قوموں کی تاریخ میں بعض سال محض کیلنڈر کے اوراق نہیں ہوتے، وہ اجتماعی شعور کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ 2025 ء پاکستان کے لیے بھی ایسا ہی سال رہا ایک ایسا سال جس میں سیاست کی گرد، معیشت کی تپش اور سماج کی خاموش چیخیں ایک ساتھ سنائی دیتی رہیں۔ یہ سال کسی انقلاب کا سال نہ تھا، مگر کسی سکون کی نوید بھی نہ لا سکا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست، معاشرہ اور فرد،تینوں ایک نادیدہ دبا میں سانس لتے رہے جمہوریت معلق، سیاست منقسم ،معیشت تہہ وبالا۔2025 ء کی پاکستانی سیاست کا بنیادی وصف عدم استحکام رہا۔ انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی سیاسی ترتیب نہ تو عوامی اعتماد مکمل طور پر حاصل کر سکی، نہ ہی ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا ہو سکی۔اقتدار کے ایوانوں میں سیاسی اخلاقیات ایک بار پھر کمزور دکھائی دیں۔ پارلیمان قانون سازی سے زیادہ سیاسی کشمکش کا میدان بنی رہی۔ اپوزیشن احتجاج اور بیانیے کی جنگ سے باہر نکلی،حکومت انتظامی بقا اور معاشی مجبوریوں کے درمیان پھنسی رہیجمہوریت اپنی روح کے بجائے اپنی ساخت میں موجود دکھائی دی ۔انتخابات تھے، مگر اعتماد نہیں، ادارے تھے، مگر توازن نہیں۔ادارہ جاتی سیاست کا سانپ ہر پر شوکتا دکھائی دیا۔
2025 ء میں ایک بار پھر یہ سوال گونجتا رہا،کیا پاکستان میں سیاست اداروں کے تابع ہے یا ادارے سیاست کے؟یہ ابہام نہ صرف سیاسی فیصلوں کو کمزور کرتا رہا بلکہ عوام کے جمہوری شعور میں بھی بدگمانیاں پیدا کرتا رہا۔معاشی صورتحال بقا کے احساس میں گھائل رہی۔ اگر 2025 کی معیشت کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ لفظ ہوگا: ’’سروائیول‘‘ (Survival)مہنگائی کا پہاڑ اس برس بھی سر نہ ہو سکا، اشیائے خور و نوش عوام کی دسترس سے دور ہوتی رہیں،متوسط طبقہ غربت کی لکیر کے نیچے پھسلتا رہا،تنخواہ دار طبقے کو سب سے بڑھ کر پیسا جاتا رہا۔ریاستی بیانیہ اعداد و شمار کی کرشمہ سازیاں دکھاتا رہا، مگر باورچی خانے کی معیشت کسی اور کہانی کی گواہ تھی۔ آئی ایم ایف ہماری خودمختاریپر مسلسل کوڑے برساتی رہی۔ 2025 ء میں ملکی کی معیشت عملی طور پر آئی ایم ایف کی شرائط کے گرد گھومتی رہی۔سبسڈیز کا خاتمہ،توانائی کی قیمتوں میں ہوش ربااضافہ،ٹیکس نیٹ کا دبائو (لیکن طاقتور طبقات مستثنیٰ) یوں معاشی پالیسی عوامی مفاد کے بجائے قرض کی بقا سے مشروط دکھائی دی۔ترقی کا پہیہ چل رہا ہے ،یا جامد ہے ،یہ سوال شدت سے ذہنوں میں گردش کرتا رہا،اور یہ سوال بھی کہ کیا ہم معیشت چلا رہے ہیں یا صرف اسے گرنے سے روک رہے ہیں؟سماجی صورتحال میں دہشت گردی نے خاموش بحران پیدا کئے رکھا ۔ 2025 ء کا سب سے تشویش ناک پہلو سماجی ٹوٹ پھوٹ رہا، جو سرکاری حلقوں میں بظاہر کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا مگر اندر ہی اندر شدت پکڑتا رہا۔بیروزگاری نوجوانوں کے میں مایوسی کا زہر گھولتی رہی۔تعلیم کا غیر یقینی مستقبل نوجوانوں کے رگ و پے میں شور مچاتا رہا،نوجوان جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، 2025ء میں خود کو غیر متعلق (Irrelevant)محسوس کرتے رہے۔طبقاتی خلیج مزید گہری ہوتی رہی۔مذہبی، لسانی منافرتیں جوں کی توں پلتی رہیں اور نظریاتی تقسیم نمایاں رہی۔سوشل میڈیا نے مکالمے کے بجائے محاذ آرائی کو حرز جاں بنائے رکھا،سماج ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے پر آوازے کستا رہا۔2025 ء میں عورت کے حقوق بحث میں تو رہے، توجہ میں کم دکھائی دیئے۔ اقلیتوں کا تحفظ بیانیہ تو بنا، مگر پالیسی نہ بن سکا۔کمزور طبقات ریاستی ترجیحات میں آخر میں رہے۔ریاست، سماج اور مستقبل ایک سوالیہ نشان بنے رہے۔2025 میں بھی پاکستان کو کوئی حتمی سمت نہ دی، مگر کئی سوال ضرور کھڑے کئے گئے ۔مثلاًکیا سیاست عوامی خدمت کا ذریعہ بن سکے گی؟کیا معیشت قرض کے سہارے سے نکل پائے گی؟کیا سماج اختلاف کے باوجود مکالمہ سیکھ سکے گا؟یہ سال ہمیں یہ بتا گیا کہ مسئلہ صرف حکمران نہیں، نظام بھی ہے اور نظام کی اصلاح محض نعروں سے نہیں، اجتماعی شعور سے ہوتی ہے۔
پاکستان 2025 ء میں ٹوٹا نہیں، مگر تھکا ضرور۔ یہ ایک ایسا سال تھا جو ہمیں یہ یاد دلا گیا کہ قومیں صرف بحرانوں سے نہیں، انکار سے بھی تباہ ہوتی ہیں اور امید صرف اسی وقت جنم لیتی ہے جب سچ کا سامنا کیا جائے۔ مجموعی طور پر سال گزشتہ انہیں نادانیوں ،سیاسی نکتہ سنجیوں اور سماجی ناہمواریوں کی سان پر چڑھ گیا ۔ کوئی تو ایسا ہو جو گزرتے ہوئے مہ وسال کو ملک و قوم کے لئے نوید جاںفزا بنانے کی سعی کرنے والا ہو،ملک پاکستان کو دنیا میں کسی مثال کے قابل بنانے والا ہو ۔ سیاست کاروں کو تو فرصت نہیں ہے ،دانشور اور اہل علم ہی اس ملک کو کسی کی آنکھ کا تارابنانے کی کوشش ہی کر کے دکھادیں ۔کاش نیا سال ہماری امیدوں کا سہارا ثبت ہو ،ہماریروشن مستقبل کا استعارہ بن جائے۔اہل پاکستان کو نیا سال مبارک۔