لو پھر بسنت آئی… اہلیان لاہور چھ، سات، آٹھ فروری کو پچیس برس بعد بسنت منائیں گے۔ فریحہ پرویز کا ’’ لگا پیچا تو مچ گیا شور، کہ دل ہوا بوکاٹا‘‘ پتنگ بازوں کے جوش و خروش میں اضافہ کرے گا۔ نیلے آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں اپنے رنگ بکھیریں گی۔ شہر بھر اور گھروں کی چھتوں پر میلے کا سا سماں ہوگا پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی پتنگ بازی کے شوقین جوق درجوق لاہور پہنچیں گے۔ جن کی روایتی کھانوں سے خاطر تواضع کی جائے گی۔ طویل عرصے بعد بسنت کی اجازت ملنے پر لاہور ئیے اس طرح خوش ہو رہے ہیں۔ جیسے ان کی لاٹری لگ گئی ہو صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کے مطابق بسنت کی خوشیاں واپس آرہی ہیں کیونکہ یہ ایک ثقافتی تہوار ہے جبکہ مذہبی اور سنجیدہ حلقے بسنت کو ہمیشہ ہندوانہ رسم قرار دیتے رہے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ پتنگ بازی کی ابتداء چین سے ہوئی تھی۔ لاہوریوں کی زندہ دلی ملک بھر میں مشہور ہے ایک زمانے میں جب میلوں ٹھیلوں کا رواج عام تھا تو شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جس میں لاہور کے کسی علاقے میں میلہ نہ لگا ہو۔ اس وقت یہ محاورہ بھی عام سنا جاتا تھا کہ ست دیہاڑے تے آٹھ میلے۔ گھر جاہیے کہیڑے ویلے۔
صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کے اس موقف کو اگر تسلیم کر بھی لیا جائے کہ بسنت سے خوشیاں واپس آرہی ہیں تو پھر اتنا طویل عرصہ لاہوریو ں کو خوشیوں سے کیوں محروم رکھا گیا۔ اگر پتنگ بازی سے ہی خوشیاں واپس لانی ہیں تو پنجاب کے دیگر شہروں کو بھی خوشیاں لوٹائی جائیں بسنت منا کر پتنگ باز تو خوش ہوتے ہیں لیکن کئی گھرانوں کی خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔ اندھا دھند فائرنگ اور تیز دھاتی ڈور کئی ہلاکتوں اور گہرے زخموں کا باعث بنتی رہی ہیں۔ آئندہ ماہ بسنت کے حوالے سے لاہور کی مقامی انتظامیہ نے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے جس کے مطابق دھاتی ڈور، ہوائی فائرنگ اور بلند آواز میوزک پر پابندی ہوگی۔ لیکن شاید ان پابندیوں پر عملدرآمد کرانا اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ لاہور، لاہور اے، لاہوریوں کے لئے ایسے موقعوں پر جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ماضی میں بھی لاہور میں بسنت کا تہوار انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔ تب ایک دوبار اتفاقاً بسنت کے تہوار میں شرکت کا موقع ملا۔ جسے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ گڈیاں اڑانا جیسے کوئی ثواب کا کام ہو۔ بچے نوجوان بزرگ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ حتیٰ کہ خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ بسنت کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی تھیں۔ پتنگ بازی کے ساتھ کھابے بھی لازم و ملزوم ہیں۔ باربی کیو، پلائو، بریانی اور زردہ بھی مینیو میں شامل ہوتے ہیں۔
لاہور میں بسنت کی تیاریاں بام عروج پر ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس حکام شہریوں کو مسلسل ضابطہ اخلاق اور قانون کی پابندی کرنے کے احکامات اور ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ پتنگوں اور ڈور کی خرید و فروخت کا باقاعدہ آغاز یکم فروری سے ہوگا۔ چرخی اور دھاتی ڈور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پتنگ اڑانے کے لئے چرخی کے بجائے ’’پنا‘‘ استعمال کیا جائے گا۔ لاہور شہر کو تین زون میں تقسیم کر د یا گیا ہے جس میں اندرون لاہور کو، ریڈ زون قرار دیا گیا ہے سیفٹی وائر کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بسنت کے تہوار کو یادگار بنانے کے لئے مفت ٹرانسپورٹ بھی شہریوں کو فراہم کی جائے گی۔ علاوہ ازیں صرف انتظامیہ سے منظور شدہ پتنگ فروش ہی پتنگ بازی کا سامان فروخت کر سکیں گے۔ پتنگ اور ڈور کا سائز بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ جس سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پتنگ بازوں کے جوش و خروش میں اضافہ کرنے کے لئے معروف گلوکاروں کی بکنگ بھی جاری ہے جو لاکھوں روپیہ معاوضہ طلب کر رہے ہیں، بلند و بالا عمارتوں کے مالکان کی بھی قسمت جاگ اٹھی ہے جو تین دن کی بکنگ کئی کئی لاکھ روپے کی کر رہے ہیں۔ دبئی سے آئے ہوئے پتنگ بازی کے شوقین ایک بندے نے گلشن راوی کی سب سے اونچی چھت صرف تین دن کے لئے پانچ لاکھ روپے میں بک کرلی ہے۔
اندرون لاہور کے پرجوش شہریوں سے، بندے کا پتر بن کر رہنے کا بیان حلفی بھی لیا جارہا ہے۔ بسنت کا تہوار تین دن مسلسل چوبیس، چوبیس گھنٹے جاری رہے گا جس کی نگرانی آٹھ ہزار کی نفری کرے گی جس میں افسران، اہلکار اور لیڈی پولیس بھی شامل ہے۔ اگر لاہور میں بسنت کا یہ تجربہ کامیاب رہا تو اسے دیگر شہروں میں بھی منانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ یہاں پر ایک نہیں کئی سوال جنم لے رہے ہیں کہ اگر پچیس برسوں تک لاہوریوں نے بسنت نہیں منائی تو کیا اس دوران ان کی صحت خراب رہی ہے یا ان کا کھانا ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ جو کام کئی برسوں تک غیر قانونی رہا وہ اچانک تین دنوں کے لئے صرف ایک ہی شہر کے لئے قانونی کیسے ہوگیا۔ لاہوریوں کو تو بسنت منانے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن دیگر شہروں میں پتنگ فروشوں اور پتنگ اڑانے والوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں پولیس ’’برآمد کی گئی پتنگوں، ڈور اور پتنگ بازوں کے ساتھ فخریہ انداز میں فوٹو بنوا کر میڈیا کو جاری کر رہی ہے اور اسی آڑ میں جو دیہاڑیاں لگا رہی ہے وہ اس کے علاوہ ہیں۔‘‘
لاہور میں بسنت کے تہوار پر کروڑوں یا شاید اربوں روپے کا سرمایہ پھونکا جائے گا۔ تین دنوں میں سرکاری غیر سرکاری اور کاروباری نظام معطل رہے گا۔ تعلیمی اداروں میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ ایسے موقعوں پر قابل اعتراض سرگرمیاں نہ ہوں ایسا نہیں ہوسکتا۔ اتنی کیا آفت آپڑی تھی کہ صرف لاہور میں ہی بسنت کا تہوار منانا ضروری ہوگیا تھا۔ اس سے وقت اور سرمائے کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اگر خدانخواستہ اس دوران کوئی جان چلی گئی یا کوئی شہری شدید زخمی ہوگیا تو اس کے لئے کسے مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ دعا ہے کہ بسنت صرف، بسنت ہی رہے کہیں یہ …انت… میں تبدیل نہ ہو جائے۔