلوج کر دیتی ہے، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایمانی جرات ہی قوموں کو عروج بخشتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی تابناک شخصیات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ خوف اور کمزوری سے نجات اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے اندر یقین، بلند حوصلہ اور عملی غیرت پیدا کرے۔ حضرت خالد بن ولید جیسے بہادرانِ اسلام کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب مقصد بلند ہو اور دل اللہ کی رضا پر قائم ہو تو انسان خوف کی زنجیریں توڑ کر قوت و استقامت کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو بزدلی کو مٹا کر کردار، ہمت اور اعتماد عطا کرتا ہے۔ہمارے اکثر کالم نگاروں ،اور تجزیہ کاروں کی یورپ سے مرعوب شدہ ’’دانش‘‘نے مسلمان قوم کو اجتماعی بزدلی کے سمندر میں دھکیل دیا ہے،سفارت خانوں میں چھلکتے جام اور ہیلی کاپٹروں کے جھولے جب ’’دانشوری‘‘کی معراج قرار پائیں،توپھر امریکہ اور یورپ کی ’’چربہ خوری‘‘کو ہی صف اول کی صحافت سمجھا جائے گا،اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے ،اس موقع پر حضرت اقدس پیرو مرشد حفظہ اللہ کی قیمتی باتیں یاد آتی ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ تعالی نے تلواروں کے سائے تلے جنت رکھی ہے حضرت آقا مدنی ﷺ نے ارشاد فرمایا: یقین کر لو کہ بلاشبہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے(بخاری)اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنی تلوار سیف اللہ منتخب فرمایا حضرت آقا مدنی ﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ کے بہترین بندے اور اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں (ترمذی) غور فرمائیں جہادی تلواروں کے سائے میں جنت ہے اور خالد بن ولید کی تلوار ہیں آئیے! اس تلوار کا سایہ ڈھونڈیں آئیے!اس تلوار سے نسبت جوڑیں آئیے! اس تلوار سے رشتہ بنائیں تاکہ جنت ملے، شجاعت ملے، اطمینان ملے، کامیابی ملے، سکون ملے۔
حضرت خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تلوار ہیں اللہ تعالیٰ ہی اس تلوار کو چلانے والا ہے جب تلوار اللہ تعالیٰ کی ہے توچلائے گا بھی اللہ تعالیٰ پھر یہ تلوار ایسی چلی کہ جنت کا سایہ دور دور تک پھیل گیا وہ علاقے جہاں جہنم ہی جہنم تھی ایک بھی جنتی نہیں ہر طرف جہنم والا عقیدہ جہنم والے اعمال اور جہنمی مخلوق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ان علاقوں کی طرف بڑھے تو ان علاقوں پر جنت کی بہار آ گئی یہ عراق، یہ دمشق، یہ فلسطین، یہ ملک شام یہ سب جنت کی خوشبو کو ترس رہے تھے ہر طرف کفر تھا اور ظلم جہالت تھی اور تاریکی تہذیب کے نام پر بے حیائی تھی اور نفس پرستی اللہ تعالیٰ کی تلوار حضرت سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے جہاد فرمایا تلوار چلی تو یہ علاقے جنت کی خوشبو سے جھومنے لگے ان علاقوں میں صدیقین ، شہدا ، صالحین پیدا ہونے لگے ہر طرف اذان گونجنے لگی اور کفر کی جگہ ایمان کی بہار آ گئی کسی نے خوب تحقیق کی ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے فاتحین گذرے ہیں مگر ان میں سے کسی کی فتوحات بھی اتنی پائیدار نہیں جتنی کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ہیں منگولوں اور تاتاریوں نے آدھی دنیا پر قبضہ کیا مگر پھر ان کی سلطنت ایک چھوٹے سے ملک تک سمٹ گئی یہی حال انگریزوں ، فرنچوں اور دیگر فاتحین کا ہوا مگر حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جو علاقے فتح فرمائے وہ آج تک کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں کے پاس ہی ہیں یہ تحقیق پڑھی تو ذہن میں یہ نکتہ آ گیا کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے جب عام جہادی تلواروں کا یہ رتبہ اور مقام ہے تو اللہ تعالیٰ کی تلوار کا کیا مقام ہو گا یہ تلوار جہاں بھی چمکی ، جہاں بھی برسی، جہاں بھی چلی اس کے نیچے جنت آباد ہوتی چلی گئی اور آج تک الحمد للہ آباد ہے کیونکہ ان علاقوں میں ایمان بھی موجود ہے اور اعمال صالحہ بھی بے شک جہاد کے برابر کوئی عمل نہیں، کوئی عمل نہیں ایک عابد آخر کتنی عبادت کر سکتا ہے؟ ایک صدقہ دینے والا آخر کتنا صدقہ دے سکتا ہے؟ لیکن ایک مجاہد ، ایک فاتح اور ایک غازی تو صدیوں کے اعمال کو اپنے نامہ اعمال میں جوڑ لیتا ہے جن علاقوں کو وہ فتح کرتا ہے اور ان میں ایمان کے چراغ روشن کرتا ہے ان علاقوں کے تمام اہل ایمان کے ایمان اور اعمال میں اس کا حصہ شامل ہوتا ہے۔ بے شک دنیا کے سارے کلکولیٹر اور سارے حساب دان مل کر بھی ایک مجاہد کے ایک دن کے اعمال کا حساب نہیں لگا سکتے۔
حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چونکہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تلوار ہیں اور تلوار کے سائے تلے جنت ہوتی ہے تو یقینی بات ہے کہ ان کے تذکرے میں عجیب سکون محسوس ہوتا ہے ان کے بارے میں جتنا پڑھا جائے پیاس نہیں بجھتی بلکہ ان کے حالات ، واقعات اور اقوال پڑھ کر مزید شوق بڑھتا چلا جاتا ہے اور دل ایک عجیب سی پاکیزگی اور قوت محسوس کرتا ہے ویسے بھی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بڑے صاحب کرامت تھے علامہ ابن حجر الاصابہ میں لکھتے ہیں:یعنی ایک شخص آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس کے پاس شراب سے بھراہوا مشکیزہ تھا حضرت خالد رضی اللہ نے دعا فرمائی یا اللہ!اسے شہد بنا دیجئے تو وہ شہد بن گیا ۔ ( جاری ہے )