نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور کی جانب سے گستاخانہ مواد پھیلانے کے الزام میں چار ملزمان کی گرفتاری کی خبر نے دردمند دل رکھنے والے پاکستانیوں کو ایک احساسِ اطمینان دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں چند لمحوں میں اشتعال انگیز یا مذہبی طور پر حساس مواد لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے، وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی نہ صرف قابلِ تعریف ہے،بلکہ ایک خوش آئند پیش رفت بھی ہے۔ یہ عمل یہ پیغام دیتا ہے کہ ریاست ایسے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور ان جرائم کے حوالے سے کسی قسم کی نرمی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس پیش رفت نے معاشرے میں یہ امید پیدا کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے مذہبی حساسیت کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف چوکنا ہیں اور قانون کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔ عوام کے لئے یہ ایک نیک شگون بھی ہے کیونکہ ایسے معاملات میں اگر بروقت کارروائی نہ ہو تو معاشرتی بے چینی بڑھ سکتی ہے اور بعض اوقات انتہاپسندانہ ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔اس امید افزا خبر کے برعکس ایک اور واقعہ نے عوامی فضا میں بے چینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کی جانب سے توہین رسالت کے بدترین مجرموں کی سزائے موت کالعدم قرار دینے کے فیصلے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کے ثابت شدہ بدترین گستاخوں کے حوالے سے عدلیہ کے اس فیصلے کو پاکستان کے مسلمان گستاخوں پر ’’کرم فرمائی‘‘ قرار دے رہے ہیں تو کیوں ؟ کہا جاتا ہے کہ چند روز قبل ایک ملزمہ کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کا عدالتی فیصلہ تحریک لبیک کو دبانے اور اس پر پابندی لگانے کے تناظر میں ایک ٹیسٹ کیس تھا،جب ردعمل سامنے نہیں آیا تو مزید چار بدترین گستاخوں کی سزائوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ۔ ثابت شدہ گستاخان رسول پر’’کرم فرمائیاں‘‘کرنے والے عناصر کو اگر اپنی طاقت پہ گھمنڈ ہے تو وہ یاد رکھیں اللہ کی طاقت کائنات کے ذرے ذرے پہ حاوی ہے، اپنے محبوب ﷺکی ناموس کی حفاظت کے لئے اگر ایک ’’در‘‘بند ہوا ہے تو وہ کئی ’’در‘‘اور کھول دے گا،یہ سارے مل کر سوشل میڈیا پر جاری توہین رسالت ،توہین صحابہؓ واہل بیت ؓ تو بند نہیں کروا سکتے،ہاں البتہ صیہونی،صلیبی دستر خوان کے راتب خوروں کے شورو غوغے اور واویلے پہ مقدس ترین ہستیوں کے ثابت شدہ مجرموں کی سزائوں کو ضرور معاف کر سکتے ہیں۔’’فریاد ہے اللہ کی بارگاہ میں فریاد ہے، مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ۔ صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخوں کو انجام تک پہنچانے کے لئے نجانے موجودہ نظام بانجھ اور عاجز نظر کیوں آرہا ہے؟یہاں ’’توہین عدالت‘‘ والے تو سزا پاتے ہیں اور توہین رسالت کے ثابت شدہ ملعون مجرم رہا ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کا ایک ایک بچہ پاک فوج کے حق میں ہے، مگر اس کے باوجود جامعہ الرشید کے مفتی عبدالرحیم المعروف استاد صاحب نے اپنے اداروں سمیت خود کو پاک فوج کے دفاع اور حمایت میں وقف کر رکھا ہے ،اس راستے میں انہیں طعنے، گالیاں ،دشنام طرازیاں سب برداشت ہیں، انہوں نے چندے اور دینی مدرسے کے زور پر تعمیر شدہ اپنی تمام ’’ایمپائر‘‘بظاہر اداروں کی خدمت پہ مقرر کر دی ہے،جس کا انہیں حق حاصل ہے،مگر یہاں ناموس رسالت ﷺ اور ناموس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تحفظ کی بات کرنے والوں کو شدت پسند کہا جاتا ہے۔ ’’فریاد کن یا اللہ فریاد کن‘‘ عدالتی فیصلے اگر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کئے جائیں تو کس کو اعتراض ہو سکتا ہے؟ لیکن جب ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جن سے عوام کی مذہبی حساسیت متاثر ہو، تو معاشرے میں اضطراب پیدا ہونا فطری بات ہے۔ عدالتی فیصلے محض عدالت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ عوامی اعتماد اور اجتماعی جذبات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ہمارے نظامِ انصاف میں وہ اعتماد باقی رہ گیا ہے جو حساس نوعیت کے معاملے میں قوم کے جذبات اور عدالتی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کر سکے؟ عوام اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں قوانین کی عمل داری، عدالتی فیصلے، اور سماجی حساسیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر سنگین نوعیت کے الزامات کے حامل ملزمان کو رہائی مل جائے تو عوام میں بے یقینی اور مایوسی جنم لینا غیر معمولی بات نہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جس نے ملک کے مختلف طبقات کو فکری اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عوام کے ذہن میں یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ ایسے فیصلے کہیں معاشرتی توازن کو متاثر تو نہیں کر رہے؟ کیا یہ صورت حال ملک میں انتشار کا باعث بن سکتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا حساس نوعیت کے معاملات میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور اعتماد برقرار رہ پائے گا؟ پاکستان پہلے ہی معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے حالات میں ایسے فیصلے جو عوامی جذبات کو مجروح کریں، ملک میں بے چینی کو اور بڑھا سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاست کا استحکام صرف اداروں کے فیصلوں پر قائم نہیں رہتا بلکہ عوام کے اعتماد سے ہی مضبوط ہوتا ہے۔ اگر عوام محسوس کریں کہ ان کے جذبات یا حساسیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو اس کا اثر معاشرتی ہم آہنگی پر بھی پڑتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں نہ صرف عدالتی عمل شفاف ہو بلکہ عوام کو فیصلوں کے پس منظر اور قانونی دلائل سے بھی آگاہ رکھا جائے تاکہ غلط فہمیاں جنم نہ لیں۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ جذبات اور قانون کے درمیان توازن قائم رکھے۔ کسی کے لیے بھی قانون ہاتھ میں لینا یا اشتعال انگیزی پیدا کرنا نقصان دہ ہے۔ حساس معاملات میں ردعمل ہمیشہ قانونی حدود کے اندر رہ کر دینا چاہیے۔ عدالتوں کے فیصلوں پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر اس اختلاف کو دلیل اور شائستگی کے ساتھ بیان کرنا ہی ایک ذمہ دار معاشرے کی پہچان ہے۔ ریاست کے اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں بروقت اور واضح معلومات فراہم کریں تاکہ افواہوں اور غلط خبریں پھیلنے کا راستہ بند ہو۔ پاکستان اس وقت جس نازک دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں جذبات، انصاف اور آئینی دائرے کو یکجا کر کے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ معاشرتی استحکام، عوامی اعتماد اور قومی یکجہتی کے لئے ضروری ہے کہ ہم قانون کو مضبوط کریں، حساسیت کو سمجھیں اور اپنے ردعمل کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کریں۔