Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کا ڈیجیٹل کریک ڈائون

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے شہری آزادیوں پر پابندیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے ضلع ڈوڈہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN)ایپلی کیشنز کا استعمال کرنے پر دو شہریوں کو گرفتارکرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
بھارتی پولیس نے دونوں افراد کے خلاف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے جاری کردہ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام پر الگ الگ مقدمات درج کیے ۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ضلع میں وی پی این ایپلی کیشنز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ تھانہ ڈوڈہ کی پولیس ٹیم نے بگلہ مین بازار میں معمول کی گشت کے دوران ایک شخص کو گرفتارکر لیا جس کی شناخت خالد ابرار بٹ ساکن بگلہ بھارتھ کے طور پر ہوئی۔ پولیس نے دعوی کیا کہ وہ اپنے موبائل فون پر وی پی این ایپلیکیشن استعمال کرتے ہوئے پایا گیا اور اس کی وضاحت فراہم کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس نے ایک اور شہری محمد عرفان کو جو تحصیل چلی کے علاقے ٹنڈلا کا رہائشی ہے، گندوہ کے علاقے میں شالی پل کے قریب وی پی این ایپلیکیشن استعمال کر نے پر گرفتارکیا۔ عرفان کے خلاف پولیس سٹیشن گندوہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ من مانی گرفتاریاں، چھاپے اور طویل نظر بندیاں کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کو دبانے میں ناکامی پر مودی حکومت کی شدید بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہیں۔ کالے قوانین کے استعمال، من گھڑت مقدمات اور منظم انداز میں ہراساں کرنے سمیت بھارتی جبر سے نہ تو کشمیریوں کے عزم کو کمزور اور نہ ہی ان کے آزادی کے مطالبے کو دبایاجاسکاہے بلکہ جابرانہ اقدامات نے بھارت کو مزید بے نقاب کردیا اوربین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی فوری مداخلت کو اجاگرکیا ہے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وی پی این کے استعمال کو جرم بنانے سے ظاہر ہوتاہے کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل آزادیوں کو کس حد تک روک رہی ہے جہاں معلومات اور سوشل میڈیا تک رسائی پر طویل عرصے سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔انہوں نے کہاکہ وی پی اینزپر پابندی اجتماعی سزا کے مترادف ہے اور اس کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا ہے۔
دوسری طرف غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں معلومات کے حق کے کارکن اور جموں و کشمیر پیپلز فورم کے چیئرمین ایم ایم شجاع نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں رہنے والے، تعلیم حاصل کرنے یا کاروبار کرنے والے کشمیریوں کے تحفظ اوراحترام کو یقینی بنائے۔
انہوںنے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری پورے بھارت میں اسی احترام اور دیکھ بھال کے مستحق ہیں جو وہ وادی کشمیرمیں آنے والے سیاحوں اور یاتریوں کو دیتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کشمیریوں نے متعدد مواقع پر مشکل حالات میں سیاحوں اور یاتریوں کو پناہ، خوراک اور تحفظ فراہم کیا ہے، حتی کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ان کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کے برعکس کشمیری طلبا اور تاجروںباالخصوص شال فروشوں کو بھارت میںاکثر تشدد، ہراسانی، پوچھ گچھ اور ٹارگٹڈ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو ہندوانتہا پسند عناصر انجام دیتے ہیں جس سے کشمیریوں میں خوف اور احساس عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ایم ایم شجاع نے بھارتی وزارت داخلہ پر زور دیا کہ وہ موثر اقدامات کرے اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو واضح اور سخت ہدایات جاری کرے تاکہ کشمیری طلبا اور تاجروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت بھر میں کشمیریوں کو بار بار نشانہ بنانا ہندوتوا پر مبنی ماحول میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکامی کشمیری عوام کو مزید الگ تھلک کر دے گی اور بھارت کے جمہوریت، سیکولرازم اور تکثیریت کے دعوئوں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دے گی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ہماچل پردیش، پنجاب اور ہریانہ سمیت متعدد بھارتی ریاستوں میں کشمیری طلبا اور تاجروں کو ہراساں کرنے، تشدد کانشانہ بنانے اور ہاسٹلوں اور کرائے کی رہائش گاہوں سے بے دخل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ روز ہماچل پردیش میں ضلع کانگڑا کے علاقے ڈیرہ میں ہندو انتہا پسندوں نے ایک کشمیری شال فروش جہانگیر احمد پر وحشیانہ حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا، دھمکیاں دیں، اس کے سامان کو تہس نہس کردیا اور اسے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کے لئے کہا۔ جہانگیر احمد جو گزشتہ 15 سال سے علاقے میں پرامن طریقے سے شالیں فروخت کر رہا ہے، شدید زخمی ہوا اور اس وقت ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔اس سے قبل 22دسمبر 2025کو اتراکھنڈ کے ضلع ادھم سنگھ نگر میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک 28سالہ کشمیری شال فروش بلال احمد گنائی پر حملہ کیا اوراسے بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ایک اور واقعے میں کپواڑہ کے ایک 45سالہ شال فروش منور شاہ کو ہماچل پردیش میں دو موٹر سائیکل سوار وں نے روکا اور پوچھ گچھ کی اور اس سے انٹری کارڈ اور آدھار کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح پنجاب کے ضلع جالندھر میں تین موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ایک اور کشمیری شال فروش شفیع کھوجہ کو 18جنوری 2025کو تشدد کا نشانہ بنایا اور چاقو سے وار کیا جس سے ان کے سر پر 12اور ٹانگوں پر چھ ٹانکیں لگیں۔

یہ بھی پڑھیں