پرنٹ میڈیا کے بعد پچھلی ایک دہائی سے الیکٹرانک میڈیا کے اثرات،عوام و الناس پر بہت گہرے،مثبت اور شاید منفی بھی ہیں۔یقینی طور پراخبار میں لکھے گئے اور ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں۔اب یہ پڑھنے اور دیکھنے والوں پر منحصر ہے کہ اس سے کیا اثرات لیتے ہیں۔زمانہ حاضر میں میڈیا ہی ہے جو پوری دنیا کو مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔اس کے توسط سے لوگوں تک اہم اور عام معلومات بہم پہنچائی جاتی ہیں۔ماضی بعید میں لوگوں تک خبریں پہنچانے کا واحد ذریعہ ریڈیو اور اخبار تھے۔جن کے توسط سے لوگوں کو خبروں تک رسائی حاصل ہوتی تھی۔تاہم یہ مفصل آگہی کا ذریعہ پھر بھی نہیں بن پاتے تھے۔وجہ ایک ہی تھی کہ ان کے پاس خبروں کی ترسیل کے محدود ذرائع اور وسائل ہوتے تھے۔پھر وقت بدلا سائنس جدید دور میں داخل ہوئی تو ریڈیو اور اخبارات کی جگہ ٹیلی ویژن اور موبائل نے لے لی۔جن کے ذریعے بروقت خبر سے آگاہی حاصل ہونے لگی اور اب بھی ہو رہی ہے۔سوشل میڈیا نے تو انقلاب برپا کر کے رکھ دیا۔ہر شخص کے ہاتھ میں اب موبائل ہے جس سے وہ روزانہ کی بنیاد پر ہر طرح کی معلومات آسانی سے حاصل کر لیتا ہے۔زندگی میں ٹی وی چینلز نے آج بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے۔بریکنگ نیوز سے لے کر معمول کے دیگر واقعات کی براہ راست ٹیلی کاسٹنگ،سیاسی و غیر سیاسی پریس کانفرنسز،ان سب سے لوگوں کو بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے۔زمانہ حاضر میں میڈیا قوموں کے عروج اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔جن ممالک میں میڈیا ذمہ داری کے ساتھ اپنی اس طاقت کو مثبت انداز میں ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے استعمال میں لاتا ہے وہاں باہمی رواداری اور اپنائیت دکھائی دیتی ہے۔گویا میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔میڈیا حکومت پر ایک نگران کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔اس کے اعمال کی نگرانی اپنا فرض اور ذمہ داری سمجھتا ہے۔حکومت کے کسی بھی غلط کام یا طاقت کے غلط استعمال پر اسے جوابدہ ٹھہراتا ہے جس سے احتساب کی راہ ہموار ہوتی ہے۔لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے میں بھی میڈیاکااہم کردار ہے جس کی نفی نہیں کی جاسکتی۔جس طرح انسان اور انسانی معاشرے کی بقا اپنی ذات اور دوسروں پر ظلم سے احتراز،قوانینِ فطرت کی پابندی،عدل و انصاف توازن اور اعتدال کے اصولوں پر کاربند رہنے میں ہے۔اسی طرح فرد اور معاشرے کے ارتقا،نشوونما اور تعمیر و ترقی کا انحصار بنیادی طور پر علم،معلومات و اطلاعات اور سوچ بچارکی صلاحیت اورپھراس علم وصلاحیت کو بروئے کار لانے میں ہے۔جس طرح ظلم، تخریب،انتشار، انحطاط،اداروں اور افراد کی ٹوٹ پھوٹ اور بربادی کا باعث ہے۔اسی طرح جہالت،پسماندگی،ذہنی افلاس،تنزل اور قوت عمل سے محرومی بھی اس کی بڑی وجہ ہے جس کے لیے علم اور خواندگی انتہائی ضروری ہے۔ماہرین خواندگی کی تعریف اب نئے سرے سے متعین کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے چند جملے یا الفاظ پڑھ لینا اور چند حروف لکھ لینا خواندہ ہونے کے لیئے کافی نہیں بلکہ خواندگی کا بنیادی عنصر یہ ہے کہ انسان کسی بھی معاملے پر غور و فکر کر کے ناصرف اپنے مسائل کا تجزیہ کر سکے بلکہ اس تجزیے کی بنیاد پر تمام تر مسائل کے حل تک پہنچ سکے۔گویا غور و فکر کی صلاحیت اور دانش،کمیونیکیشن سے ہی بہتر طور پر حاصل کی جا سکتی ہے۔جس کا بڑا اور مضبوط ذریعہ کتاب،اخبارات اور ٹی وی چینلز ہیں۔تسلیم شدہ امر ہے کہ ذرائع ابلاغ سے دماغ روشن ہوتے ہیں۔خیالات کوجِلا ملتی ہے۔
ریڈیو کی بات کریں تو اسے صوتی یا سمعی ذرائع ابلاغ کہا جاتا ہےجو آواز سے سننے والے کو اپنی طرف راغب اور مسحور کرتا ہے۔موجودہ صدی میں الیکٹرانک میڈیا کا آغاز ریڈیو ہی کی نشریات سے ہوا۔الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی اہمیت بھی اب بہت زیادہ ہو گئی ہےکیونکہ یہ رابطے،معلومات کی تیزتر ترسیل،کاروبارکےفروغ اور سماجی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہےلیکن اس کے استعمال پر بہت سارے سوالات اور ابہام ہیں۔اس کے درست استعمال ہی سے کئی طرح کے نفسیاتی مسائل سے بچاجا سکتا ہے۔اس کے لیئے توازن اورذمہ داری اہم اورضروری ہے۔عصرِحاضرمیں جہاں انسان نے اپنی قابلیت و استعداد کے جوہرمتعدد شعبہ ہائے زندگی میں دکھائے ہیں وہاں میڈیا کا کردار،ذرائع ابلاغ میں بڑا اہم ہےاور 21 ویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کے لیے یہ اہم موضوع بھی۔جو باتیں قومی مفاد کے منافی ہوں انہیں ہرگز ذرائع ابلاغ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔منفی مقاصد کے لیے اس کا استعمال ملک و قوم کے مفاد کے منافی ہے۔سوشل میڈیا کا کردار اب ہماری زندگی میں بہت بڑھ گیا ہے اور یہ دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔یہ ایک طرف لوگوں کو جوڑے رکھتا ہے۔فوری معلومات فراہم کرتا ہے۔سماجی رابطے بڑھاتا ہے تو دوسری طرف یہ دماغی صحت پر بھی منفی اثرات ڈال رہا ہے۔اس سے نیند میں خلل پڑتا ہے۔بے آرامی ہوتی ہے جس سے اگلے دن روزمرہ کے کام متاثر ہونے لگتے ہیں۔سوشل میڈیا پر سائبر بدمعاشی بھی ہو رہی ہے۔جس پر قدغن لگانابےحد ضروری ہو گیا ہے۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں آئے روز ہراسانی کی جتنی شکایات درج ہوتی ہیں اس کے اعداد و شمار بڑے ہوشربا ہیں۔ارباب اختیار کو اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ہم تو یاددہانی کراتے رہتے ہیں۔اکثر لکھتے بھی ہیں تاہم نوٹس لینے کا عمل قریبا ناپید ہے۔