پلوشہ‘ چاند کی روشن کرن‘ لیکن یہ کرن روشن ہونے سے پہلے ہی اندھیروں میں گم ہوگئی۔ بیٹیاں رب کی رحمت اور ماں باپ کی بخشش کا سبب ہوتی ہیں۔ بیٹی وہ بیٹی ہے جس کی آمد پر آپﷺ کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ ان کے بیٹھنے کے لئے اپنی چادر بچھا دیتے تھے۔ جب کسی گھر میں بیٹی جنم لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس گھر میں دو فرشتے بھیجتا ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ بیٹیوں کو ناحق قتل کرنے والا سن لے فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ تین یا دو بیٹیوں کی پرورش کرنے والا میرے نزدیک اس طرح ہوگا جس طرح میری یہ دو انگلیاں ہیں‘ صحابہؓ میں سے ایک صحابی نے پوچھا یارسول اللہﷺ کیا جس کی ایک بیٹی ہوگی اسے یہ اعزاز حاصل نہیں ہوگا۔ آپﷺ نے فرمایا اسے بھی یہ اعزاز حاصل ہوگا۔
دھیاں تو ہوتی ہی نمانڑیاں ہیں۔ بابل کے آنگن کی چڑیاں۔ پرایا دھن ایک دن ماں باپ کی دہلیز چھوڑ کر نئے بندھن میں بندھ جاتی ہیں اور پھر اسے زندگی کی آخری سانس تک نبھانے کی کوشش کرتی ہیں بسا اوقات اپنا عہد وفا نبھانے اور ماں باپ کی عزت و وقار کی خاطر ظلم و ستم اور زیادتی بھی سہہ لیتی ہیں۔ لیکن اف تک نہیں کرتیں اور نہ ہی کوئی گلہ شکوہ اپنی زبان پر لاتی ہیں۔ بیٹیوں کا یہی مقدر ہے یہی نصیب ہے۔ ان کے لئے ماں باپ کا گھر وہ آخری سٹیشن ہوتا ہے جو ان کی زندگی میں دوبارہ نہیں آتا۔ اس لئے کہا جاتاہے کہ بیٹیاں جب تک اپنے ماں باپ کے گھر ہیں انہیں ہنسنے‘ بولنے اور کھیلنے سے روکا نہ کریں۔ اگر وہ اپنی باتوں سے یا شرارتوں سے سارا گھر بھی سر پر اٹھالیں تو انہیں کچھ نہ کہیں۔ کیونکہ کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کاتب تقدیر نے ان کے نصیب میں خوشیاں اور سکھ لکھے ہوئے ہیں یا مشکلات اور تکالیف۔
تقدیر کا وار اکثر بیٹیوں سے ان کی ہنسی اور مسکراہٹیں چھین لیتا ہے بیٹی تو ایسا رشتہ ہے جسے دیکھتے ہی اس پر پیار آجاتا ہے اور پھر اس کی جدائی کے تصور سے آنکھوں میں نمی آجاتی ہے۔ ماں باپ بیٹی کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کے اچھے نصیب کی دعائیں مانگنے لگتے ہیں کسی نے ایک ماں سے پوچھا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے لکھنے کا اختیار دے تو وہ سب سے پہلے کیا لکھے گی۔ ماں نے بلاتامل جواب دیا اپنی بیٹی کا نصیب لکھوں گی۔ بیٹیاں جب بیاہی جاتی ہیں تو والدین کے دل ان کی آواز کے اتار چڑھائو اور لہجے کے ساتھ دھڑکتے ہیں وہ بیٹی کے چہرے پر سکھ اور سکون کی پرچھائیاں ڈھونڈتے ہیں۔ عام فہم سی بات ہے کہ بیٹا تب تک ہی بیٹا ہے جب تک اس کی شادی نہیں ہو پاتی لیکن بیٹی تب تک بیٹی ہے جب تک ماں باپ کی زندگی ہے۔ اس کے باوجود وہ کون سے ایسے بدبخت ‘ پتھر دل اور درندہ صفت ماں باپ ہوں گے جو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی چند ماہ کی معصوم پھول سی بیٹی کو جان سے ہی مار دیں ۔
یہ اندوہناک واقعہ ثابت کرتاہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی جاہلیت کی رسم آج بھی قائم ہے۔ اس دل لرزہ دینے والے واقعے نے ہر آنکھ اشک بار کر دی ہے۔ ضبط اور صبر کا مظاہرہ کرنے والوں کی آنکھیں بھی نم ہیں۔ معصوم پلوشہ بی بی کی جان لینے کے لئے انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک جرم کا ارتکاب کیا گیا ۔ یہ سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ پتھر دل ماں باپ نے ننھی سی جان کو سرد ترین موسم میں گھر کی پانی والی ٹینکی میں ڈبو کر مار دیا۔ ضلع میانوالی کے تھانہ پرندلی کے علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ اس لئے پیش آیا کہ میاں بیوی دونوں بیٹے کے خواہشمند تھے اس میں دنیا میں آنے والی بیٹی کا کیا قصور تھا یہ تو رب ذوالجلال کی عطا ہے وہ جسے چاہے بیٹا دے ‘ یا بیٹی دے۔ یا بیٹیاں اور بیٹے دونوں ہی عنایت کر دے۔ پھول سی بچی کا نرم و نازک بے جان وجود دیکھ کر ہی کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ کیا ماں باپ اتنے سنگدل اور بے رحم بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنی اولاد کے ہی قاتل بن جائیں۔ ماں باپ تو اولاد کی خوشیوں اور سنہرے مستقبل کے لئے اپنے آرام و سکون اور ضروریات کو بھی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ان کے دل تو چڑیا کی طرح نرم و نازک ہوتے ہیں۔ ان کی اولادیں ان کے لئے سرمایہ حیات ہوتی ہیں۔
ایک زمانے میاں مائیں بیٹی کی پیدائش کے بعد ہی ان کے ہاتھوں پر مہندی رچانے کے خواب دیکھنے لگتی تھیں۔ بیٹی کا جہیز جمع کرنے لگ جاتی تھیں ۔ جس کے لئے باقاعدہ ایک پیٹی مخصوص کر دی جاتی تھی۔ مائوں کو آنگن میں چلتی پھرتی بیٹی سرخ جوڑے میں دکھائی دیتی تھی۔ باپ پہلے سے بھی زیادہ محنت کرتا تھا کہ اس نے کل کو اپنی بیٹی کے ہاتھ بھی پیلے کرنے ہیں نگاہوں میں با ر بار اس جاہل باپ کا مکروہ چہرہ آجاتا ہے جس نے اپنی اجڈ اور سنگدل بیوی کے ساتھ مل کر پھول سی بیٹی کو مسل دیا ہے۔ کیا مائیں ایسی ہوتی ہیں‘ ماں کو تو رب کا دوسرا روپ کہا گیا ہے۔ رسم رواج‘ روایات طرز زندگی اور زمانہ بدل چکا ہے۔ اگر نہیں بدلی تو جاہلانہ سوچ نہیں بدلی۔
حدیث پاک ہے کہ روز محشر کم عمر‘ کمسن اور نوزائیدہ فوت ہو جانے والے بچے ماں باپ کا پلو پکڑ کر انہیں جنت میں لے جائیں گے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پلوشہ بی بی بھی اپنے قاتل ماں باپ کا پلو پکڑ کر انہیں جنت میں لے کر جائے گی۔