Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ادارہ معارفِ القرآن میں مسابقہ حفظ القرآن

یہ دور مقابلوں کا دور ہے۔ دنیا کے ہر گوشے میں انسان اپنی صلاحیتیں دکھانے کے لئے کسی نہ کسی میدان کا انتخاب کرتا ہے۔ یورپ اور مغرب کی بڑی جامعات میں اگر نظر دوڑائی جائے تو وہاں نوجوانوں کی توانائیاں اکثر موسیقی، گانوں، رقص اور تفریحی مقابلوں میں صرف ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ یونیورسٹی کیمپس میں ڈانس کمپیٹیشنز، میوزک فیسٹیولز اور پرفارمنس آرٹس کو کامیابی، آزادی اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان مقابلوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں، اسپانسرشپ ملتی ہے اور میڈیا انہیں بھرپور انداز میں اجاگر کرتا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ یورپ کی یہی تہذیب اور فرسودہ کلچر اج پاکستان کی تعلیم گاہوں میں رواج پا چکا ہے، یہاں بھی حکومتی سطح پر اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گانوں اور رقص و سرود کے مقابلے کروائے جاتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان سرگرمیوں کا انسانی کردار، اخلاق اور روحانی تعمیر پر کیا اثر پڑتا ہے؟اس کے برعکس اگر ہم اپنے معاشرے کے دینی اداروں اور مدارس کی طرف دیکھیں تو ایک بالکل مختلف منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں مقابلے بھی ہیں، جذبہ بھی ہے، محنت بھی ہے اور انعامات بھی، مگر مرکز و محور قرآنِ کریم ہوتا ہے۔ یہاں آواز کی خوبصورتی سے زیادہ تجوید کی درستگی، یادداشت کی مضبوطی اور ادبِ قرآن کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں داد بھی ملتی ہے اور انعام بھی، لیکن اصل کامیابی اللہ کے کلام کو سینے میں محفوظ کرنا اور اس پر عمل کے عزم کو تازہ کرنا ہوتا ہے۔
ہفتہ کی رات ادارہ معارف القرآن کراچی میں منعقد ہونے والا مسابق حفظ القرآن الکریم اسی روشن روایت کی ایک خوبصورت مثال تھا۔ اس بابرکت محفل میں بارہ طلبہ نے حصہ لیا۔ کم سن حفاظ نے جس اعتماد، اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ قرآنِ کریم سنایا، وہ واقعی قابلِ دید اور قابل داد تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ بچے صرف حافظ نہیں، بلکہ قرآن کے سچے سفیر ہیں، جن کے سینوں میں اللہ کا کلام محفوظ ہے اور جن کی زبانوں سے نکلنے والی آیات دلوں کو منور کر رہی ہیں۔اس مسابقے کی ایک اور قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ پانچ طلبہ کو نمایاں کارکردگی پر پوزیشنز عطا کی گئیں۔ ان پوزیشن ہولڈرز کم سن طلبا میں لاکھوں روپے کے انعامات بھی تقسیم کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ دینی تعلیم اور قرآنی خدمات کو بھی عزت، وقار اور عملی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ یہ تاثر کہ مدارس میں صرف سادگی اور تنگی ہوتی ہے، اب تیزی سے بدل رہا ہے۔ آج کے یہ مقابلے واضح پیغام دیتے ہیں کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد بلند ہو تو وسائل بھی خود راستہ بنا لیتے ہیں۔ان مسابقات کے بانی مولانا عبدالوحید کشمیری کی خدمات کا ذکر کیے بغیر یہ تحریر مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے انتھک محنت، خلوص اور مستقل مزاجی کے ساتھ کراچی جیسے مصروف اور رنگا رنگ شہر میں قرآن کی صدائوں کو عام کیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں ہر طرف دنیاوی مصروفیات اور تفریح کے بے شمار ذرائع موجود ہوں، وہاں بچوں اور نوجوانوں کو قرآن سے جوڑنا ایک عظیم جدوجہد ہے۔ مولانا عبدالوحید کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ اگر نیت اللہ کے لیے ہو تو تھوڑے وسائل سے بھی بڑے کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔
مسابقے میں شریک بچوں کا اعتماد اس بات کا ثبوت تھا کہ ادارہ معارف القرآن صرف حفظ نہیں کرواتا بلکہ بچوں کی شخصیت سازی پر بھی توجہ دیتا ہے۔ اسٹیج پر بیٹھ کر مجمع کے سامنے قرآن سنانا معمولی بات نہیں، خاص طور پر کم عمری میں۔ لیکن ان بچوں کے چہروں پر خوف کے بجائے اطمینان تھا، زبان پر روانی تھی اور لہجے میں ادب۔ یہ سب اساتذہ کی محنت، والدین کی دعاں اور ادارے کے منظم نظام کا نتیجہ ہے۔اگر ہم مغرب کے مقابلوں اور ہمارے قرآنی مسابقات کا تقابل کریں تو فرق بالکل واضح ہے۔ وہاں وقتی تفریح، جسمانی حرکت اور لمحاتی داد اصل ہدف ہوتی ہے، جب کہ یہاں دائمی اجر، روحانی بالیدگی اور اخلاقی تربیت مقصد بنتی ہے۔ وہاں اسٹیج کی چکاچوند چند گھنٹوں بعد ختم ہو جاتی ہے، مگر یہاں قرآن کی روشنی زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس میں ہونے والے یہ مقابلے محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک پیغام ہوتے ہیں، پیغام اس بات کا کہ ہماری اصل پہچان قرآن سے وابستگی میں ہے۔
لاکھوں روپے کے انعامات کی تقسیم بھی ایک اہم پہلو ہے۔ یہ انعامات نہ صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بلکہ معاشرے کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کی قدر کی جاتی ہے۔ اگر دنیاوی مقابلوں میں کامیابی پر بڑے انعامات دئیے جا سکتے ہیں تو قرآن کے خادموں کے لیے بھی کشادہ دلی کیوں نہ دکھائی جائے؟ دراصل یہی توازن ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔اس خاکسار کا یہ لکھنا بے جا نہ ہوگا کہ ادارہ معارف القرآن کراچی میں ہونے والا ’’مسابق حفظ القرآن‘‘ صرف ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی تحریک کا حصہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری نئی نسل کو کس سمت میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط کردار، صاف دل اور روشن فکر کے حامل ہوں تو ہمیں ایسے ہی قرآنی مقابلوں، محفلوں اور اداروں کی سرپرستی کرنی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں شور و غوغا سے نکال کر سکون، مقصدیت اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں