جان ہے تو جہان ہے۔ سینکڑوں بار یہ محاورہ سن چکے ہیں بلاشبہ جان کے ساتھ ہی جہان ہے۔ لیکن شعبہ صحت کی زبوں حالی اور یتیمی کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ نہ‘ جان کی کوئی چس رہی ہے اور نہ ہی جہان کا سواد۔ جان میں جان اس لئے بھی نہیں رہی کہ خدانخواستہ اگر کوئی جان کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اسے جسمانی تکلیف کے علاوہ مالی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتاہے۔
صاحب ثروت جسے امیر طبقہ بھی کہا جاتاہے وہ تو مہنگا علاج برداشت کرلیتاہے لیکن متوسط ملازم پیشہ اور دیہاڑی دار مزدور کے لئے بیماری حتی کہ موسمی بخار بھی کسی کڑی آزمائش سے کم نہیں ہوتا‘ جس پر اسے چاروناچار سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرناپڑتا ہے۔ جہاں پر اس کی عزت نفس اس طرح پامال کی جاتی ہے جیسے تھانے میں پولیس کسی مجرم کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ سارے دن کی خواری‘ عملے کی جھڑکیاں اور ڈاکٹروں کا نخریلا رویہ برداشت کرنے کے بعد اس کے ہاتھ میں چند ادویات ہی آتی ہیں اگر معاملہ یہاں تک ہی رہتا تو شاید مریض ہسپتال کے تکلیف دہ مراحل فراموش کر دیتا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو جو ادویات دی جاتی ہیں مبینہ و ہ انتہائی غیر معیاری اور اکثر ایکسپائر ہوتی ہیں جنہیں استعمال کرکے مریض شفا کے بجائے ہسپتال سے صحت کی خرابی کا مزید سامان لے کر تا ہے۔ غیر معیاری اد ویات کا گندہ دھندہ عام سی بات ہے۔ ان ادویات کو عرف عام میں دونمبر دوائی بھی کہا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بات اب دونمبر سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود مختصر سے عرصے میں ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ‘ عام آدمی کے لئے کسی ناگہانی مصیبت سے نہیں ہے۔ نہ کوئی روکنے ٹوکنے والا اور نہ کوئی پوچھنے والا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ روکنے ٹوکنے اور پوچھنے والوں کے بھی آنکھیں اور کان بند کرلیے ہیں۔
یوں تو ملک کے چاروں صوبوں بشمول وفاقی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ راولپنڈی پنجاب کا ایک اہم اور قابل ذکر شہر ہے جس کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار سے شہری سخت بیزار ہیں۔ یہاں کے بڑے ہسپتالوں میں بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال‘ ہولی فیملی ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شامل ہیں۔ شائد ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس دن ان ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور عملے کے ساتھ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ لڑائی جھگڑے کا واقع رونما نہ ہوتا ہو۔ بے نظیر بھٹو شہید ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر میز پر ٹانگیں پسارے ہوئے مریض کا ایکسرے دیکھنے کے علاوہ اس سے کرخت لہجے میں بیماری کی تفصیل بھی پوچھ رہا ہے۔ یہ منظر‘ منظر عام پر آچکا ہے۔ یہی وہ اسباب ہیں کہ جن کے باعث مجبور ہوکر مریض ڈاکٹروں کے پرائیویٹ کلینکوں کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں انہیں ہزاروں روپے کا جھٹکا دیا جاتا ہے اور انہیں ہلکی اور اکثر خالی جیب بھی گھر واپس آنا پڑتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کے استعمال کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ راولپنڈی کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے سینئر ڈاکٹر نے ایک نجی محفل میں انکشاف کیا کہ انہوں نے وارڈ کے رائونڈ کے دوران ایک مریض کو دی جانے والی ادویات جب چیک کیں تو انہیں اندازہ ہوا کہ مریض کو دی جانے والی ادویات بالخصوص اینٹی بائیوٹک غیر معیاری ہے جس پر انہوں نے اپنے جونیئر ڈاکٹر کو کہا کہ اس اینٹی بائیوٹک سے تو مریض کے انفکیشن میں مزید اضافہ ہوگا جس پر جونیئر ڈ اکٹر نے کہا کہ سر ہم کیا کرسکتے ہیں ہسپتال میں جو دوائی ہوگی ہم وہی مریضوں کو دیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے یہ احکامات ہیں کہ سرکاری ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو تمام ادویات ہسپتال سے ہی دی جائیں۔ لیکن اس حکم کے ساتھ انہیں یہ بھی شامل کرنا چاہیے کہ مریضوں کو دی جانے والی ا دویات معیاری ہوں۔
ان کے یہ احکامات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ دوران ڈیوٹی ڈاکٹر اور دیگر عملہ موبائل فون استعمال نہیںکرسکیں گے‘ علاوہ ازیں ہسپتالوں کے سیکورٹی گارڈز‘ وارڈ بوائے‘ نرسوں اور فارمیسی سٹاف کو باڈی کیم لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے توقع ہے کہ ان اقدامات سے صورتحال میں بہتری آئے گی۔ ورنہ اب تک تو محکمہ صحت کی اپنی صحت ہی خراب دکھائی دے رہی ہے۔ اگر محکمہ صحت کی صحت ٹھیک ہوتی تو ہولی فیملی ہسپتال کے ڈاکٹر اور عملہ زندہ نومولود بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہ کرتے‘ یہ تو بچے کی زندگی تھی کہ وہ والدین کی وجہ سے بچ گیا ہے کیونکہ عملے نے جب بچے کو والدین کے حوالے کیا تو انہیں انداز ہوا کہ بچے کی سانسیں چل رہی ہیں۔ انہوں نے بلاتاخیر عملے کو بتایا اور بچے کو وینٹی لینٹر پر ڈ ال دیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ ہمارے ہاں یہ روایت رہی ہے کہ جس واقعے پر مٹی ڈالنی ہو اس پر کمیٹی قائم کر دی جاتی ہے۔ لیکن یہ کمیٹی کبھی کسی نے نکلتے ہوئے نہیں دیکھی۔ رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وہ گھروں اور ہسپتالوں میں تما م مریضوں کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا کرے۔ آمین