پچیس کروڑ عوام کس کس بات پر تالیاں بجائیں‘لڈیاں ڈالیں اور خوشیاں منائیں۔ انہیں ہر روز خوشخبریاں مل رہی ہیں۔ ملک ترقی کے موٹروے پر اپنی مقررہ رفتار سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ گامزن ہے ملکی معیشت بس آسمان کو چھونے ہی والی ہے۔ تمام پاکستانی ناشتے میں سری پائے‘ نہاری‘ دوپہر کے کھانے میں چکن کڑاہی مٹن اور رات کے کھانے میں بریانی‘ پلائو اور زردہ کھاکر اونچی اونچی ڈکاریں لیتے ہیں۔ گھر سے باہر گلی میں کھڑے ہوکر ٹوتھ پک سے دانتوں میں خلال کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں جائیں تو ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے۔ مہنگی ادویات انہیں باآسانی مفت مل رہی ہیں‘ تھانے میں جائیں تو محرر سے لے کر ایس ایچ او تک اسے سرآنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ بیٹھنے کے لئے کرسی پیش کرتے ہیں۔ ایف آئی آر بھی درج کرتے ہیں اور تو او ر سائلین کو دودھ پتی کی پیشکش بھی کرتے ہیں۔ عدالتوں کے باہر سستے ترین انصاف کے لئے جگہ جگہ انصاف تک رسائی کے سٹال لگے ہوئے ہیں۔ جہاں سے انہیں انصاف باآسانی دستیاب ہو رہا ہے ان کی اولادیں اعلیٰ اور معیاری تعلیمی اداروں میں بلامعاوضہ تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ زمینوں پر ناجائز قابضین حقیقی مالکان یا وارثان کو دروازے کھٹکھٹا کر انہیں زمین واپس کررہے ہیں حتی کہ اب تو یہ بھی د یکھنے میں آرہا ہے کہ لوگوں نے گھروں اور دکانوں کو تالے لگانا بھی چھوڑ دیا ہے کیونکہ چوروں‘ ڈاکوئوں اور لٹیروں نے قانون اور پولیس سے ڈر کر توبہ تائب کرلی ہے۔
اس کے علاوہ بھی چھوٹی موٹی کئی خوشخبریاں ہیں جن سے عوام بھرپور استفادہ کررہے ہیں۔ خوشخبریوں کی بھرمار میں لڈیاں ڈالنا‘ خوشیاں منانا اور تالیاں بجانا تو بنتا ہی ہے لیکن کیا‘ کیا جائے کہ خوشی کے مارے جب لوگ زور سے تالی بجاتے ہیں تو ان کی آنکھ کھل جاتی ہے اور پھر وہ پاسا مار کر سونے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں نیند نہیں آتی اور وہ پچھتاتے ہیں کہ کاش انہوں نے تالی نہ بجائی ہوتی اور ہماری آنکھ نہ کھلتی ۔ حقیقت میں نہ سہی خواب میں ہی خوشحالی اور نیاپاکستان دیکھ لیتے۔ کبھی نیا پاکستان‘ کبھی پرانا پاکستان۔ اس کھیل نے پاکستان کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نیا پاکستان بناتے بناتے اڈیالہ جیل پہنچ چکے ہیں۔ وہ نیا پاکستان شائد اس لئے نہیں بناسکے کہ انہوں نے اس کے لئے جن مستریوں مزدوروں کا انتخاب کیا تھا وہ انتہائی نااہل‘ کرپٹ اور ناتجربہ کار تھے اور انہوں نے کروڑوں نوکریوں‘ اربوں درخت لگانے اور لاکھوں گھر تعمیر کرنے کی جو لمبی لمبی شرلیاں چھوڑی تھیں ان پر بھی عملدرآمد نہ ہوسکا۔ کٹے اور بھینسیں نیلام کرنے اور عوام کو ککڑیاں پالنے کے منصوبے دے کر نیا پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔ بانی پاکستان تحریک انصاف کی اقتدار کے ایوانوں سے رخصتی کے بعد پیارا پاکستان جہاں ہے‘ جیسے ہے کی بنیاد پر اب پرانے کاریگروں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن وہ بھی حسب سابق اپنی روایتی ڈگر پر ہی چل رہیں ہیں۔ بے چارے کریں بھی کیا انہیں پاکستان تحریک انصاف سے دو‘ دو ہاتھ کرنے سے فرصت ملے تو وہ ملک و قوم کا کوئی بھلا سوچیں۔ و ہ اس سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں جبکہ پیارا پاکستان اربوں ڈالر کے قرضوں میں ڈوبتا جارہا ہے۔ زبوں حال ملکی معیشت‘ بھاری قرضے اور ہر ماہ مبینہ تین اب ڈالر کی کرپشن کا پردہ آئی ایم ایف نے چاک کر دیا ہے۔ عوام کو ملک میں ہونے والی بے تحاشا کرپشن کا علم تو تھا ہی لیکن انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ کرپشن کی حد کیا ہے۔
بھلا ہو آئی ایم ایف کا جس کی رپورٹ نے گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف کرکے پاکستانیوں کے چودہ طبق روشن کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ رپورٹ کو موصول ہوئے ایک قابل ذکر عرصہ گزر چکا تھا لیکن رپورٹ کو اس طرح چھپا کر رکھا گیا جس طرح کڑک مرغی کو جب ا نڈوں پر بٹھایا جاتا ہے تو وہ انڈے چھپا لیتی ہے۔ لیکن جب آئی ایم ایف نے تھوڑا سا ایکسلیٹر دبایا تو مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق حکومت کومجبوراً رپورٹ منظر عام پر لانا پڑی۔ ستم در ستم تو یہ کہ ایک تو اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور اوپر سے ملکی خزانے پر بھی ہاتھ کی صفائی۔ اس کااندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچاس فیصد ملکی آمدن میں سے صرف بیس فیصد نڈھال عوام پر خرچ کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری جارہی ہے۔ جب ملک دیوالیہ تھا تب اس پر پینتالیس ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا لیکن جب معیشت میں ترقی او ر بہتری آئی تو یہ قرضہ اسی ہزار ارب روپے ہوگیا۔
حکومتی ترجمانوں کے کھوکھلے دعوئوں اور اعدادو شمار سے عوام کا اعتماد اور اعتبار اب اٹھ چکا ہے۔ اربوں ڈالروں کے بھاری بھر کم قرضوں اور کرپشن نے ملکی معیشت کو شدید د ھچکا پہنچایاہے۔ اس دھچکے میں دیگر کئی عوامل بھی شامل ہیں۔ ٹیکس کا بوسیدہ اور پیچیدہ نظام مختلف نوعیت کے ریبیٹ جن سے صرف ایک مخصوص طبقہ ہی استفادہ کرتا ہے اور جب و ہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرلیتا ہے تو یہ سہولت واپس لے لی جاتی ہے۔ ان چونچلوں سے بھی ملکی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے ڈھیلے ڈھالے قانون بنائے جاتے ہیں جن سے کرپشن کو فروغ حاصل ہوتاہے۔نیب اپنا اصل کام چھوڑ کر حکومت کے سیاسی مخالفین کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتا ہے۔ اعلیٰ سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات اپنے گوشواروں میں اپنی غربت اور پسماندگی کا اظہار اس قدر بے چارگی سے کرتے ہیں کہ ان پر حکومت کو ترس آجاتا ہے اور وہ ان کے اربوں روپے مالیت کے اثاثے اور دولت نظرانداز کر دیتی ہے اور پھر اپنا سارا قانون اور سختی بے بس عوام پر جھاڑتی ہے۔ جس طرح اکثر ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے۔ پاس کر یا برداشت کر۔ اس طرح عوام کو بھی مشورہ ہے کہ برداشت کریں۔ کیونکہ پاس کرنے کی ان میں سکت ہی نہیں رہی۔