Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بھارت: عالمی فسادی

بھارت کو عالمی فسادی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی سرکار نے دنیا بھر میں نام نہاد بھارتی سیکولرزم اور جعلی جمہوریت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عالمی منظر نامے پر گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والے منفی واقعات کے سرے بھارت سے مل رہے ہیں. بنگلہ دیش میں عوامی جذبات بھارت کے مجرمانہ ہتھکنڈوں کے خلاف ابل پڑے ہیں۔ جب سے بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کی دختر حسینہ واجد کی کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے بھارت کی مودی سرکار شدید تلملاہٹ کا شکار ہے۔ نسلی اور لسانی نفرت کی آگ سے دو قومی نظریے کو ختم کرنے کی بھارتی خواہش کئ عشروں سے زائد عرصے بعد بری طرح ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کا جبر بنگلہ دیش کے عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا تھا۔ نوجوان انقلابی بنگالی طالب علموں کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حسینہ واجد کو بھارت فرار ہونا پڑا۔ ایک برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اب تک حسینہ واجد سمیت عوامی لیگ کے بھارتی پٹھو مودی سرکار کی پناہ میں ہیں۔ ڈاکٹر یونس کی قیادت میں بنگلہ دیش کا داخلی استحکام کی جانب سفر بھارت کو برداشت نہیں۔ بنگلہ دیش کی عدالت سے حسینہ واجد کو غیر انسانی جرائم کی پاداش میں دی جانے والی سزائے موت نے عملی طور پر بھارت نواز عوامی لیگ کی بنگلہ دیش کے اقتدار کے ایوانوں میں واپسی کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ یہ سارا معاملہ بھارت کی سرکار ہی نہیں بلکہ سازشیں گھڑنے والے خفیہ اداروں کی بہت بڑی شکست ہے۔ اس شکست کی جلن ختم کرنے کے لیے مودی سرکار نے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے روایتی ہتھکنڈے آزمانا شروع کر دیے ہیں۔ بنگلہ دیشی طالب علم رہنما عثمان ہادی کا بے رحمانہ قتل اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ بھارت کے خفیہ ادارے بنگلہ دیش کو ایک خود مختار ریاست کے طور پر برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ بالخصوص ایک ایسی ریاست جو کہ مضبوط مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ باہمی اعتماد کا رشتہ استوار کرے۔ حسینہ واجد کی پاکستان دشمن اور بھارت نواز حکومت کا تختہ الٹ جانے کے بعد بنگالی عوام کی حمایت سے برسر اقتدار آنے والی عبوری حکومت نے متوازن حکمت عملی اپنائی ہے۔ بنگالی عوام نے پاکستان کی جانب برادرانہ جذبات سے مغلوب ہو کر دست تعاون دراز کیا ۔ پاک بنگلہ دو طرفہ تعلقات کی یہ مثبت اور امید افزا جہت بھارت کی تزویراتی پسپائی ہے۔ ایسے وقت جب کہ بنگلہ دیش نئے الیکشن کے ذریعے داخلی استحکام کی جانب بڑھنے والا ہے تو بھارت نے ان رہنماؤں کو ہدف بنانا شروع کر دیا جو بھارت نواز حسینہ سرکار کے خاتمے کے لیے فعال رہے۔ بنگلہ دیشی عوام بھارت کے ان منافقانہ ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف ہیں۔ بنگلہ دیش کے طول و عرض میں ہونے والے عوامی احتجاج میں مودی سرکار کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ بنگالی عوام کی عدالت میں بھارت کو بنگال دشمن مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسا ہی فیصلہ گزشتہ برس حسینہ واجد کی آمرانہ حکومت کے خلاف بنگالی عوام نے دیا تھا۔ بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں بھارت کی مداخلت کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ غور کیا جائے تو لگ بھگ چھ عشرے گزر جانے کے بعد بھی بھارت بنگلہ دیش کو اپنے زیر تسلط رکھنے کے لیے اس کے اندرونی معاملات میں مجرمانہ دخل اندازی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یہ معاملہ صرف بنگلہ دیش تک م محدود نہیں ہے۔ سری لنکا اور نیپال میں اپنی من مرضی کی حکومتیں قائم کرنے کے لیے بھارت نے متعدد بار سازشوں کے جال بچھائے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتا چلتا آ رہا ہے۔ افغانستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو بھارت تربیت، اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ طالبان کی غیر منتخب حکومت سے بھارت کی نئی ساز باز اور گرم جوشی محض پاکستان دشمنی پر استوار ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور اس کے ذیلی دہشت گرد گروہ بھارت کی شہ پر بلوچستان اور کے پی صوبوں میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا اور نیپال میں شرانگیزی سمیت چین اور پاکستان سے بھارت کے سرحدی تنازعات اور عسکری کشمکش اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ بھارت خطے کے امن کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں سکھوں کے خلاف مجرمانہ اقدامات اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات جھٹلائے نہیں جا سکتے۔ بیرون ملک آر ایس ایس کے شدت پسندوں کے نیٹ ورک اور یورپ میں بھارت کے ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس کی موجودگی برسوں قبل طشت از بام ہو چکی ہے۔ تازہ ثبوت آسٹریلیا سے سامنے آرہے ہیں۔ سڈنی کے بونڈی ساحل پر حملہ کرنے والے بھارتی شہری تھے۔ ان کے داعش سے تعلقات بے نقاب ہو رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں دہشت گرد حملے کے فوری بعد بھارتی اور اسرائیلی میڈیا کی پاکستانی مخالف مہم محض اتفاق نہیں۔ جو حضرات یہود و ہنود کی سازشوں کا ذکر طنزیہ انداز میں کرتے رہے ہیں انہیں اب آنکھیں کھول لینی چاہیے ہیں ۔ بھارت ایک جمہوریہ کے نقاب میں چھپا عالمی فسادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں