Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پنڈی…پنڈی…اے

پنڈی والوں کو حکومت پنجاب کی جانب سے دئیے جانے والے دو بیش قیمت تحائف مبارک ہوں۔ پہلا تحفہ لیاقت باغ سپورٹس کمپلیکس میں سوئمنگ پول اور دوسرا تحفہ راولپنڈی کے چار مختلف روٹس پر چلائی جانے والی اسی الیکٹرک بسوں کا ہے۔ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی وہ اکثر عوام کو تحائف دیتی رہتی ہیں۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ تحائف کے تبادلے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔ حکومتیں تو عوام کو تحفے تحائف دے سکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس ملکی خزانے کے علاوہ طاقت کا خزانہ بھی ہوتا ہے جبکہ تہی داماں عوام کے پاس حکمرانوں کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کی جھولیاں اور دونوں ہاتھ خالی ہیں۔ سوائے چند برسوں بعد ووٹ کی طاقت کے، لیکن شائد اب ووٹ بھی بے معنی اور اپنی طاقت کھو چکا ہے۔ کیونکہ جنہوں نے کامیاب ہونا ہوتا ہے وہ بغیر ووٹوں کے بھی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں اور جو کامیاب ہوتے ہیں وہ ہاتھ ملتے اور دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ جس طرح جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اسی طرح طاقت کا خزانہ بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ جو اکثر عوام کی بولتی ہی بند کر دیتا ہے۔ حکومتیں ہوتی ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ کاش یہ سرچشمہ کبھی عوام کی زندگیوں کو آسانیاں فراہم کرنے کے لئے بھی پھوٹتا۔ سوئمنگ پول سے صرف محدود لوگ ہی استفادہ کر سکیں گے اور الیکٹرک بس سروس سے لاکھوں شہریوں کو جڑواں شہروں میں آمدورفت کے لئے سفری سہولیات میسر ہوں گی۔
گزشتہ روز سوئمنگ پول کا افتتاح صوبائی وزیر کھیل و ثقافت ملک فیصل ایوب کھوکھر اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے مسلم لیگ کے مقامی قائدین اور کارکنوں کے ہجوم میں کر دیا ہے۔ اس موقع پر موجود مسلم لیگی ایسے خوشی کا اظہار کر رہے تھے کہ جیسے راولپنڈی کا سب سے بڑا مسئلہ سوئمنگ پول کا نہ ہونا ہی تھا۔ موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔ سرد موسم میں تو نہانے کے تصور سے ہی جھرجھری سی آجاتی ہے۔ ایسے میں سوئمنگ پول کے ٹھنڈے پانی میں نہانے اور ڈبکیاں لگانے کا حوصلہ کون کرے گا اور چند ماہ بعد جب موسم تبدیل ہوگا۔ سوئمنگ پول نہانے کے قابل ہی نہیں رہے گا۔ ایک کروڑ پتی شخص نے کئی کنال کا وسیع و عریض محل نما گھر تعمیر کرایا اور اس میں تین سوئمنگ پول بنوائے۔ گھر کی افتتاحی تقریب میں مہمانوں نے میزبانوں سے استفسار کیا کہ آپ نے تین سوئمنگ پول کیوں بنوائے ہیں تو میزبان نے انہیں بتایا کہ ایک سوئمنگ پول ٹھنڈے پانی اور دوسرا گرم پانی کا ہے اور تیسرا ایک مہمان نے پوچھا؟ گھر کے مالک نے پراعتماد لہجے میں بتایا کہ کبھی کبھی بندے کا نہانے کا دل نہیں بھی چاہتا۔ سوئمنگ پول بن توگیا ہے لیکن اس میں نہانے کی عیاشی ہر شہری نہیں کر سکے گا۔ اس کے لئے اسے ہزاروں روپے کی ممبر شپ لینا پڑے گی۔ جبکہ راولپنڈی میں ضرورت اس امر کی ہے کہ شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔ سیوریج اور پانی کی پائپ لائنیں گل سڑ چکی ہیں۔ دونوں لائنوں کا مکس شدہ گندہ اور بدبودار پانی پینے سے شہری مہلک امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف شہر کی سڑکوں، گلیوں اور محلوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں شہریوں کا سوئمنگ پول سے کیا لینا دینا ہے گندگی کی ابتر صورتحال اور مضر صحت پانی کے سنگین مسئلے پر شہر کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت چیئرمین سٹیزن ایکشن کمیٹی ظہیر اعوان متعدد بار احتجاجی مظاہرے اور متعلقہ حکام کو بذریعہ درخواست بھی آگاہ کر چکے ہیں۔ لیکن سب بے سود اور لاحاصل، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ طویل عرصہ بعد اندرون شہر جانے کا اتفاق ہوا۔ مرکزی بازاروں میں گندگی کے تعفن زدہ ڈھیر دیکھ کر صاف ستھرا کا دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوا، باڑہ مارکیٹ، ڈنگی کھوئی اور چند دیگر سڑکیں اس حوالے سے قابل ذکر ہیں۔
علاوہ ازیں یہ دیکھ کر دلی دکھ ہوا ہے کہ عوام کے خون پینے کی کمائی کو کس طرح لٹایا اور لوٹا جارہا ہے وہ سڑکیں جو کچھ عرصہ قبل ہی تعمیر کی گئی تھیں۔ پائپ لائنیں بچھانے کے نام پر ادھیڑ کر رکھ دی گئی ہیں۔ سیدپور روڈ اور سکستھ روڈ تو کھدائی کے بعد کسی پسماندہ علاقے کی سڑک کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ سڑکوں پر مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس سے اٹھنے والی گردوغبار نے ملحقہ رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ سیدپور روڈ پر متعدد پرائیویٹ ہسپتال اور کلینک واقع ہیں۔ جن تک پہنچنے کے لئے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سکستھ روڈ پر تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑک پر پڑے ہوئے جہازی سائز کے پائپ ٹریفک کے بہائو میں رکاوٹ اور گزرنے والوں کے لئے شدید پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ والدین اور بچے الگ اذیت سے دوچار ہیں۔
الیکٹرک اور میٹرو بسیں تو چلا دی گئی ہیں لیکن گھنٹوں جو ٹریفک جام رہتی ہے اس کا ازالہ کیسے کیا جائے گا۔ سونے پہ سہاگہ ڈبل روڈ پر واقع کرکٹ سٹیڈیم میں منعقد ہونے والے کرکٹ میچوں نے شہریوں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے اور اگر یہ سلسلہ کچھ عرصہ مزید جاری رہا تو راولپنڈی کے باسی ذہنی مریض بن جائیں گے۔ ایک گھنٹے کا فاصلہ کئی کئی گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے۔ پٹرول کا خرچ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے روزانہ سفر کرنے والے بسوں کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن شومئی قسمت دوران سفر لوگ اپنی جمع پونجی اور قیمتی اشیاء سے محروم ہو رہے ہیں۔ سینئر تحقیقاتی صحافی سجاد بھی متاثرین میں شامل ہیں۔ جن کا لاکھوں روپے مالیت کا فون کسی جیب تراش نے چرا لیا ہے متعلقہ پولیس سٹیشن میں شکایت کا اندراج کرانے کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
راولپنڈی سے ہر شہری کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے یہ مطالبہ ہے کہ الیکٹرک بسیں بھی چلائیں، سوئمنگ پول بھی بنوائیں۔ لیکن خدا را ہمیں مضر صحت پانی، گندگی کے ڈھیروں، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، ٹریفک کے مسائل سے نجات دلائیں تاکہ انہوں نے پنجاب کی ترقی کے جو خواب دیکھ رکھے ہیں وہ پورے ہوسکیں۔

یہ بھی پڑھیں