(گزشتہ سے پیوستہ)
کچھ بیانیوں کے مطابق مذہبی انتہاپسند عناصرکی شمولیت کے شکوک ظاہرکیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں اخبارات و ثقافتی اداروں پرحملوں کی خبریں آئیں۔یہ صورتحال اس سوال کوپھرسے زندہ کرتی ہے کہ قلم اورثقافت پروارکرنے والے دراصل معاشرے کے کس زاویے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
سول سوسائٹی کی آوازریاست کی سماجی روح ہوتی ہے۔اس روح نے واضح کہاکہ عبوری انتظامیہ امن بحال کرنے میں پسپا دکھائی دی۔ سماج کی یہ آواز محض شکایت نہیں بلکہ اصلاحِ حال کی دعوت بھی ہے۔سول سوسائٹی کی آوازیں پرشکوہ احتجاج میں ڈھل گئیں کہ امن وامان کے قیام میں عبوری انتظامیہ ناکام رہی۔گویاریاست کے ہاتھ میں تھامی ہوئی شمع لرزاں دکھائی دی۔
بین الاقوامی ماہرین نے بجاکہاکہ میڈیا کا کردارآگ بھی بھڑکاسکتاہے اورپانی بھی ڈال سکتا ہے۔اگرخبرتحریربن کرتعصب اوڑھ لے تو معاشرے کی آنکھوں میں دھواں بھردیتی ہے۔ اس لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ اس وقت ناگزیر ہو چکی ہے۔بین الاقوامی محققین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بعض بھارتی ذرائع ابلاغ بنگلہ دیش کی صورتحال کوایسے انداز میں پیش کررہے ہیں جس سے فرقہ وارانہ تاثرگہرا ہو۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اجاگرہوئی کہ بنگلہ دیش کا استحکام خطے کی مجموعی سلامتی سے جڑاہواہے۔
انتخابات بنتے بھی ہیں،بگاڑتے بھی ہیں۔ 12فروری کے انتخابات کی آمدنے سیاسی فضا کو مزیدسنجیدہ بنادیاہے۔عبوری سربراہ کیلئے چیلنج یہی ہے کہ وہ انتخابی مرحلے سے قبل امن واطمینان کی فضا ہموارکرسکیں۔اس لئے12فروری کا انتخاب صرف اقتدارکی تبدیلی نہیں بلکہ استحکام اوربیچینی کے درمیان فیصلہ کن لکیرثابت ہوسکتا ہے۔ عبوری حکومت کا اصل امتحان تشددکی آگ بجھانا اور رائے دہی کیلئے پرامن فضافراہم کرناہے۔
عوامی لیگ کی غیرحاضری نے سیاسی بساط کونئی ترتیب دی ہے۔عوامی لیگ کی عدم شرکت کے باعث بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے امکانات روشن دکھائے دیتے ہیں،البتہ مذہبی سیاسی قوتیں بھی ایک موثرچیلنج کے طورپرسامنے آ سکتی ہیں اورمذہبی سیاسی قوتوں کی متحرک موجودگی سیاسی معاملات کومزیدپیچیدہ بناسکتی ہے۔سیاست کا دریا سیدھی لکیرمیں نہیں بہتا ۔ سیاست کاشطرنجی کھیل اپنے پتے ابھی مکمل طورپرنہیں کھولتاکہ نتائج کسی اور منظرنامے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
بھارت کے پالیسی سازاس صورتحال کو محض بیرونی مسئلہ نہیں،بلکہ داخلی سلامتی سے جڑا معاملہ سمجھ رہے ہیں۔دانادل یہی کہتے ہیں کہ ہمسائے آگ لگنے پرتماشانہیں دیکھتے ،وہ پانی ڈھونڈتے ہیں۔بھارت کے سیاسی ودفاعی حلقوں میں بھی اس صورتِ حال کوبڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھا جارہا ہے۔سابق سفارتکاراس امرپرمتفق ہیں کہ زمینی حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے اعتماد سازی کی نئی بنیادڈالناوقت کی ضرورت ہے کہ پڑوسی دیوار نہیں، سایہ داردرخت ہواکرتے ہیں لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ مودی حکومت سایہ داردرختوں کی نہ صرف کٹائی بلکہ کانٹوں کی افزائش پر عملدرآمدہے۔
انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں،منزل ایک ہی ہونی چاہیے:امن،احترام اورباہمی اعتماد۔الزام تراشی سے سیاسی زمین بنجرہو جاتی ہے؛گفت وشنیدسے اس میں فصل اگتی ہے۔آج کی ضرورت یہی ہے کہ خطے کے رہنمااناکے میناروں سے اترکرعقل اورانصاف کے فرش پربیٹھیں۔بھارت کی جانب سے منتخب حکومت کے ساتھ مکالمے کی بات بھی سامنے آئی ہے ۔اوراسی کے ساتھ یہ تلخ نوٹ بھی سنائی دیتاہے کہ باہمی بداعتمادی کی یہ آگ کسی ایک بیان یافیصلے سے نہیں بجھے گی۔اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ الزامات کی گولہ باری کے بجائے عقل وتدبر،تحمل وبرداشت اورانصاف واعتدال کے چراغ روشن کیے جائیں لیکن صدافسوس کہ مودی سرکارکے تمام اقدامات اس کے برعکس ہیں اورتکبرکی آگ ایک دن سب کچھ بھسم کرکے رکھ دے گی اور دنیاکی بڑی جمہوریت کے دعوے کا قلعہ کھل کرسامنے آجائے گی لیکن تب تک بہت دیرہوچکی ہوگی۔۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ سرحدیں زمین پرکھنچی ہوں یادلوں پرانہیں پارکرنے کا واحد راستہ مکالمہ،انصاف اور باہمی احترام ہے۔بنگلہ دیش اوربھارت کے تعلقات کایہ باب بظاہرابھی بند نظرآرہاہے لیکن قلم چل رہاہے،سیاہی آج بھی گیلی ہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ آنے والی سطریں صلح وآشتی کی خوشبو سے لبریزہوتی ہیں یابدگمانیوں کی گردان پر چھا جاتی ہے۔
یہ تمام واقعات محض خبریں نہیں،تاریخ کے صفحات پرلکھی جانے والی سطورہیں۔آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ سطورآنسوئوں سے لکھی جائیں گی یامسکراہٹوں سے۔اختیار انسان کے ہاتھ میں ہے اورفیصلہ وقت کی عدالت میں محفوظ ہے۔تاریخ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے کھڑی ہے اوروقت اپنی مٹھی میں ایک سوال سنبھالے ہوئے ہے،کیاانسان پھر انسان بنے گا؟بنگلہ دیش ہویا بھارت زمین کے یہ ٹکڑے ہماری آزمائش ہیں، ورنہ اصل سرحدیں تودلوں میں بنتی اورٹوٹتی ہیں۔ معصوم عثمان ہادی اس کے خون کے ہرقطرے نے آسمان تک رسائی پالی ہے اورعدل کے پیمانوں کو پکارا ہے۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے بیشک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔مگرہم نے اس بھائی چارے کو سیاسی نعروں کے ہجوم میں کہیں گم کردیا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران ہوں یاعوام، دانشورہوں یارہنماسب اپنے گریبانوں میں جھانکیں اوریہ عہد دوبارہ تازہ کریں کہ ظلم کسی قسم کاہو،کسی رنگ کاہو،اورکسی سرحدکے اندرہوہم اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔اپنے دل پرہاتھ رکھ کریہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے عثمان ہادی کواپنابھائی سمجھا،اپنے جسم کا حصہ سمجھا توپھراس کے ناحق قتل پرہم نے بطور ریاست پاکستان کس قدراحتجاج کیا؟
ہمیں یہ سمجھناہوگاکہ سفارتی تعلقات کی بحالی سے پہلے قلوب کی مرمت ضروری ہے۔ نفرت کے خیمے اکھاڑکرانصاف کے خیمے نصب کرنا ہوں گے۔سیاست کوانتقام کی بجائے خدمت کالبادہ اوڑھناہوگالیکن جب تک پڑوس میں متعصب ہندتواآر ایس ایس کے نمائندے مودی کی حکومت ہے، اس خطے میں امن کاحصول محض ایک خواب بنتاجارہاہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ امت مسلمہ کے تمام پلیٹ فارمزپرمتحد ہوکراس خطرے کی نشاندہی کرکے متعصب ہندوتوا کو نکیل ڈالی جائے۔
دعا یہی ہے کہ اے ربِ کائنات!
جن دلوں میں نفرت نے بسیراکیاہے وہاں محبت اتاردے،جہاں ناانصافی نے ڈیرے ڈالے ہیں وہاں عدل کاسورج طلوع کر، اس خطے کے مسلمانوں کووہ بصیرت عطافرماکہ وہ تفرقے کی راہوں سے نکل کراخوت اورایمان کی شاہراہ پر آجائیں۔آخرکار فیصلہ سیاست دانوں کا نہیں،ضمیر اور اللہ کی عدالت کا ہے۔