(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی طرح مستند حوالوں سے یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے ایک بار خطرناک زہر اپنی ہتھیلی میں ڈالا اور بسم اللہ پڑھ کر اسے پی گئے اس مہلک زہر نے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا دراصل جب آپ عجم کی طرف جہاد کے لئے بڑھے اور آپ کے رعب اور ہیبت نے ملکوں اور لشکروں کو لرزا کر رکھ دیا تو ہر طرف آپ کو قتل اور شہید کرنے کی سازشیں زور پکڑ گئیں تب کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کھانے میں بہت احتیاط فرمائیں کیونکہ دشمن آپ کو زہر دینا چاہتے ہیںفرمایا،کیسا زہر؟ وہ میرے پاس لاو زہر لایا گیا تو سارا اپنی ہتھیلی پر انڈیل دیا اور بسم اللہ پڑھ کر پی گئے بے شک اللہ تعالیٰ کی سچی تلوار میں یہ تاثیر تھی کہ ناپاک شراب پر دعا ڈالے تو اسے پاکیزہ شہد بنا دے اور مہلک زہر پر توجہ ڈالے تو اسے نفع مند دوا بنا دے آج ہمارے قلوب میں بھی حبِ دنیا کا زہر اور بزدلی کی ناپاکی بھری ہوئی ہے بے شک بزدلی شراب سے زیادہ نجس اور ناپاک چیز ہے شراب کا اثر تھوڑی دیر رہتا ہے اور وہ انسان کو ذلت میں ڈالتی ہے جبکہ بزدلی کا اثر تو انسان کو نعوذ باللہ مستقل ذلت اور غلامی میں دھکیل دیتا ہے آج جہاد کے خلاف جتنے فتنے اور جتنی آوازیں ہیں ان سب کی اصل بنیاد بزدلی اور حبِ دنیا ہے بس موت نہ آ جائے ہمیں کوئی مار نہ ڈالے ہم کمزور ہیں ہم نہیں لڑ سکتے ہمیں زیادہ جینا ہے وغیرہ وغیرہ اصل بیماری یہی ہے باقی دلائل تو پھر بزدلی خود گھڑوا لیتی ہے مثال کے طور پر دیکھ لیں آج کل جہاد کے بارے میں جو فتوے لائے جاتے ہیں کچھ منفی اور کچھ مثبت کیا ان فتوئوں میں مسلمانوں کے لئے عملی جہاد کا کوئی ایک راستہ بھی موجود ہے؟ اگر صورتحال یہ ہوتی کہ یہ لوگ جہاد کی مکمل تیاری کر کے شہادت کے شوق میں مچل رہے تھے تلواریں ان کے ہاتھوں میں ہوتیں گھوڑے ان کے نیچے ہانپ رہے ہوتے اور پھر یہ بتاتے کہ ہم تو تیار ہیں مگر فلاں فلاں شرعی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں اور پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ شرط جلد پوری ہو تاکہ ہم جنت کے میدانوں یعنی جہاد کے محاذوں کی طرف کوچ کر جائیں تب ان کی باتوں میں وزن ہوتا مگر نہ جہاد کا ارادہ، نہ جہاد کی نیت، نہ کبھی خواب و خیال میں جہاد کرنے کی آرزو نہ جہاد کی تیاری پھر کیسے فتوے اور کون سی شرطیں؟
کاش یہ کوئی ایک محاذ تو مسلمانوں کو بتا دیتے کہ وہاں جہاد ہو رہا ہے ہم بھی جا رہے ہیں اور تم بھی پہنچو کاش یہ جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ کی کوئی ایک عملی صورت بتا دیتے کیا صدر سے اجازت لینی ہے؟ کیا نواز شریف اور زرداری کے حکم سے جہاد ہو گا؟ یہ دونوں حضرات اگر اپنے گورے دوستوں کی گود میں تشریف فرما ہوں تو جہاد کی اجازت کس سے لی جائے گی؟ جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے ریاست سے کون سی ریاست مراد ہے ریاست میں سے کس کا قول معتبر ہو گا؟ فیصلے کا اختیار کس کو ہو گا؟ کیا جہاد کے لئے باقاعدہ ملازم ہونا بھی شرط ہو گا؟ ملازمت کے بغیر کوئی مسلمان یہ فریضہ پورا کرنا چاہے تو کس طرح کرے گا؟ کسی سوال کا جواب نہیں بس مقصد ایک ہی ہے کہ جہاد نہ کرو کیا یہ اللہ تعالیٰ کے عمومی عذاب کو دعوت دینے کے مترادف نہیں ہے؟ جہاد بند ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کاعمومی عذاب آتا ہے مسلمانوں پر ذلت مسلط ہوتی ہے اور زمین گناہ اورفساد سے بھر جاتی ہے اپنے دل سے بزدلی دور کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم حضرت سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ کی علمی اور روحانی صحبت حاصل کریں ان کے حالات پڑھیں، ان کے واقعات پڑھیں وہ ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی تلوار بن کر خون اور زخموں میں ڈوبے رہے ممکن ہے ان کی برکت سے ہمیں بھی یہ شوق اور کیفیت نصیب ہو جائے وہ چونکہ سراپا جہاد تھے مجسم جہاد تھے مکمل جہاد تھے اصلی جہاد تھے اس لئے ان کے اقوال میں بھی دعوت جہاد ہے اور ان کے اعمال میں بھی دعوت جہاد ہے حتیٰ کہ جب وہ اس دنیا سے کوچ فرمانے لگے تب بھی ان کی ساری فکر جہاد اور دعوت جہاد پر مرکوز تھی چنانچہ اپنا سارا سامان اور اپنی ساری جائیداد جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف فرما دی یہ وقف وہ پہلے ہی کر چکے تھے وفات کے قریب پھر دوبارہ اس کی یاد دہانی کرائی اور پھر دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ جہاد کیوں نہیں کرتے ہو؟ کیا موت سے ڈرتے ہو؟ دیکھو!جہاد میں موت نہیں ہے میرے جسم کو دیکھو ایک بالشت جگہ بھی جہادی زخموں سے محفوظ نہیں ہے پورا جسم چھلنی چھلنی ہے موت جہاں بھی مجھے نظر آئی میں اس پر جھپٹا اور ایسے معرکوں میں کودا جہاں سے بچنے کا تصور بھی محال تھا مگر دیکھو!مجھے وہاں موت نہیں آئی میں اپنے بستر پر وفات پا رہا ہوں شہادت کی اس حسرت کا اظہار فرما کر زندگی کے آخری لمحات کو بھی دعوت جہاد بنا دیا حالانکہ ان کی وفات کئی اعتبار سے شہادت سے افضل تھی اور وہ شہداء سے زیادہ بلند مقام پر تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کی تلوارتھے اس تلوار کو توڑنا یا موڑنا دنیا میں کسی کے بس میں نہیں تھا اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو جہاد میں دیکھنا پسند فرماتے ہیںاللہ تعالیٰ کی جہادکے ساتھ محبت ایسی ہے کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو اپنی تلوار تک بنا لیتے ہیں کتنے خوش نصیب ہیں وہ بہادر جو اللہ تعالیٰ کی تلوار بن جاتے ہیں کہاں بزدلی کی ناپاک غلامانہ زندگی اور کہاں اللہ تعالیٰ کی چمکتی اور برستی تلواریں یا اللہ!ہم پر بھی فضل فرما بزدلی سے مکمل نجات عطا فرما حبِ دنیا کی ناپاکی سے حفاظت فرما اور ہمیں اپنے فضل سے سیف اللہی نسبت عطا فرما آمین یا ارحم الراحمین